ذرائع ابلاغ اور سرمایہ دارانہ نظام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کیا آپ کو کبھی ٹیلی ویژن پر کسی ایسی چیز کا اشتہار دیکھ کر اسے خریدنے کی طلب ہوئی ہے جو آپ کی فوری ضرورت کی چیز نہ ہو؟ اگر ایسا ہوا ہے تو آپ بھی ذرائع ابلاغ کے نفسیاتی اثرات کا شکار ہو چکے ہیں۔

صنعتی انقلاب کے بعد اشیاءکی پیداوار میں کئی گنا اضافہ تو ہوا لیکن وہیں سرمایہ داروں کویہ مشکل بھی پیش آئی کہ اس اضافی پیداوار کو فروخت کرنے کے لیے اشیاءکی طلب میں کیسے اضافہ کیا جائے۔ اس کا ایک حل یہ تھا کہ ہر چیز کو عوام کی ضرورت بنادیا جائے جس سے اشیاءکی طلب میں اضافہ ہو۔ عوام میں اپنے اثر و نفوذکی وجہ سے ذرائع ابلاغ اس کام کے لیے موزوں تھے۔

صارفین پر اثر انداز ہونے کا ایک براہ راست اور پُر اثر طریقہ اشتہارات ہیں، ان اشتہارات کو خاص طور پر اس طرح تیار کیا جاتا ہے کہ یہ انسان کی ذہنی سطح کو سب سے نچلے درجے پر لے جائیں اور انسان ہر اس چیز کو حاصل کرنے کی خواہش کرے جسے وہ دیکھے۔

اشتہارات کا ایک طریقہ مشہور برانڈز کے لوگو اور تصاویر کی بار بار اور بڑے پیمانے پر تشہیر ہے۔ اس قسم کے اشتہارات خریداری کے وقت صارف کے انتخاب پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اشتہارات کی تمام اقسام میں ٹیلی ویژن پر چلنے والے اشتہار سب سے زیادہ پُر اثر ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان اشتہارات میں صارف اشیاء کو دیکھ اور سن سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان اشتہارات کے نتائج بھی تیزی سے حاصل ہوتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق آج کے دور میں ہم ایک دن میں جتنے اشتہارات دیکھتے ہیں آج سے پچاس سال پہلے کا کوئی شخص اپنی پوری زندگی میں اُتنے اشتہار دیکھتا تھا۔ صارفین پر اپنے اثرات کی وجہ سے اشتہارات آج اربوں ڈالر کا کاروبار بن گئے ہیں۔

ذرائع ابلاغ پر نشر ہونے والے ڈرامے اور فلمیں بھی دیکھنے والوں کے طرزِ زندگی، رہن سہن اور لباس پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ یہ مادیت پرستی پر مبنی ایک ایسے طرزِ زندگی کا تصور دیتے ہیں جس میں انسان کو ہر قسم کی آسائش حاصل ہو۔ اس کے نتیجے میں لوگ اپنی استطاعت سے بڑھ کر اپنی آسائشات پر خرچ کرتے ہیں جس کا براہ راست فائدہ سرمایہ دار کو ہوتا ہے۔

ان نکات کو مختصراً یوں بیان کیا جاسکتا ہے کہ ایک سرمایہ دار اشتہار بنانے والی کمپنیوں اورمیڈیا کو اشتہارات بنانے اور چلانے کے لیے کھل کر پیسہ دیتا ہے۔ اشتہارات کی وجہ سے اشیاءکی فروخت میں اضافہ ہوتا ہے جس سے حاصل ہونے والا منافع سرمایہ دار کی جیب میں جاتا ہے، اور یہ چکر اس ہی طرح چلتا رہتا ہے۔ یہ بات صحیح ہے کہ اشتہارات ذرائع ابلاغ کی ضرورت ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ذرائع ابلاغ نے اپنی اس ضرورت کو اپنی مجبوری اور کمزوری بنا لیا ہے۔ نتیجے کے طور پر آج کے ذرائع ابلاغ خبروں کی ترسیل سے زیادہ دولت کمانے کا ذریعہ اور سرمایہ دارانہ نظام کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
محمد عمید فاروقی کی دیگر تحریریں
محمد عمید فاروقی کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں