قندیل تمہیں مرنا ہی تھا
قندیل بلوچ تمہارے قتل کیس میں ایک اہم موڑ آیا ہے، تمہارے باپ نے اپنے بیٹے اور قتل کے مرکزی ملزم وسیم کومعاف کرنے کے لئے بیانِ حلفی عدالت میں جمع کرا دیا ہے۔ شاید تمہیں اس پرحیرت ہوئی ہو کہ ایک قاتل کو سزا دینے کی بجائے آزاد کرانے کی کوشش کیوں ہو رہی ہے۔ سچ پوچھو تو اس میں حیرانی کی کوئی بات نہیں ہے۔ در اصل تم اندازہ ہی نہیں لگا سکیں کہ تمہارا جرم کیا ہے، حالاں کہ تم نے بڑی دانش مندی سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کو استعمال کر کے نہایت کم عرصے میں کافی زیادہ شہرت حاصل کر لی تھی۔
تمہارے پاس نہ اعلیٰ تعلیم تھی نہ اونچا خاندان، تمہارا انتہائی غریب باپ کھِلا تو نہیں سکتا تھا مگر تمہارے چھ بھائیوں اور دو بہنوں کو اس دنیا میں لانے کا سبب تو بن ہی سکتا تھا اب اتنی جانیں دنیا میں آ چکی تھیں تو تم نے سوچا کہ ان کو فاقوں سے بچایا جائے، تم پر کوئی فرض تو نہیں تھا مگر تم نے بس ہوسٹس کی نوکری کر لی۔ شاید تمہارا باپ تمہیں اعلیٰ تعلیم دلانے کے قابل ہوتا تو تم کسی سکول میں پڑھانے جایا کرتیں یا کسی بینک میں قسمت آزماتیں۔ تم میں کوئی خاص بات تو تھی کہ سوشل میڈیا پر تمہارے کومنٹس، تصویریں اور ویڈیوز تیزی سے مقبول ہونے لگے۔
تمہیں اپنے خوبصورت چہرے کا ادراک ہوا تو تم نے ماڈل گرل کی حیثیت سے کام کرنا شروع کر دیا۔ اس میں پیسے بھی زیادہ تھے اور تمہیں پیسوں کی ضرورت بھی زیادہ تھی تا کہ اپنے خاندان کو فاقوں سے بچا سکو اور ان کے لئے چھت کا بندوبست بھی کر سکو، تمہیں جس گھر میں قتل کیا گیا اس کا کرایہ بھی تو تم ہی ادا کیا کرتی تھیں، تمہارا باپ اور بھائی تو اتنا بھی نہیں کر سکتے تھے کہ کوئی گھر کرائے پر لے سکیں۔ برسوں تک تمہارے پیسوں پر عیش کرنے والے بھائی کو ایک دن اچانک احساس ہوا کہ وہ ایک غیرت مند انسان ہے اور غیرت مندی کا اولین تقاضا یہ ہے کہ وہ اپنی ماڈل گرل بہن کو قتل کر دے کیونکہ اس کے پاس یہی تو ایک چیز تھی۔ تعلیم، اخلاقیات، احساس، لحاظ، انسانیت ہر شے سے تو محروم تھا اور یہ غیرت اس نے بڑی سنبھال کر رکھی ہوئی تھی کہ کسی مناسب وقت پر اس کا استعمال کیا جائے۔
ظاہر ہے اگر تمہاری ماڈلنگ کی ابتدا میں ہی یہ کام کر ڈالتا تو خود بھی فاقوں سے مر جاتا لیکن اسے تو زندہ رہنا تھا۔ زندگی تو بڑی قیمتی چیز ہے ناں اسے ضائع تو نہیں کر سکتا تھا پہلے اسے تمہارے ذریعے سے ہی اپنے حالات کچھ بہتر کرنے تھے تا کہ تمہارے مرنے کے بعد بھی اس کی دال روٹی چلتی رہے۔ تم سے ایک غلطی یہ بھی ہوئی کہ ایک عالم دین کے ساتھ سیلفیاں بنا کر سوشل میڈیا پر پوسٹ کر دیں۔ مفتی صاحب نے یقیناً سیلفی بنوائی تھی مگر وہ بڑے آدمی ہیں تمہیں یہ حق حاصل نہیں تھا۔ تم سے بہت سارے لوگ ناراض تھے۔
تمہیں شکر کرنا چاہیے کہ تم اس معاشرے میں پیدا نہیں ہوئی جہاں پیدا ہوتے ہی لڑکیوں کو زندہ گاڑ دیا جاتا تھا۔ تم ایک مہذب معاشرے میں پیدا ہوئیں جہاں تمہیں یکم مارچ 1990 سے 15 جولائی 2016 تک پورے 26 سال جینے کا حق دیا گیا۔ تمہیں اپنے بچپن، لڑکپن اور جوانی سے لطف اندوز ہونے کا موقع دیا گیا، اور کیا چاہیے، رہی بات بڑھاپے کی تو بڑھاپا کون سی اچھی چیز ہے۔
تم بوڑھی ہو کر ذرا بھی اچھی نہ لگتیں، تمہارے سیاہ بال برف طرح سفید ہو جاتے چہرے پر جھریاں پڑ جاتیں، شاید تمہیں ہائی بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے کے لئے روزانہ گولیاں کھانی پڑتیں یا شوگر کے ڈر سے تم پھیکی چائے پیتیں اور مٹھائی سے دور بھاگتیں۔ اور پھر بڑھاپے میں کئی درد نکل آتے ہیں کبھی کمر درد اور کبھی گھٹنوں میں درد۔ ہاں تمہارا بیٹا تمہاری بہو بھی تو لے آیا ہوتا لیکن تم تو جانتی ہو ساس بہو کی لڑائیاں کتنی مشہور ہیں۔ ایک طرح سے تمہارے بھائی نے تمہیں ان تمام جھنجھٹوں سے آزاد کر دیا۔ اب تم ہمیشہ جوان رہو گی کبھی بوڑھی نہیں ہوگی تمہیں اپنے بھائی کا شکریہ تو ادا کرنا چاہیے مگر افسوس کہ تم اب جہاں ہو وہاں سے یہاں آ کر کسی سے بات نہیں کر سکتیں۔
تمہارے باپ نے تمہاری شادی کرنے میں بھی بڑی عجلت سے کام لیا تھا محض سترہ سال کی عمر میں تمہاری شادی کر دی شاید جلدی میں ”جہاں ہے، جیسے ہے“ کی بنیاد پر دولہا ڈھونڈا گیا تھا اسی لئے ایک سال بعد ہی شادی ٹوٹ گئی۔ اس معاملے میں بھی تمہاری ہی کوئی غلطی ہو گی کیونکہ غلطیاں تو ہمیشہ تم سے ہی ہوتی رہی ہیں لیکن یہ جو تم نے گھر سے نکلنے والی غلطی کی تھی اس پر تو معافی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ ہمارا معاشرہ بہت پاکیزہ ہے۔ ہم لوگ چھوٹی چھوٹی معمولی برائیاں تو برداشت کر سکتے ہیں جیسے رشوت لینا، ملاوٹ کرنا، کسی کا حق مارنا، ناجائز قبضے کرنا، جعلی دوائیاں بنانا، فراڈ کرنا، نشے کا زہر بیچنا لیکن بے حیائی تو بالکل بھی برداشت نہیں کر سکتے۔
لڑکی کو تو گھر کی چار دیواری کے اندر والے کمرے میں رہنا چاہیے جس کا اکلوتا دروازہ کچن میں کھلتا ہو اور تم چلی تھیں باہر کی ہوا کھانے۔ لہٰذا تمہارے بھائی نے تمہارے لئے موت کی سزا تجویز کر دی۔ بطور جج تمہاری موت کا فیصلہ سنانے کے بعد جلاد کا کردار نبھاتے ہوئے تمہارے ہی دپٹے سے تمہارا گلا گھونٹ کر تمہیں مار ڈالا۔ ایسی بات نہیں ہے کہ وہ بزدل تھا جو سوتے میں تمہیں قتل کیا۔ اصل میں وہ تمہیں شرمندگی سے بچانا چاہتا تھا اگر وہ دن کے اجالے میں تمہارے سامنے آتا اور اپنا ارادہ تمہیں بتاتا تو تمہیں اپنے جرائم پر بڑی شرمندگی ہوتی۔
بہ ہر حال قندیل بلوچ تمہیں مرنا ہی تھا کیونکہ تم جو فوزیہ عظیم تھیں تم نے خواب کیوں دیکھے اور پھر قندیل بلوچ بن کر ان خوابوں کو پورا بھی کرنے لگیں۔ تمہاری موت ضروری تھی تا کہ کوئی اور فوزیہ قندیل بننے کی جرات نہ کرے۔ تمہارے باپ نے تمہارے قاتل کو معاف کرنے کا فیصلہ بڑی تاخیر سے کیا ہے شاید اسے دیر سے احساس ہوا کہ وہ بھی اسی معاشرے کا ایک فرد ہے۔


