سرائیکی: زبان، جغرافیہ اور شناخت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فلاں علاقے کسی ملک یا صوبے یا شہر میں شامل کیوں نہیں اور فلاں کیوں شامل ہیں؟ یہ سوالات دنیا میں ہمیشہ سے پوچھے جا رہے ہیں اور شاید ہمیشہ پوچھے جاتے رہیں گے جب تک انتظامی سرحدیں باقی ہیں۔ حتیٰ کہ تھانوں کی حدود متعین کرتے وقت بھی ایسا ہوتا ہے کہ سڑک کی ایک طرف کا علاقہ ایک تھانے اور دوسری طرف کا علاقہ کسی دوسرے تھانے میں شامل ہو جاتا ہے۔ برصغیر کی ہندوستان اور پاکستان میں تقسیم کے مسائل بحث کی حد تک آج بھی موجود ہیں۔ اسی طرح پاکستانی، ہندوستانی اور ’اصل‘ کشمیر کے بھی مسائل ہیں۔

مصنوعی انتظامی حدود کو ہی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ حتمی اور ’فطری‘ مانا جانے لگتا ہے۔ کراچی اسلام آباد اورلاہور جیسے بڑے شہروں میں آج بھی لوگ آپ کو ’اصل شہر‘ اور ’الحاقی‘ یا باہر کے علاقوں کی بات کرتے ہوئے ملیں گے۔

میرے خیال میں آپ شناخت کی ڈھال ”ہم اور ہمارا‘‘ کے تحفظ اور ”وہ اور اُن کا‘‘ سے بچنے کے لیے اٹھاتے ہیں۔ ہمیں شناخت ہمیشہ وضع کرنا پڑتی ہے۔ یہ نسلی، لسانی، علاقائی یا حتیٰ کہ انتظامی اور جغرافیائی بھی ہو سکتی ہیں۔ فطرت کے لحاظ سے دیکھا جائے تو بیسویں صدی کے اوائل کا پنجاب چار مختلف خطوں پر مشتمل تھا: ہند۔ گنگا میدان، ہمالیہ، زیریں ہمالیہ اور شمال مغربی خشک علاقہ۔
مغلیہ دور کا پنجاب صوبہ ملتان، صوبہ لاہور، صوبہ کشمیر اور صوبہ دہلی میں تقسیم تھا۔ یقیناً یہ تقسیم محض انتظامی نوعیت کی تھی اور ان صوبوں کے صدر مقام ایک دوسرے سے تقریباً مساوی فاصلے پر تھے۔ دہلی سے ملتان، لاہور اور کشمیر یا لاہور اور ملتان کا فاصلہ چار تا پانچ سوکلومیٹر تھا۔ برطانویوں نے پنجاب کو پانچ ڈویژنوں میں تقسیم کیا: لاہور، ملتان، راولپنڈی، دہلی اور جالندھر۔
مغلیہ عہد میں لاہور صرف تیرہ سال کے لیے ہی دارالحکومت بنا۔ ملتان اور دیپالپور کو اس سے کہیں زیادہ اہمیت حاصل رہی۔ البتہ مُول راج کی بغاوت کچلے جانے کے بعد ملتان دوبارہ انتظامی لحاظ سے اہمیت نہ اختیار کر سکا اور اپنی چار سو سال سے جاری حیثیت میں واپس چلا گیا۔

1960ء کی دہائی میں ”سرائیکی زبان‘‘ کی بنیاد پر ایک علاقائی و ثقافتی شناخت وضع کرنے کی تحریک شروع ہوئی جس کی سیاسی وجوہ اور اغراض پر یہاں بات کرنا مقصود نہیں۔ ہمارے خیال میں کسی علاقے کے لوگوں کی شناخت مشترکہ جغرافیائی، ثقافتی اور سب سے بڑھ کر لسانی ورثے پر مشتمل ہوتی ہے۔ شناخت کا ایک مفروضہ قائم کرنے پر ہمیں دیگر مفروضات بھی تراشنے یا ڈھونڈنے پڑتے ہیں اور اُنھیں حقائق بنا کر پیش کرنے کی خاطر تاریخی واقعات اور نقطۂ نظر میں حسب ضرورت ردوبدل بھی کرنا پڑتا ہے۔ شناخت وضع کرنے کی اِس خواہش کا محرک کوئی محرومی، پسماندگی، یا آس پاس کے دیگر علاقوں کا تعصب بھی ہو سکتا ہے۔ چنانچہ شناخت لسانی، نسلی، جغرافیائی یا تاریخی سے زیادہ سیاسی مسئلہ ہے۔ اس کے ذریعے لوگوں میں ایک احساسِ یگانگت پیدا کرنا مقصود ہوتا ہے۔

نسلی بنیاد سب سے زیادہ مبہم ہے اور اب اسے تقریباً ترک کیا جا چکا ہے اور یہ کسی سیاسی تحریک کا منبع بننے کی اہلیت کھو چکی ہے۔ باقی تینوں یعنی لسانی، جغرافیائی اور تاریخی پہلو آج بھی شناخت کا عملی اظہار بنتے ہیں۔ آپ ان کے بغیر کسی علاقے کے لوگوں کو بیان نہیں کر سکتے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ تاریخی لحاظ سے رنجیت سنگھ لاہور کا اسی قدر دشمن ہے جتنا نواب ملتان کا۔ نیز کہ حاکمِ ملتان کے خلاف مہمات میں ڈیرہ غازی خان اور مظفر گڑھ کے لوگوں نے انگریزوں کا ساتھ دیا، بالکل اسی طرح جیسے رنجیت سنگھ کی فوج نے لاہور کے نواحی علاقوں پر فوج کشی کی، وغیرہ۔ یہاں اس پر رائے دینے کی بجائے قاری کو اپنی رائے خود قائم کرنے کے لیے چھوڑ دینا چاہیے۔

سرائیکی زبان کا پس منظر

ضرورت ہے کہ سرائیکی یا پنجابی یا سندھی کے حوالے سے زبان کی بنیاد پر شناخت کے دعووں کو اُس دور کے محققین کی رائے کی روشنی میں جانچا جائے جب اس قسم کا سوال بھی موجود نہیں تھا۔ ایسا ایک قابلِ قدر محقق گریئرسن تھا جس نے لنگوئسٹک سروے آف انڈیا (1919ء) میں سارے ہندوستان کی زبانوں کی درجہ بندی کی اور اس کے لہجوں کو بھی شناخت کر کے منظم صورت میں پیش کیا۔ گریئرسن نے اپنی کتاب کی جلد VIII کے حصہ اول میں پنجاب اور سندھ کی زبانوں پر مردم شماری رپورٹوں اور اپنے سروے سے حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر بات کی ہے۔

گریئرسن نے محولہ بالا کتاب کے صفحہ 1 پر لکھا ہے کہ: ”ہندی۔ آریائی زبانوں کے شمال مغربی گروپ میں دو زبانیں شامل ہیں: سندھی اور لہندا۔ 1911ء کی مردم شماری کے مطابق ان کے بولنے والوں کی تعداد یہ ہے: سندھی 3069470؛ لہندا 7092781 (کُل 10162251)۔ یہ زبانیں ہندوستان کے انتہائی شمال مغرب میں بولی جاتی ہیں: پنجاب اور جنوبی پنجاب میں، سندھ اور کَچھ میں۔ پنجاب کے اندر اس کے مغرب میں افغانستان اور سندھ کے مغرب میں بلوچستان ہے؛ لیکن مؤخر الذکر علاقے میں سندھی نے سیاسی سرحد کو پار کر کے کچھی گنداوا (Kachchi Gandava) اور لس بیلہ تک رسائی پائی حالانکہ یہ دونوں علاقے جغرافیائی لحاظ سے بلوچستان میں آتے ہیں۔ ‘‘

افغانستان اور بلوچستان کی زبانیں لہندا اور سندھی سے بالکل مختلف اور ایرانی الاصل ہیں۔ لہندا و سندھی کے شمال میں سرحدی صوبے کی داردی زبانوں میں سے کشمیری اہم ترین ہے۔ پنجاب کا خطہ دو بڑی زبانوں یعنی لہندا اور سندھی کے ملاپ سے عبارت ہے۔ لہندا کی منبع داردی زبان وادیِ سندھ سے مشرق کی طرف اور وادیِ جمنا سے مغرب کی طرف پھیلتی ہے۔ مغربی ہندی اور لہندا زبانیں پنجاب میں درجہ بہ درجہ ایک دوسری میں ضم اور دور جاتے ہوئے علیحدہ ہوتی جاتی ہیں۔ مشرقی پنجاب میں مغربی ہندی کی لہر ٹھہرنے پر پنجابی زبان کی تشکیل ہوئی اور مغربی پنجاب میں مغربی ہندی نے لہندا کی صورت اختیار کی۔

مغربی ہندی اور پرانی لہندا کے باہمی اختلاط جیسا ہی عمل لہندا اور سندھی کے درمیان بھی واقع ہوا۔ دراصل پنجابی سے زیادہ سندھی زبان کے لہجوں اور تشکیل پر غور کرنے سے سرائیکی کی بنیادیں کھوجی جا سکتی یا ان پر سوال اٹھایا جا سکتا ہے۔ حتیٰ کہ سندھی کے تناظر میں ہم یہ بھی دیکھ سکتے ہیں کہ کیا سرائیکی کا جنم پنجابی اور لہندا کے بطن سے ہو سکتا ہے یا پھر اس کی اصل کوکھ سندھ میں ہے؟ سندھی و لہندا کے لہجوں اور بالخصوص سرائیکی بولی یا لہجے کی ماہیئت کو سمجھنے کے لیے اس تقسیم کو ذہن میں رکھنا ہو گا۔

گریئرسن کیے بیان کی روشنی میں ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ سرائیکی کا جنم سندھ کی کوکھ میں ہوا نہ کہ انتظامی و جغرافیائی پنجاب سے۔ آج جن علاقوں کو سرائیکی شناخت کے ساتھ جوڑ کر پیش کیا جاتا ہے وہاں کے لوگوں نے 1868ء سے لے کر 1911ء تک ہونے والی مردم شماریوں میں اپنی زبان کو ملتانی یا جٹکی کا نام دیا اور ملتان سے دور کے علاقوں میں اس کے لہجوں کو تھلی یا تھلوچڑی، ریاستی وغیرہ کے نام بھی دیے۔

مختلف گزیٹیئرز میں لوگوں کی زبان کے حوالے سے جو تاثرات دیے گئے ہیں ان کا خلاصہ ذیل میں پیش کیا جا رہا ہے:
ڈیرہ اسماعیل خان (بشمول ٹانک، بھکر، لیہ): 1881ء کی مردم شماری کی بنیاد پر فی دس ہزار افراد میں پنجابی اور جٹکی بولنے والوں کی تعداد 8467 یعنی 85 فیصد تھی۔ بقیہ 15 فیصد میں پشتو، بلوچی، ہندوستانی، ڈوگری شامل تھیں۔

ڈیرہ غازی خان (بشمول راجن پور): میدانوں میں رہنے والے قبائلیوں میں سے بڑی تعداد بلوچی نہیں جانتی اور صرف جٹکی بولتی ہے۔ 1891ء کی مردم شماری کے مطابق آبادی کے فی دس ہزار افراد میں پنجابی اور جٹکی یا ملتانی بولنے والوں کی تعداد 9149 یعنی 92 فیصد اور بلوچی بولنے والوں کی 686 تھی، جبکہ بقیہ تقریباً 7 فیصد پشتو، باگڑی اور دیگر زبانیں بولتے تھے۔
بہاولپور (بشمول رحیم یار خان اور بہاول نگر): ریاست کے مقامی لہجے یہ بیان کیے گئے: (1)ملتانی یا مغربی پنجابی (لہندا)؛ (2) پنجابی (جٹکی یا اوبھیچار)؛ (3) سندھی؛ اور (4) مارواڑی راٹھی۔ 1901ء کی مردم شماری کے مطابق زبانوں کی تقسیم فی 10، 000 افراد یوں دی گئی: لہندا اور پنجابی 7349+1792= 9141 یعنی 92 فیصد، جبکہ بقیہ 8 فیصد میں راجستھانی، سندھی، بلوچی اور پشتو شامل تھیں۔

ملتان (بشمول میلسی، وہاڑی، لودھراں خانیوال، شجاع آباد): 1923۔ 24ء کے گزیٹیئر کے مطابق لوگوں کے درمیان مروج زبانوں میں سے دلچسپ ترین جٹکی یا ملتانی ہے۔ 1921ء میں 826549 لوگ یہ زبان بولتے تھے۔ ایک الگ زبان کی حیثیت میں اسے عرصہ سے مختلف ناموں سے شناخت حاصل رہی ہے، جیسے جٹکی، ملتانی، ہندکی اور مغربی پنجابی (لہندا)۔
مظفر گڑھ (بشمول لیہ، کوٹ ادُّو): زیادہ تر آبادی کی زبان جٹکی کہلاتی ہے جو ملتان، بہاولپور، ڈیرہ غازی خان اور جنوبی میانوالی و جھنگ کے لوگ بھی بولتے ہیں۔ یہ لہندا کے جنوبی گروپ سے تعلق رکھتی ہے۔

لہٰذا 1881ء، 1891ء، 1901ء اور 1911ء کی چار مردم شماریوں کے اندراجات کی بنیاد پر پانچ برطانوی اضلاع (بہاولپور، ملتان، مظفر گڑھ، ڈیرہ غازی خان اور ڈیرہ اسماعیل خان) کے 90 فیصد سے زائد لوگوں نے اپنی زبان ملتانی یا جٹکی بتائی۔ اگر کسی نے اپنی زبان کو سرائیکی کا نام دیا ہوتا تو یقیناً مردم شماری کے اندراجات کرنے والوں کو اس عنوان کے تحت ہی انھیں شمار کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہ ہوتی۔ البتہ سرائیکی لہجے کی غیر واضح شناخت پنجاب کی حد سے کافی پرے، بالائی سندھ کے علاقے میں کی گئی۔ دراصل مذکورہ بالا اضلاع کی غالب زبان لہندا کی ایک صورت تھی جسے لوگوں نے ملتانی یا جٹکی کا نام دیا اور وہ شاہ پور دوآب کی زبان سے فرق تھی۔

ہمارے خیال میں اب جسے سرائیکی کہنے پر اصرار کیا جاتا ہے وہ غالباً ایک سو سال پہلے ملتانی اور جٹکی تھی۔ بہاولپو رگزیٹیئر (1904ء) کے مطابق ”کوٹ سبزل اور گردو نواح کے لوگ بہاولپوری اور سندھی دونوں لہجے بولتے ہیں۔ مؤخر الذکر لہجے کو سرائیکی بھی کہتے ہیں۔ ‘‘ سرائیکی کا نام ہی اسے پنجاب کی حدود سے باہر کا ثابت کر دیتا ہے۔ جیسا کہ پیچھے کہا گیا، سندھ کی تین بڑی تقسیمات ہیں: ’لاڑ‘ یا زیریں، ’وِچولو‘ یا وسطی اور ’سِیرو‘ یا بالائی۔ ”سِیرو علاقے کی زبان سندھی کی ایک صورت ہے جسے سرائیکی یا بالائی سندھ کی سندھی کہتے ہیں۔ سارے سِیرو میں نیز بقیہ سندھ میں متعدد مہاجرین کی آبائی زبان لہندا ہے۔ ‘‘

گریئرسن اور دیگر محققین نے لہندا کے جٹکی اور ملتانی کے نمونے بھی جمع کیے جنھیں بالائی پنجاب کے لوگ آج بھی بہ آسانی یا خفیف سی کوشش کے ساتھ پڑھ اور سمجھ سکتے ہیں۔ آپ کو گرامر، ذخیرۂ الفاظ اور جملے کی ساخت کے اعتبار سے ہندکی اور ملتانی کا پنجابی اور لہندا سے فرق بہت کم محسوس ہو گا۔

اس بحث کی روشنی میں ہم کچھ اہم نتائج اخذ کر سکتے ہیں:

• بیسویں صدی تک پنجاب میں شمال کی طرف راولپنڈی سے لے کر جنوب میں رحیم یار خان اور مشرق میں جھنگ سے لے کر مغرب میں ٹانک تک جو زبان بولی جاتی تھی وہ لہندا یا مغربی پنجابی تھی۔
• مختلف علاقوں کے لوگوں نے اس لہندا کو اپنے اپنے نام دیے، جیسے ملتانی اور جٹکی یا ہندکی، بہاولپوری اور ریاستی، تھری یا تھریلی، پوٹھواری، چنہاوڑی، ڈیروی وغیرہ۔
• جسے ہم سرائیکی بولی قرار دینے پر مُصِر ہیں اُس کی بالائی حدود کشمور، کندھ کوٹ، کچا اور سبی تھیں، جبکہ جنوب میں وہ خیر پور اور لاڑکانہ تک جاتی تھی۔
• جس زبان کو آج سرائیکی وسیب کی شناخت اور بنیاد قرار دیا جا رہا ہے وہ قیامِ پاکستان سے قبل اس نام سے نہیں جانی جاتی تھی۔
• نام چاہے کچھ بھی ہو، لیکن اس کتاب میں شامل اضلاع اور علاقوں کی زبان ایک جداگانہ لہجہ رکھتی ہے۔
• اگر زبان یا لہجے کو بنیاد بنانا ہے تو موجودہ خیبر پختونخوا کے علاقوں ڈیرہ اسماعیل خان، کُلاچی اور ٹانک، جبکہ سندھ کے کم ازکم تین بالائی اضلاع کشمور، کندھ کوٹ اور جیکب آباد کو بھی مدنظر رکھنا ہو گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •