لوگ دوسری زبانوں کا ترجمہ کرنے کے عمل میں اپنی زبان کو وسعت دیتے اور حتیٰ کہ ایک نئی شناخت کی حامل زبان بھی بناتے ہیں۔ ترجمے کے عمل نے پورے پورے علاقوں کے عقائد اور مذاہب تبدیل کر ڈالے۔ ذرا سوچیں کہ چوتھی صدی میں فاہیان اور پھر ساتویں صدی میں ہواین تسانگ نے ہندوستان کے سفر کے بعد جو تحریریں ترجمہ کر کے چین میں منتقل کیں انھوں نے کیسے ان کا مذہب بدلنے کے علاوہ علامات اور اصطلاحات کا ایک پورا نظام بھی متعارف کروایا ہو گا۔
بدھ، شکتی، دکھ، چکر جیسے الفاظ اور علامات نے ان کے سوچنے کے ڈھنگ پر کیسے اثر ڈالا ہو گا! تراجم کی اہمیت کے بارے میں تو اکثر بات کی جاتی ہے۔ میں بس اتنا ہی کہوں گا کہ ترجمہ ہی وہ اہم ترین کڑی ہے جو ایک تہذیب اور آبادی کو دوسری کے ساتھ منسلک کرتی ہے۔ کیا ہندوستان کے لوگوں نے فارسی اور عربی کی تحریروں کے تراجم کرنے کے عمل میں اردو زبان نہیں تخلیق کر ڈالی؟ مترجم زبان کو تازگی دینے کے ساتھ آزادی بھی دلاتا ہے۔
Read more