ایجوٹینمنٹ کا رجحان

آج سے بیس پچیس سال پہلے تک صحافت میں ایک صفحہ انٹرٹینمنٹ کا ہوا کرتا تھا جس میں گنز بک آف ورلڈ ریکارڈز سے لے کر کسی دلچسپ و عجیب واقعے یا کسی نئی سائنسی ایجاد یا ہالی ووڈ کی کسی اداکارہ کی مصالحے دار خبریں ہوتی تھیں۔ نئے پرائیویٹ چینلز کا دور ہوا تو وہاں بھی اخبارات سے اٹھ کر ہی صحافی حضرات آئے۔ لیکن جلد ہی کیمرے کے سامنے اچھے طریقے سے بول سکنے والا اور چرب زبان

Read more

تاریخ و فلسفہ کے تراجم میں مترجم کا کردار

لوگ دوسری زبانوں کا ترجمہ کرنے کے عمل میں اپنی زبان کو وسعت دیتے اور حتیٰ کہ ایک نئی شناخت کی حامل زبان بھی بناتے ہیں۔ ترجمے کے عمل نے پورے پورے علاقوں کے عقائد اور مذاہب تبدیل کر ڈالے۔ ذرا سوچیں کہ چوتھی صدی میں فاہیان اور پھر ساتویں صدی میں ہواین تسانگ نے ہندوستان کے سفر کے بعد جو تحریریں ترجمہ کر کے چین میں منتقل کیں انھوں نے کیسے ان کا مذہب بدلنے کے علاوہ علامات اور اصطلاحات کا ایک پورا نظام بھی متعارف کروایا ہو گا۔

بدھ، شکتی، دکھ، چکر جیسے الفاظ اور علامات نے ان کے سوچنے کے ڈھنگ پر کیسے اثر ڈالا ہو گا! تراجم کی اہمیت کے بارے میں تو اکثر بات کی جاتی ہے۔ میں بس اتنا ہی کہوں گا کہ ترجمہ ہی وہ اہم ترین کڑی ہے جو ایک تہذیب اور آبادی کو دوسری کے ساتھ منسلک کرتی ہے۔ کیا ہندوستان کے لوگوں نے فارسی اور عربی کی تحریروں کے تراجم کرنے کے عمل میں اردو زبان نہیں تخلیق کر ڈالی؟ مترجم زبان کو تازگی دینے کے ساتھ آزادی بھی دلاتا ہے۔

Read more

رشید مصباح۔ دلچسپ و عجیب شخص

لکھاری لوگ بہت ہی عجیب ہوتے ہیں، چاہے وہ کچھ بھی نہ لکھتے ہوں۔ اردو لکھاریوں میں آج کل سب سے پہلے مطالعہ بند کر دیا جاتا ہے۔ اس سے شاید انھیں لکھنے میں آسانی ہوتی ہے جو بندھے ٹکے اصولوں اور ضابطوں کے مطابق ہو، باقی کام سیلف سنسر شپ کر دیتی ہے۔ اس طرح کوئی بھی ایسا عنصر تحریر اور لکھاری کی شخصیت سے خارج ہو جاتا ہے جو ذرا سی بھی ہلچل پیدا کر سکتا ہو۔ ہاں اردو ادب میں جنسی واقعات یا جسم نگاری کو ضروری سمجھا جاتا ہے۔

نقادوں نے بھی اسی معاشرے اور انھی لکھاریوں میں زندہ رہنا ہوتا ہے۔ لہٰذا وہ بھی اسی سانچے میں ڈھل جاتے ہیں۔ اور زیادہ تر نقاد تو ویسے بھی ”استاد“ ہیں جو 1980 ء یا 1990 ء کی دہائی والے نوٹس ہی طلبا کو رٹائے جاتے ہیں۔ حال ہی میں پروفیسر ہود بھائی نے اپنے استعفے میں ذکر کیا ہے کہ فزکس کے ایک پروفیسر صاحب کے نوٹس پر 1976 ء کی تاریخ تھی۔ حالانکہ فزکس میں تو سال بہ سال بہت کچھ بدلتا اور نیا شامل ہوتا رہتا ہے۔

Read more

ادب اور سماجی تبدیلی

لغوی تشریح کے مطابق ادب کا دائرہ اس قدر وسیع ہے کہ اس میں ”آرٹسٹک اہمیت کی حامل تمام تحریریں“ شامل ہیں، جیسے فکشن، شاعری، ڈرامہ اور تنقید۔ ایک اور تعریف کے مطابق کسی ثقافت، زبان، معاشرے یا دور میں لکھی گئی تمام تحریریں ادب ہیں۔ میں یہاں اپنے مقصد کے لیے اس دائرے کو تھوڑا محدود کر کے صرف ناول، افسانے اور شاعری پر بات کروں گی۔ میں ادب کے کردار بطور محرک اور بطور نظریاتی اساس کے بارے میں متشکک ہوں اور نہیں سمجھتی کہ ادب کسی بھی دور میں کسی بھی چھوٹی یا بڑی اصلاحی یا سیاسی تحریک یا انقلاب کا محرک ثابت ہوا۔ البتہ اس نے پہلے سے موجود سیاسی و سماجی تبدیلیوں اور طبقاتی جنگ میں معاونت ضرور کی یا ان تبدیلیوں کے ہم رکاب رہا۔ ادب اور مجموعی سماجی حالات کو ایک دوسرے سے الگ کر کے دیکھنا بھی شاید درست نہ ہو گا۔ سعادت حسن منٹو نے کہا، ”مگر ادب لاش نہیں، جسے ڈاکٹر اور اس کے چند شاگرد پتھر کی میز پر لٹا کر پوسٹ مارٹم شروع کر دیں۔ ادب بیمار نہیں، بیماری کا ردعمل ہے۔ ادب دوا بھی نہیں جس کے استعمال کے لیے اوقات اور مقدار کی پابندی عائد کی جاتی ہے۔ ادب درجۂ حرارت ہے اپنے ملک، اپنی قوم کا۔ وہ اس کی صحت اور علالت کی خبر دیتا ہے۔ “ (کسوٹی)

Read more

سرائیکی: زبان، جغرافیہ اور شناخت

فلاں علاقے کسی ملک یا صوبے یا شہر میں شامل کیوں نہیں اور فلاں کیوں شامل ہیں؟ یہ سوالات دنیا میں ہمیشہ سے پوچھے جا رہے ہیں اور شاید ہمیشہ پوچھے جاتے رہیں گے جب تک انتظامی سرحدیں باقی ہیں۔ حتیٰ کہ تھانوں کی حدود متعین کرتے وقت بھی ایسا ہوتا ہے کہ سڑک کی ایک طرف کا علاقہ ایک تھانے اور دوسری طرف کا علاقہ کسی دوسرے تھانے میں شامل ہو جاتا ہے۔ برصغیر کی ہندوستان اور پاکستان میں

Read more

کتب کا انحطاط اور ہمارے ہاتھوں ہونے والا پبلشنگ انڈسٹری کا زوال

1990ء کی دہائی کے اوائل تک پاکستان میں کتب کا کاروبار ڈھیلے ڈھالے روایتی انداز میں چل رہا تھا، مگر شاہکار اور سقراط وغیرہ جیسے سافٹ ویئرز نے اِس میں یکایک تیزی پیدا کر دی۔ پھر ونڈوز اور اِن پیج کے متعارف ہونے پر بھی ایک نیا سیلاب آیا اور ہم نے گزشتہ سو سال کے دوران شائع اور ترجمہ ہونے والی کتب کو نئے روپ میں سامنے آتے دیکھا۔ کئی پبلشروں نے مستقل طور پر لائبریریوں کے کلرکوں اور

Read more