کراچی کے بے بس ڈی آئی جی کہتے ہیں کہ بچوں کو جن اغوا کرتے ہیں
سندھ ہائی کورٹ میں پولیس کے اعلی حکام سے پوچھا گیا کہ میاں یہ کراچی میں بچے اغوا ہو رہے ہیں، ان کی کیا رپورٹ ہے؟ ایس ایس پی عرفان بہادر نے بتایا کہ اخبارات میں اشتہارات دینے کے بعد لاپتہ بچے سجاد کو فیصل آباد اور ام فروا کو کورنگی سے بازیاب کرایا گیا اور آئی جی سندھ نے بچوں کی بازیابی کے لیے ڈی آئی جی سی آئی اے کی سربراہی میں ٹیم تشکیل دے دی ہے۔ ڈی آئی جی سی آئی اے امین یوسفزئی نے بتایا کہ پولیس بے بس ہے کیونکہ ”کچھ بچوں کو تو جن بھی لے گئے تھے، اب جن کا فارمولا ہمارے پاس نہیں“۔
ڈی آئی جی سی آئی اے نے یہ انکشاف سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے بتایا کہ بچے اغوا نہیں ہو رہے، کچھ بچے گھر سے ناراض ہو کر چلے جاتے ہیں، لوگ پریشان ہیں تو اللہ اس سے نجات دلائے۔ مزید انکشاف کیا کہ ”کچھ بچوں کو تو جن بھی لے گئے تھے، اب جن کا فارمولا ہمارے پاس نہیں“۔ یہ ماننا پڑے گا کہ اتنے پیچیدہ اور پوشیدہ جرم میں جنات کے ملوث ہونے کا سراغ سی آئی اے ہی لگا سکتی تھی۔
یہ ایک نہایت ہی پریشان کن صورت حال ہے۔ کیا کوئی سوچ بھی سکتا تھا کہ کراچی جیسے شہر میں جنات اس قدر بے لگام ہو گئے ہیں کہ بچے اغوا کرتے پھر رہے ہیں؟ حیرت کی بات ہے کہ کراچی کی گلی گلی میں کالے علم کی کاٹ اور جن قابو کرنے والے ماہر عاملوں کاملوں کے آستانے ہیں اور اس کے باوجود جن یہ بدمعاشیاں کر رہے ہیں اور خلق خدا کو ستا رہے ہیں۔
پولیس کی بے بسی واقعی جینوئن ہے۔ پولیس کے پاس کیا ہوتا ہے؟ آتشیں اسلحہ یعنی ایک بندوق اور چند بارودی گولیاں۔ جن تو خود آگ سے بنے ہوئے ہیں۔ ان کو آتشیں اسلحے سے کیا ڈر لگے گا؟ بلکہ وہ تو ہوتے بھی غیبی مخلوق ہیں۔ دکھائی دیں گے تو پولیس والے ان پر فائر داغیں گے۔
اس آسیبی صورت حال پر قابو پانے کے لیے ہمارے ذہن میں دو تجاویز ہیں۔ پہلا تو فوری حل ہے اور وہ یہ کہ کراچی پولیس سے آتشیں اسلحہ لے کر اسے پانی والی پستولیں دے دی جائیں۔ جب آگ سے بنے جنوں پر یہ پانی والا فائر پڑے گا تو ان شریر جنات کو قرار واقعی سبق ملے گا۔
دوسری تجویز یہ ہے کہ کراچی پولیس میں عاملوں اور بنگالی بابوں کو بھرتی کیا جائے۔ فوری ایمرجنسی امداد کے لیے وہ مرکزی حکومت سے مدد لے سکتے ہیں۔ بلکہ ہماری رائے میں تو صورت حال اس قدر سنگین ہے کہ ان کو براہ راست عمران خان سے بات کرنی چاہیے کہ وہ کسی روحانی شخصیت کے ذریعے کراچی کے جنات کو اوقات میں لائیں۔ تحریک انصاف تو پہلے ہی کراچی کے معاملے پر شدید حساسیت کا مظاہرہ کر رہی ہے، اور سٹریٹ کرائم پر قابو نہ پانے پر صوبائی حکومت کے خلاف کارروائی کرنے کا ارادہ ظاہر کر چکی ہے، تو بچوں کو اغوا کرنے والے جنات کو تو وہ ہرگز نہیں بخشے گی۔
شہنشاہ اکبر اور جہانگیر وغیرہ کو سلطنت کے مغربی حصے کی شورشوں نے دق کیا تھا تو انہوں نے لاہور کو اپنا دارالحکومت بنا ڈالا تھا۔ ہم اپنے ہردلعزیز وزیراعظم سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ کچھ عرصے کے لیے کراچی منتقل ہو جائیں اور اپنی روحانی طاقت استعمال کرتے ہوئے نابکار جنات کی شورش پر قابو پائیں اور کراچی پولیس کی بے بسی دور کریں۔ وہ خود آنے سے قاصر ہیں تو کم از کم جنات کا فارمولا ہی ڈی آئی جی سی آئی اے کو بھجوا دیں جس کی کمی کا وہ شکوہ کر رہے ہیں۔



