افسوس! جب خبر بنانے والا کوئی نہ ہوگا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

صحافت کو معاشرے میں چوتھے ستون کی حیثیت حاصل ہے، کسی بھی ملک اور قوم کی بقا میں صحافت کا بہت اہم کردار ہو تا ہے۔ پرنٹ میڈیا سے الیکٹرانک میڈیا کا یہ سفر کئی دھائیوں پر محیط ہے اور اب صورتحال یہ ہے کہ ٹیلی وژن ایک بہت طاقت ور میڈیم بن چکا ہے۔ براڈ کاسٹ صحافت کے ذریعے لوگ تاریخ کو اپنے ہاتھوں سے بنتا دیکھتے ہیں۔

صحافی کا تو مذہب ہی بولنا ہوتا ہے، غلامی کے لب سیے جاسکتے ہیں، حاکم وقت مصلحتوں اور مجبوریوں کا لبادہ اوڑھ سکتے ہیں، مگر صحافی خاموش نہیں بیٹھ سکتے۔
مگریہ ہی صحافی جو تمام معاشرے کی برائیوں، حکومت کی کوتاہیوں کو تو اجاگر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، مگر اپنے حق میں آواز نہیں اٹھاسکتا۔

موجودہ دور میں الیکٹرانک میڈیا میں کام کرنے والے ملازمین سخت ذہنی دباو¿ میں اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ دنیا کی آواز بننے والے اپنے حق میں آواز نہیں اٹھاسکتے۔ ہمارے معاشرے کا یہ طبقہ جو بظاہر بہت طاقت ور نظر آتا ہے در حقیقت اپنے مالکان کی طرف سے جس زیادتی کا شکار ہے اس کا اندازہ بھی نہیں لگایا جاسکتا۔ اور ستم ظریفی یہ کہ اگر انہوں نے آواز اٹھائی تو انہیں اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھونا پڑسکتا ہے۔

سب سے اہم مسئلہ موجودہ دور میں میڈیا ملازمین کو درپیش ہے وہ تنخواہوں کا دیر سے ملنا ہے، کہیں یہ تاخیر مہینہ اورکہیں دو دو مہینوں پر محیط ہے۔ تنخواہیں نہ ملنے سے اب صحافیوں کے گھروں میں فاقوں کی نوبت ہے لیکن مالکان کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ کیونکہ ان کو پتا ہے کہ ان کی آواز اٹھانے والا کوئی نہیں اور مزے کی بات تو یہ ہے کہ ارباب اختیار، چیف جسٹس آف پاکستان اور پیمرا بھی ان کے خلاف کوئی موثر کارروائی نہیں کر پا رہے ہیں۔ یہاں تک کہ وفاقی وزیر اطلاعات جو ماضی میں خود بھی کئی چینلز سے وابستہ رہے اور جو خود اس صورتحال سے بخوبی واقف ہیں، لیکن حکومت کے دو ماہ گزر جانے کے باوجود انھوں نے بھی اس پر اب تک کوئی قدم نہیں اٹھایا، شاید ان مالکان سے وفاداری وزیر موصوف کے مفاد میں ہوسکتی ہے، اور ملازمین کے حق میں قدم اٹھانا ان کی بقا کو نقصان پہنچاسکتا ہے۔

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میڈیا مالکان نے ایک مافیا کی شکل اختیا کرلی ہے۔ کہیں یہ مالکان اپنے چینلز میں ملازمین کو بغیرکسی پیشگی اطلاع کے جب چاہیں فارغ کردیتے ہیں اور اگر کہیں نوکری پر رکھ کہ احسان کررہے ہیں تو بنا تنخواہ دن رات مشقت کروا رہے ہیں۔ واضح رہے کہ یہ وہی ملازمین ہیں جو ان کے چینلز کو چلانے میں ایک ایندھن کا کام کرتے ہیں، ان کی نوکری کے کوئی اوقات مقرر نہیں، دن رات کام کرکے اپنے فرائض بخوبی انجام د ے رہے ہیں، اور ساتھ ہی حکومت کی جانب سے چینل کی بندش پر یہ صحافی حکومت وقت کے خلاف احتجاج کا حصہ بھی ہوتے ہیں۔

تنخواہ وقت پر نہ ملنے کی وجہ سے میڈیا ملازمین نہ صرف ذہنی مریض بنتے جارہے ہیں بلکہ ان کی گھریلو زندگی بھی بری طرح متاثر ہورہی ہے۔ کیو نکہ یہ نہ تو اپنے بیوی بچوں کا پیٹ پال رہے ہیں اور نہ ہی اپنے بچوں کی اسکول کی فیس وقت پر ادا کر پارہے ہیں۔ مالکان کو چاہیے کہ وہ تنخواہیں نہ ملنے کی وجہ سے ملازمیں کے گھروں میں جو مسائل پیدا ہورہے ہیں ان کا وہ بھی تھوڑا جائزہ لیں کیونکہ اس اذیت ناک زندگی کے مسائل صرف وہی سمجھ سکتا ہے جو براہ راست اس صورتحال سے دوچارہے۔

اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو جو ملازمین دوسروں کی خودکشی کی خبریں بناتے ہیں وہ خود یہ قدم اٹھانے پر مجبور ہوجائیں گے۔ لیکن افسوس کہ ان کی خبر بنانے والا کوئی نہ ہوگا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •