دعویِ محبتِ مصطفیٰﷺ اور حقیقت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کتھے مہر علی کتھے تیری ثناء
گستاخ اکھیں کتھے جا لڑیں

حضرت محمدﷺکی ذات گرامی کے بارے میں یہ شعر کہنے والے مشرقی تصوف کے ایک قابل قدر اورجانے مانے ہوئے صوفی بزرگ پیر مہر علی شاہ تھے، اگر اتنی بڑی شخصیت آپ ﷺ کی ہستی کے بارے میں لکھتے ہوئے احتیاط برتتی ہے توبہرحال میرے جیسے عام مسلمان کو اس موضوع پر لکھنے کے لئے طویل ریاضت درکار ہے۔ ماضی قریب میں توہین رسالت بمقابلہ ناموس رسالت کی بحث نے یہ سوچنے پر مجبور کردیا کہ توہین رسالت ہے کیا؟

آپ ﷺ تو تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجے گئے ہیں اور بلاشبہ اللہ کے آخری پیغمبر ہیں جنہوں نے دین کی تکمیل کا اعلان کیا۔ آپ ﷺ نے ایک استاد کی حیثیت سے دنیا میں اسلام کا علم پھیلایا اور استاد کی سب سے بڑی عزت اور حق یہ ہے کہ اس کی دی گئی تعلیمات پر عمل کیا جائے۔

عام مسلمان کی حیثیت سے جب میں پاکستانی معاشرہ پر نظر دوڑاؤں تو روزانہ ہم ناموس رسالت کی دھجیاں اڑاتے ہیں کیونکہ ہمارے نبی کہتے ہیں کہ مومن کچھ بھی ہوسکتا ہے لیکن جھوٹا نہیں ہوسکتا اور اپنے روز مرہ کے معاملات میں جھوٹ کو لازمی جزو کی طرح شامل رکھتے ہیں۔ کیا یہ توہین رسالت نہیں؟ صرف نعوذ باللہ خاکے بنانا ہی توہین نہیں بلکہ روزانہ تعلیمات کو خاک میں ملانا بھی توہین رسالت ہے۔

ایک اور تحریک چلی کہ ہولو کاسٹ (یہودیوں کی داستان) کی زیادہ سے زیادہ توہین کی جائے، جہاں تجویز کے احمقانہ ہونے پر حیرت ہے وہاں اس بات کا دکھ ہےکہ ہم اس نبی رحمت ﷺ کے پیروکار ہیں جن پر کوڑا پھینکا جائے تو وہ اسی بڑھیا کی تیمارداری کے لئے پہنچ جائیں۔ ہم بدلہ لینے کی بات کرتے ہیں اور مذہبی جذبات مجروح ہونے کے بدلے میں مذہبی علامات کے توہین کے منصوبے بناتے ہیں۔ قرآن کہتا ہے کہ“ تم ان کے جھوٹے خداؤں کو برا نا کہو، مبادا وہ تمہارے سچے خدا کو برا نا کہنے لگیں“۔

جب قرآن کریم کا فیصلہ ہے کہ مذہبی معاملات میں حدسے تجاوزنہ کیا جائے تو ہم دیکھا دیکھی حدود سے تجاوز کیوں کررہے ہیں۔ ہمیں سوچنا چاہیے کہ کیا یہ خاکے بنانے کا عزم کرنے والوں کے مقاصد کی تکمیل تو نہیں جس میں ہم اپنی مذہبی تعلیمات کو نظر انداز کرکے صرف رد عمل کے طور پر دوسرے مذاہب کی توہین کرنے کے لئے تیار بیٹھے ہیں۔

سنت نبوی ﷺ ہے کہ سلام میں پہل کی جائے اور یہاں ہم قریبی رشتہ داروں اور دوستوں سے مہینوں ناراض رہتے ہیں۔ دفاتر، کاروباری مقامات یا کسی بھی محفل میں سلام میں پہل کرنا ہم نے اپنی انا کا مسئلہ بنایا ہوا ہے۔ حضرت علی رضہ کا قول ہے کہ پڑوسیوں کے بارے ہمیں نبی کریم ﷺ اتنی نصیحت کرتے کہ ہمیں شک ہونے لگا کہ وہ انہیں جائیداد میں بھی حصہ دار نہ بنا دیں۔ یہاں یہ حالت ہے کہ پڑوس میں کوئی بیمار ہے یا ضرورت مند ہمیں کوئی فکر نہیں ہوتی۔ اپنی تفریح کے لئے بلند آواز میں موسیقی سنتے ہیں خواہ پڑوس میں لوگ کسی بھی قسم کی تکلیف میں ہوں۔

جہاں یہ حکم ہے کہ سالن میں پانی تھوڑا زیادہ رکھا جائے تاکہ پڑوس میں بھی دیا جاسکے۔ اب ایک گھر سے تکوں کی خوشبو آتی ہے تو یہ پرواہ نہیں کرتے کہ ان کے ملازم اور ملازموں کے بچے جو انہی کے ساتھ سرونٹ کوارٹرز میں رہتے ہیں اس خوشبو سے کس قدر اشتہا محسوس کرتے ہوں گے۔

ہم اپنے روز مرہ معاملات میں سنت نبوی ﷺ کے بنیادی فلسفہ، میانہ روی، صلہ رحمی، درگزر، انصاف، ایمانداری، سچائی اور تقویٰ کو بالکل بھول چکے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر ہم سنت پر عمل پیرا ہوتے تو کیا پھر بھی مسلمان اتنے کمزور ہوتے کے ان کے نبی ﷺ کے (نعوذباللہ) خاکے بنائے جاتے اور ہالینڈ کے اسلام دشمن سیاستدان گیرٹ ویلڈر نے خاکوں کا مقابلہ ختم کرنے کی وجہ یہ بتائی کہ یہ“مسلم دہشت گردی“ کو تقویت دیں گے۔

سوال یہ ہے کہ اسلام جس کا اصول ہی سلامتی ہے کے ساتھ دہشت گردی کا لفظ کیسے جڑا۔ کیا ایسے تو نہیں کہ یہ مسلمانوں کے مفاد پرست گروہوں کی وجہ سے ہوا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کی ذات گرامی کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کوئی ان کی شان میں کیا لکھتے ہیں۔ ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ جو ”امید شفاعت“کیے ہوئے ہیں کس منہ سے ان کا سامنا کریں گے۔

کوئی درود بھیجے، انگوٹھا چومے اور آنکھوں کو لگائے یا ان میں سے کوئی بھی کام نا کرے وہ جانے اور رسول خدا ﷺ جانیں۔ ہمیں کس نے حق و باطل کا فیصلہ کرنے کا ذمہ دار بنایا ہے۔ جب اسلام میں کوئی جبر نہیں تو ہم کیوں زبردستی اسلام کی تعلیمات پر عمل درآمد کروانے لگے۔

پچھلے دنوں بنوں کے ایک شخص نے بتایا کہ وہاں کوئی بھی عورت بغیر برقعے کے گھر سے نہیں نکل سکتی، انہوں نے بتایا کہ ایک مقامی مولوی صاحب کا کہنا ہے کہ بے نقاب عورت کو دیکھو تو میرے پاس لے آؤ میں اس سے تمہارا نکاح پڑھوا دوں گا۔ ایسا نطام شریعت تو حضور نبی کریم ﷺ کے دور میں بھی نہیں تھا۔ کیا ہمارا مذہب عورت کی اس توہین اور زبردستی کی اجازت دیتا ہے؟ یقیناً نہیں۔ میری ناقص رائے کے مطابق ہم مسلمان خود توہین رسالت کے عمل میں پیش پیش ہیں۔ جب تک ہم اسلام کےاصولوں، قرآن کی تعلیمات اور سنت نبوی کے فلسفہ کو نہیں اپناتے تو ہم سے بڑا توہین رسالت کا مرتکب اور کوئی نہیں۔

رسالت کا احترام نا صرف مذہب کا حصہ ہے بلکہ اس کے بغیر ہمارا دین مکمل ہی نہیں ہوتا۔ لہٰذا ضروری ہے کہ دوسروں پر تنقید سے پہلے اپنی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے نبھا کر ناموس رسالت کے امین بن جائیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں