سوشل ایکشن پراجیکٹ


فائدہ فاؤنڈیشن پاکستان کی ایک معروف غیرسرکاری تنظیم ہے جو ملک کے مختلف تعلیمی اداروں کے طلباء کے درمیان سماجی اقدار، موثر تعلیم اور خود اعتمادی کے فروغ کے سلسلے میں انتہائی فعالیت سے کام کررہی ہے۔ ان کا بنیادی مقصد مختلف وسائل کو بہترین طور پر بروئے کارلاتے ہوئے معاشرے کو ذمہ دار افراد فراہم کرنا اور۔ مفقود ہوتے سیاسی، سماجی اور معاشی روابط کو نئی امنگوں کے ساتھ طلباء میں پیدا کرنا ہے۔

اس تنظیم کی بنیاد 2004 میں جناب عابد وزیر خان نے رکھی، جو کہ ملک کے مشہور تعلیمی سیکٹر KIPS کے سی ای او ہیں۔ بمطابق ان کے زاویہُ نظر کے، گورننس کے جدید اور روایتی نظام کے درمیان ایک پل۔ کی حیثیت۔ سے کام کرنا ہے۔ فائدہ فاؤنڈیشن کے ایک پراجیکٹ SAP کے تحت اسٹیشنری بینک بنایا گیا ہے۔ قابل ستائش بات یہ ہے کہ یہ دنیا کا واحد اسٹیشنری بینک ہے۔ جو پاکستان میں۔ موجود ہے۔ ملک کے اکثر پرائمری و سکینڈری اسکولوں میں مفت تعلیم، یونیفارم اور کتابیں فراہم کی جاتی ہیں۔ البتہ کاپیوں بستوں اور دیگر اسٹیشنری کا مسئلہ درپیش ہوتا ہے۔ SAP کے پس ِ پشت یہ سوچ کار فرما تھی کہ ان اسکولوں میں اسٹیشنری کی تقسیم کے ذریعے نچلے طبقے کے لیے تعلیم کو مکمل طور پر مفت۔ اور آسان بنایا جائے تاکہ شرح تعلیم میں اضافہ ہوسکے اور لوگوں میں اس حوالے سے شعور اجاگر کیا جا سکے۔ 7 جولائی 2018 لاہور میں موجود مینجمنٹ ہاؤس میں فائدہ فاؤنڈیشن کے زیر ِ اہتمام تربیاتی ورکشاپ منعقد کی گئی۔ اس ورکشاپ میں مختلف جامعات سے آئے طلباء۔ کو گروپس۔ میں تقسیم۔ کیا گیا اور اسٹیشنری بینک کے لیے ڈونیشن جمع۔ کرنے کا ہدف دیا گیا۔ ہر گروپ کے ایک لیڈر کا چناؤ۔ ہوا اور راقم الحروف کو بھی ”Revolutioners“ کی۔ قیادت تفویض کی گئی۔ اس موقع پر چئیر مین فائدہ فاؤنڈیشن، بلال احمد اعوان صاحب نے طلباء سے انتہائی سیرِ حاصل گفتگو کی اور مستقبل کے راہنماؤں کو سماجی ذمہ داریوں کے قاعدوں اور اصولوں سے آگاہ کیا۔ ہمیں اپنا ہدف۔ پورا کرنے کے لیے قریباً دس دن
کا وقت دیا گیا۔

فاطرِ ہستی کے بابرکت نام سے کام کا آغاز کیا۔ شام تا سحر اور سحر سے شام، ہماری ٹیم کے ذہنوں میں ڈونیشن کی فکر ہی طواف کرتی رہی۔ لوگوں سے رابطے کیے، تانے بانے جوڑے، دروازے کھٹکھٹائے، تعلقات نکالے، پیسے جوڑے حتی کہ ہم لوگ بیس ہزار روپے جمع کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ پورے پراجیکٹ کا سب سے مزیدار، دلچسپ اور کٹھن یہی مرحلہ تھا۔ قابلِ توصیف بات یہ ہے کہ لوگوں کی جانب سے انتہائی مثبت رویہ سامنے آیاجو کہ بے حد اچھا شگون ہے۔ رفتہ رفتہ دائرہُ شناسائی وسعت پاتا گیا اور ہم اچھی خاصی رقم اکٹھی کرنے میں کامیاب ہوگئے۔
میں اکیلاہی چلاتھا جانبِ منزل مگر لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا

16 جولائی، بروز سوموار کو ہم لوگ اردو بازار اسٹیشنری کی خریداری کی غرض سے گئے۔ مختلف دکانوں سے پتہ کیا، چھان بین کی بالاخر ایک دکان پر جا کے دم لیا، علیک سلیک ہوئی اور مدعابیان کیا۔ وہ ایک گرم دن تھا۔ اندھیری اور تنگ گلیوں میں ہوا نام کو نہ تھی۔ حدت سے بچنے نے کے لیے دوکاندار نے ایک چھوٹا پلاسٹک کا پنکھا لگا رکھا تھا۔ جب اسے ہمارے مقصدِ آمد کاعلم ہوا تو انتہائی گرم جوشی سے پرتپاک استقبال کیا، اپنے پنکھے کارخ ہماری جانب موڑ دیا، شربت منگوایا اور دلی خوشی کا اظہار کیا۔ نا منافع، نا نقصان کی بنا پر سامان خریدا اور لوگوں کے شفقت بھرے سلوک کی حسین یادوں کاذخیرہ لیے ہم گھر کو چلے آئے۔ یہ واقعات پاکستانی لوگوں کی نفسیات میں رچے خیراتی جذبے کا ثبوتِ عالیہ ہیں۔ انسان کو تنہا کہنا اور سمجنا ایک غلط فہمی ہے۔ انسان تعلقات اور رشتوں کے نازک دھاگوں میں الجھا ہوا ہے۔ دلی فیاضی کو شعار بنانا اور سخاوت کو سرشت میں داخل کرنا اس کی جبلت میں ابتداء ہی سے ودیعت کر دیا گیا تھا۔ اپنے لیے تو ہر کوئی جیتا ہے مگر دوسروں کے لئے جینے سے ہی زندگی کا منفرد اور پرلطف زائقہ محسوس ہوتاہے۔

نشہ پلا کے گرانا تو سب کو آتا ہے مزا تو تب کہ گرتوں کو تھام لے ساقی پراجیکٹ کا آخری مرحلہ اسٹیشنری پیکس بناناتھا۔ کاپیاں، پنسلیں، پنسل تراشوں پرمشتمل ہم نے قریباً 180 پیکس تیار کیے جن کو دسمبر میں انشاءاللہ ملک کے دیہاتی اور نواحی علاقوں کے اسکولوں میں تقسیم کیا جائے گا۔

گزشتہ روز SAP کی اختتامی تقریب منعقد کی گئی جس میں تمام گروپ قائدین نے اپناتجربہ ایک پریزنٹیشن کی صورت میں پیش کیا۔ اس پراجیکٹ کے بعد ہم کم ازکم 35 اسکولوں میں اسٹیشنری مفت فراہم کرنے کے اہل ہوگئے ہیں۔ اس موقع پر جناب سلمان عابد(سینئر کالم نگار )، شاہمیرخان( معرف اداکار) اور سہیل ریاض(چئیرمین جرنلزم ڈیپارٹمنٹ، کام سیٹ یونیورسٹی)نے شرکت کی اور طلباء کی کاوشوں کوخوب سراہا۔ معزز مہمانوں نے اس امر کوخوش آئند قرار دیا کہ نوجوان انتہائی زوق وشوق سے معاشرے میں بہتری کے لیے سرگرم ہیں۔ یہ انتہائی زبردست تجربہ رہاجس کے ذریعے معاشرے کے اندھیر جنگل میں علم کی شمع جلانے کاموقع ملا۔ نیز یہ شخصی صلاحیتیں پیدا کرنے اور خود اعتمادی کوپروان چڑھانے کا بھی بہترین راستہ بنا۔ دعا ہے حق یہ کاوشیں قبول فرمائے۔ دلی التماس ہے کہ آپ لوگ بھی اس عظیم کارِ خیرکاحصہ بنیں اور سیاسی، سماجی، ثقافتی اور قومی ترقی کے لیے موثرکردار اداکریں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں