لوڈ شیڈنگ, گردشی قرضوں کا گورکھ دھندہ یا صرف ایک کہانی


جوناتھن آر ملر نے کہا تھا کہ، ’آپ ماضی کے لئے جواب دہ نہیں ہیں لیکن اگر آپ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہے تو آپ اس ماضی کی وجہ سے حال اور مستقبل میں وجود میں آنے والے حالات کے ذمہ داران میں ضرور شامل ہو جائیں گے۔ ‘‘

اقتصادی ماہرین کہتے ہیں کہ ملک کے گردشی قرضے تاریخ کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچنے سے حجم 1ہزار 6 ارب (1006 ارب) روپوں تک پہنچ گیا ہے۔ ان ذرائع کے مطابق خالص گردشی قرضہ 526 ارب روپے ہے جبکہ پاور ہولڈنگ پرائیویٹ لمیٹڈ کے ذمے 480 ارب روپے ہیں۔ پاکستان سٹیٹ آئل (پی ایس او) نے بھی حکومت سے 335 ارب روپے وصول کرنے ہیں۔ پاور سیکٹر کے ذمے 284 ارب روپے بھی واجب الادا ہیں۔ پی آئی اے اور سوئی نادرن گیس کمپنی کے ذمے 51 ارب روپے۔ اس کے علاوہ نجی پاور پلانٹس، آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی اور پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ بھی 191 ارب روپے کی ادائیگی کے منتظر ہیں

توانائی کے شعبے میں گردشی قرضوں سے مراد یہ ہے کہ جتنی مالیت کی بجلی پیدا کر کے فروخت ہو رہی ہے اتنی مالیت کی وصولی نہیں ہو رہی۔ پاکستان میں بجلی کی چوری، بجلی کی ترسیل کا پرانا اور بوسیدہ نظام اور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی ناقص کارکردگی جیسی وجوہات کی وجہ سے بجلی پیدا کرنے لاگت پوری نہیں ہو رہی ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں زیادہ تر بجلی نجی شعبے کے پاور پلانٹس پیدا کر رہے ہیں جسے حکومت خریدتی اور آئیسکو، لیسکو اور کے الیکٹرک سمیت 11 مختلف ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے ذریعے صارفین کو فراہم کرتی ہے۔ جب یہ کمپنیاں صارفین سے بل وصول نہیں کر پاتی تو حکومت کے لئے پاور پلانٹس کو رقم ادائیگی مشکل ہو جاتی ہے اور سرکلر ڈیبٹ یا گردشی قرضہ بڑھتا جاتا ہے۔

اس طرح جب پاور پلانٹس کو رقم نہیں ملتی تو پھر وہ پی ایس او سمیت دیگر فرنس آئل درامد کرنے والی کمپنیوں کو ادائیگی نہیں کر پاتی اور پھر آئل کمپنیوں کے پاس رقم نہیں ہوتی وہ بیرون ممالک سے تیل نہیں خرید پاتی۔

اس طرح یہ قرضہ ایک سے دوسری اور دوسرے سے تیسرے فریق میں گھومتا رہتا ہے یعنی گردش کرتا رہتا ہے اور اسے گردشی قرضہ کہتے ہیں

اگر ان سب عوامل کا تجزیہ کیا جائے تو سب سے بڑی خرابی یہی نظر آتی ہے کہ بجلی پیدا کرنے اور اسے صارفین تک پہنچانے میں جو خرچہ آتا ہے وہ ہماری پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیاں صارفین سے بلوں کی مد میں وصول نہیں کر پاتیں۔ یہ امر اس لئے بھی افسوس ناک ہے کہ ہم عام صارفین پیپلز پارٹی کے دور میں بجلی کا یونٹ 3 روپے سے 4 روپے میں لیتے تھے جبکہ اس وقت پٹرول کی عالمی منڈی میں قیمت 150 امریکی ڈالر فی بیرل تھی جبکہ نواز شریف دور حکومت میں پٹرول کی عالمی منڈی میں قیمت 30 ڈالر فی بیرل بھی رہی ہے اور بتدریج بڑھتی ہوئی اس وقت 80 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی ہے۔ مگر عوام کی بدقسمتی دیکھیں کہ بجلی کا یونٹ 3 روپے سے بڑھ کر 12 روہے تک جا پہنچا ہے۔ صرف 2 دن پہلے وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کو فرماتے سنا ہے کہ نیپرا نے بجلی کی قیمت میں 3 روپے 89 پیسے فی یونٹ اضافہ کی سمری حکومت کو بھیجی ہے جو اس وقت حکومت کی میز پر پڑی ہوئی ہے

نیپرا اور واپڈا حکام کا فرمانا ہے کہ بجلی کی لاگت اگر بجلی کے بلوں سے ہونے والی آمدن کم ہو تو پھر وہ فرق کوئی نہ کوئی تو پورا کرے گا۔ ایسے میں حکومت اکثر اوقات سرکاری خزانہ سے یہ رقم پاور پلانٹس کو ادا کرنے کے لیے کمرشل بینکوں سے قرض لیتی ہے۔ ابھی بھی ہماری حکومت نے 8 پرائیویٹ بنکوں کے ایک کنسورشیم سے استدعا کی ہے کہ اسے 500 ارب روپے مزید قرض دیے جائیں جبکہ بنکوں نے پچھلے واجب الادا قرضوں کی واپسی کا مطالبہ کیا ہے

جب ہم بجلی کے شعبے میں مثبت تبدیلیوں کی بات کریں تو اس ضمن میں واپڈا اور نیپرا یہ دعوے کرتے نظر آتے ہیں:۔

1):۔ بجلی کے بلوں کی وصولیوں میں بہتری
2):۔ لائن لاسز (نقصانات) کے حوالے سے بہتر ہوتے اعداد و شمار
3):۔ کچھ ایسی انڈسٹریز (جنہیں لوڈشیڈنگ سے مستثنی قرار دیا گیا یے) جنہیں ہمہ وقت بجلی مہیا کی گئی ہے تاکہ وہ چلتے رہیں اور بجلی کی کمی کی وجہ سے پیداواری صلاحیت نہ کھوئیں
4):۔ گھریلو صارفین کے لیے لوڈشیڈنگ میں 75 فیصد کمی، جو کہ 12 سے 15 گھنٹوں سے کم ہو کر 3 سے 4 گھنٹوں تک ہو گئی ہے

اگر ہم ان چاروں فیکٹرز کو تاریخی کامیابی سے تعبیر بھی کریں تو اسی وقت گردشی قرضوں میں اضافے کی خبر فوری طور پر ان سوالات کو جنم دیتی ہے:۔

(1):۔ کیا اس شعبے میں ہماری کارکردگی واقعی تسلی بخش ہے؟
(2) کیا اب تک حاصل کی جانے والی کامیابیاں برقرار رہ سکیں گی۔

مسئلہ کے حل کے للئے پہلے تو ہمیں یہ تسلیم کر لینا چاہئیے کہ ہماری حکومت گر دشی قرضہ پر قابو پانے میں ناکام ہو گئی، توانائی کے شعبے میں جاری گردشی قرضے تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ جب اس حقیقت کو تسلیم کر لیا جائے تو پھر ہم اس کے بتدریج حل کی طرف سفر کا آغاز کر سکتے ہیں۔

ہمیں بڑھتے ہوئے گردشی قرضوں کو روکنا ہوگا اور ان میں بتدریج کمی لانے کے ساتھ ساتھ ان کی وجوہات کا سدباب بھی کرنا ہوگا جس کی وجہ سے بجلی کی پیداواری لاگت اور بلوں سے حاصل ہونے والی آمدنی میں توازن لایا جا سکے۔ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ بجلی کی پیداوار کے لیے جو زر نقد درکار ہوتی ہے وہ صارفین سے وصول کی جاتی ہے لیکن صارفین سے نیپرا کے متعین کردہ نرخوں کے مطابق ہی وصولی کی جاسکتی ہے۔ جبکہ نیپرا نے 11 تقسیم کارکمپنیوں میں سے ہر ایک کے لئے اس کمپنی کی صورتحال کے مطابق ایک مختلف نرخ متعین کر رکھا ہے۔ حکومت ان مقرر کردہ نرخوں کو دوطریقوں سے تبدیل کرتی ہے۔

اول یہ کہ تقسیم کارکمپنیوں کو پالیسی دی جاتی ہے کہ ان 11 نرخوں میں سب سے کم کا یکساں طور پر پورے ملک میں اطلاق کیا جائے۔ مثال کے طورپر حکومتی ملکیت میں موجود تمام تقسیم کار کمپنیوں کے لئے متعین کردہ نرخوں کی اوسط 12 روپے فی یونٹ ہے اور کسی کمپنی کے لیے 10 روپے فی یونٹ مقرر کیے گئے ہیں۔ جوکہ باقی تمام کمپنیوں سے کم ہیں حکومت 2 روپے فی یونٹ کوسبسڈی (TDS) کے طورپر ادا کرے گی۔

دوئم یہ کہ اپنے معاشرتی و معاشی اہداف کے حصول کے لیے وفاقی حکومت (اور زرعی صارفین کی صورت میں بعض صوبائی حکومتیں بھی) بعض صارفین کے لیے بجلی کے نرخ کو مزید کم کر دیتی ہے (جیسے زرعی، صنعتی، فاٹا، بلوچستان اور آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے صارفین)

اس صورت میں وفاقی (یا صوبائی) حکومت مقررشدہ نرخوں سے فرق کی ادائیگی اپنے بجٹ سے تقسیم کار کمپنیوں کو کرتی ہے۔ لہٰذا نیپرا کا صحیح نرخ متعین کرنا، حکومت کا بجٹ میں سبسڈی مختص کرنا اور تقسیم کار کمپنیوں کا وصولیوں کی شرح میں اضافہ اور لائن لاسز میں کمی لانا یہ سب عوامل ہیں جوکہ زرنقد کی دستیابی پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ ان سے حاصل شدہ رقم اس قدر ہونی چاہئیے کہ بجلی کی پیداوار، ترسیل اور تقسیم کی لاگت پوری کی جا سکے۔

نیپرا حکومت کی ملکیتی تقسیم کار کمپنیوں کے لئے نرخ (دیگر مفروضوں کے علاوہ) ان دو مفروضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کرتا ہے۔

(1) سو فیصد وصولیاں (جو نہیں ہوتیں)

(2 اوسطاً 15.3 فیصد لائن لاسنز (جو درحقیقت اس سے زیادہ ہیں اور بعض جگہوں پر 35% تک بھی ہیں)

چونکہ یہ دونوں مفروضے ملک کے معروضی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے کیونکہ حقائق یہ ہیں کہ 2007ء سے 2017ء تک ملک بھر میں اوسطاً وصولیوں کی شرح 91 فیصد جب کہ لائن لاسز 18.75 فیصد کے لگ بھگ رہے۔ بلاشبہ پاکستان میں امن و امان اور معاشرتی و معاشی صورتحال کے پیش نظر سو فیصد وصولی کا حصول ناممکن ہے تاہم اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ تقسیم کار کمپنیوں کو حتی الوسع وصولیوں اور لائن لاسز کے اہداف پورے کرنے کے لئے کارکردگی بہتر کرنے سے بری الذمہ قرار دے دیا جائے

گردشی قرضوں میں جلد اور تیز رفتار کمی کے لئے ہمیں درج ذیل عوامل پر سو فیصد عمل کرنے کی ضرورت ہے:۔

(الف):۔ حکومت کی ملکیتی تقسیم کار کمپنیوں کی بہتر کارکردگی، وصولیوں کی شرح کو کم سے کم 93 فیصد تک لانا ہوگا جبکہ لائن لاسز کو بھی کم کرکے 15 فی صد تک لانا ہوگا۔ واضح رہے کہ لائن لاسز اگر ایک فی صد بھی کم ہوں تو کم سے کم 10 ارب روہے تک کا فرق پڑتا ہے

(ب) تیل کی قیمتوں میں کمی کے لئے دعائیں۔ کیونکہ ہم تیل کی قیمتوں پر کنٹرول نہیں کر سکتے۔ اگر ایران اور عراق کے تیل کی عالمی منڈی میں رسائی کی یورپین یونین کی کوششوں میں کامیابی ہو گئی تو اس سے حکومت کو بہت فائدہ حاصل ہو سکتا ہے۔ حکومت نے ظاہر ہے تیل کی قیمت کم ہونے کے باوجود بجلی کی قیمت تو کم کرنی نہیں۔ اگرچہ اس بچت کا بڑا حصہ صارفین کو فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں ادا کر دیا جاتا ہے مگر اس کا کم و بیش 25 فیصد حصہ سبسڈی حاصل کرنے والے صارفین کے حوالے سے رکھ لیا جاتا ہے۔

(ج) وفاقی و صوبائی حکومتوں کی جانب سے کچھ بقایا جات کی ادائیگی۔ اسی لئے موجودہ حکومت نے ایک دفعہ پھر بنکوں سے 500 ارب روپے قرضہ مانگا ہے اور ٹیکس نیٹ میں اضافہ کی کوششوں میں تیزی اور مزید سنجیدگی لانے کی کوشش کا اعادہ کیا ہے

ان اقدامات کے باوجود اصل مسئلہ سستی بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں کی تکمیل تک ہمارے مسائل حل نہیں ہو سکتے۔ پانی سے بجلی ماحول دوست پیداوار ہے اور سستی ترین بجلی ہے۔ آج کے اس مہنگے ترین دور میں بھی پانی سے بجلی بنانے کی قیمت ایک روپیہ فی یونٹ سے بھی کم ہے۔ اگرچہ پانی سے بجلی بنانے کے لئے ڈیم بنانے کی لاگت بھی بہت زیادہ ہے اور اس کی تعمیر میں وقت بھی بہت لگتا ہے۔ مگر اس کے علاوہ ہمارے پاس کوئی حل بھی نہیں ہے۔ بھاشا ڈیم، کٹ زرہ ڈیم، کالا باغ ڈیم سمیت ہمیں دوسرے تمام ڈیم لازمی بنانے ہوں گے۔ ان کے بننے میں فورا“ تو ہمارے مسائل حل نہیں ہوں گے اور نہ یہ لوڈ شیڈنگ کے اندھیرے دور ہو سکیں گے مگر ہماری اگلی نسلیں تو ان سے فوائد اٹھا سکیں گی۔

واپڈا ہمیشہ منافع بخش ادارہ تھا مگر ہم نے پانی کی بجائے مہنگے طریقوں سے بجلی بنا کر سستی بیچنے کی کوشش کرتے ہوئے یہ بھی نہیں سوچا کہ جب اس فرق کے خلاء کو پورا کرنا پڑے گا تو ہم کیا کریں گے۔ گردشی قرضے وہی خلاء ہیں جنہیں پورا کرکے ہم وقتی مسائل تو حل کر لیں گے مگر اصل مسئلہ تب ہی حل ہوگا جب ہم پانی سے سستی ترین بجلی بنا کر عوام کو مہیا کریں گے

Facebook Comments HS