غریب مسافر کا وزیر ریلوے جناب شیخ رشید صاحب کے نام ایک خط
اسلام و علیکم،
امید کرتا ہوں کہ آپ خیریت سے ہوں گے ۔ بلکہ یقینا آپ خیریت سے ہی ہوں گے ۔
شیخ رشید صاحب، جیسا کہ آپ کو خدا نے ایک بار پھر وزیر ریلوے کے عہدے پر منتخب کیا ہے، ویسے ہی مجھے خدا نے ایک بار پھر ریلوے پر سفر کرنا نصیب کیا ہے۔ نارووال تا کراچی بذریعہ علامہ اقبال ایکسپرس۔
محترم وزیر ریلوے صاحب آپ یقینا اپنا سفر بذریعہ ہوائی جہاز ہی کرتے ہوں گے ۔ چونکہ آپ وزیر ریلوے ہیں اور میں آپ کی ریلوے کا ایک غریب سا مسافر۔ اس لیے میں آپ کو غریب مسافر کی چند مشکلات سے آگاہ کرنا چاہوں گا۔
جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ خدا تعالی کی جانب سے قیامت کے روز پہلا سوال نماز کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ اور نماز پڑھنے سے پہلے وضو کرنا ایک لازم عمل ہے۔ اور وضو کرنے کے لیے پانی کا ہونا بھی لازم ہے۔
آپ سے درخواست کرنا چاہتا ہوں کہ برائے مہربانی ریل گاڑی کے ہر ڈبے میں ایک کمرہ برائے نماز تشکیل دیا جائے۔ تاکہ تمام مسافر بآسانی پنچ وقتہ نماز کی ادائگی کو یقینی بنا سکیں۔ جناب شیخ رشید صاحب اس وقت کئی مسافر ایسے ہیں جو نماز کی ادائیگی کے لیے ریل گاڑی کے اندر چلنے کا راستہ استعمال کر رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے اسٹیشن پر اترنے اور چھڑنے والے مسافر مصیبت کا شکار ہیں اور ساتھ میں مجھ جیسے افراد باتھ روم استعمال کرنے کے خواہشمند بھی شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ ریل گاڑی پر چڑھنے اور اترنے والے مسافر تو انتظار کر رہے ہیں۔ مگر باتھ روم جانے والے مسافروں کا انتظار کرنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔ انہیں سمجھ نہیں آرہا کہ وہ کیا کریں۔
اگر ریل گاڑی کی کھڑکی کے ذریعے ہلکا ہونے کی کوشش کریں گے تو انہیں ’بے شرم‘ اور ’بے حیاء‘ کے لقب سے نوازا جائے گا۔ اگر نمازیوں سے تھوڑی جگہ مانگنے کی درخواست کریں گے تب ’گستاخ‘ کے لقب سے نوازا جائے گا۔ اور اگر اپنے کپڑوں میں ہی کردیں تو ’بے غیرت‘ اور ’جاہل‘ انسان کے لقب سے نوازا جائے گا۔
جناب ریلوے منسٹر شیخ رشید صاحب۔ انتظار کرنے کے بعد مجھے باتھ روم جانے کا راستہ نصیب ہوا تو میں باتھ روم کی حالت دیکھتے ہوئے فوری واپس مڑ گیا۔
باتھ روم میں پانی موجود نہیں۔ جس کے نتائج سے آپ بخوبی آگاہ ہوں گے۔
شیخ رشید صاحب برائے مہربانی غریب پر رحم فرمائیں۔ شکریہ۔
خدا ہر غریب کو مزید صبر کے ساتھ سفر گزارنے کا حوصلہ عطا کرے۔ آمین۔
خاکسار،
غریب مسافر،
ا۔ ب۔ ج۔


