حکومت کے شیریں اعلانات اور معیشت کے تلخ حقائق


 موجودہ حکومت نے عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف سے مالی امداد کی درخواست کر دی ہے۔ 1980ء کے بعد یہ چودہویں مرتبہ ہے کہ حکومت پاکستان آئی ۔ ایم ۔ایف کے پاس گئی ہے۔ قرض لے کر معیشت کی ڈوبتی نبضیں اور اکھڑتی سانسیں بحال رکھنا ہمارے ہاں معمول کا معاملہ ہے۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی بھی اپنے ادوار حکومت میں آئی ۔ایم۔ایف کا سہارا لیتی رہی ہیں۔ لہذا یہ کوئی ایسی قابل تنقید اور قابل گرفت بات ہر گز نہیں۔ مسئلہ مگر یہ ہے کہ ماضی کے بیانات، اعلانات اور بلند آہنگ دعوے تحریک انصاف کے لئے مشکلات پیدا کررہے ہیں۔ ماضی میں عمران خان قرضے لینے پر نواز حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا کرتے تھے۔ ان کا موقف تھا کہ ’وزیر اعظم پاکستان (نواز شریف) بھکاریوں کی طرح آئی۔ایم۔ایف سے قرض مانگتا ہے۔ جس کی قیمت عوام کو چکانا پڑتی ہے‘۔ انہوں نے بارہا دعویٰ کیا کہ اگر وہ ( عمران خان) وزیر اعظم بن جائیں تو ہرگز قرض نہیں مانگیں گے۔ قرض لینے کے بجائے وہ خود کشی کرنے کو ترجیح دیں گے۔ اپوزیشن اور میڈیا اب عمران خان کے انہی بیانات کا حوالہ دیتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی ’خود کشی ‘ کے دعوے سے متعلق کئی لطیفے گردش کر رہے ہیں۔

سیانے کہتے ہیں کہ کچھ بولنے سے پہلے، اچھی طرح سوچ لینا چاہیے۔ اسی طرح الفاظ کا چناو بھی احتیاط کا تقاضا کرتا ہے۔ سیاست دان تو بہر حال قومی رہنما کہلاتے ہیں۔ میڈیا کے ذریعے ان کی باتیں لاکھوں کروڑوں لوگوں تک پہنچتی ہیں۔ انکے لئے غیر محتاط الفاظ اور غیر حقیقی اعلانات سے گریز لازم ہے۔ یوں بھی کھوکھلے نعروں سے وقتی تعریف تو سمیٹی جا سکتی ہے مگر دائمی مقبولیت صرف اچھی کارکردگی، عملی اقدامات اور اعلان کردہ وعدوں پر عمل درآمد سے حاصل ہوتی ہے۔ اپوزیشن کی تنقید کے جواب میں عمران خان کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے پاس جانے سے قیامت نہیں آجائے گی۔ ان کا ایسا کہنا بالکل درست ہے۔ زرداری اور نواز حکومتیں جب آئی۔ ایم۔ایف کے پاس گئیں، تب بھی کوئی قیامت نہیں آگئی تھی۔ لیکن اس وقت تحریک انصاف قیامت بپا کیے رکھتی تھی۔ برسر اقتدار آنے کے بعد وزیر خزانہ اسد عمر نے پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر اعلان کیا تھا کہ حکومت آئی ۔ ایم۔ ایف کے پاس جانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی اور اگر ایسا کرنا پڑا تو پارلیمنٹ کے سامنے یہ معاملہ رکھا جائے گا۔ مگر اس اعلان پر عمل درآمد نہیں ہوا۔ کیا حکومت سنبھالنے کے بعد بھی اسد عمر معاشی صورتحال سے لاعلم تھے جو پاکستان کے سب سے بڑے فورم پر انہوں یہ موقف اپنایا؟

اب حکومتی سطح پر یہ جواز دیا جاتا ہے کہ پچھلی حکومت کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا ہے۔ حالات کی خرابیوں کا ذمہ دار گزشتہ حکومت کو ٹھہرانا دانش مندی نہیں۔ حکومتوں کو الزام تراشی کے بجائے عملی اقدام اٹھانا ہوتے ہیں۔ جون 2013 میں جب مسلم لیگ (ن) نے حکومت سنبھالی تو ملکی معیشت ابتر حالت میں تھی۔ خزانہ خالی تھا۔ سرمایہ کار سہمے ہوئے تھے۔ توانائی کے بحران کے باعث ملک اندھیروں میں ڈوبا ہوا تھا۔ واجب الادا قرضوں کی اقساط کےلئے رقم دستیاب نہ تھی۔ دہشت گردی کے عفریت پر قابو پانے کےلئے سیاسی حکمت عملی کیساتھ ساتھ کثیر مالی وسائل درکار تھے۔ دنیا پاکستان کو” ناکام ریاست ” اور "دیوالیہ” قرار دینے کو تیار بیٹھی تھی۔

آج اسحاق ڈار کو برا بھلا کہا جا رہا ہے۔ مگر کھلے دل سے تسلیم کرنا چاہیے کہ اسحاق ڈار نے شور ڈالے بغیر ملکی معیشت کو سنبھالا دیا تھا۔ اسٹاک ایکس چینج کو 21006 پوائنٹس سے اٹھا کر 46565 تک پہنچایا۔ زرمبادلہ کے ذخائر کو 7.5 ارب ڈالر سے بڑھا کر 23.1 ارب ڈالر کیے۔ بجٹ خسارہ 8.2 فیصد سے کم کرکے 5.8 فیصد کیا۔ اسحاق ڈار نے ڈالر کی قیمت کو روکے رکھا۔ اور مہنگائی کو کم ترین سطح پر لے کر آئے۔ آپریشن ضرب عضب کےلئے سالانہ 100 ارب روپے مہیا کیے۔ سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کیا۔ پھر وہ وقت آیا جب بلومبرگ، اکانومسٹ اور فاربز جیسا معتبر عالمی میڈیا پاکستان کی اقتصادی پالیسیوں کی تعریف کرنے لگا تھا۔ اسے ابھرتی ہوئی معیشت کہا جانے لگا۔ موڈیز(moody’s) ، فش (fitch) اور ‘standard and poor’s  جیسے کریڈٹ ریٹنگ ادارے پاکستان کی معیشت کو مستحکم قرار دینے لگے۔ مسلم لیگ (ن) نے حکومت سنبھالی تو FATF نے پاکستان کو بلیک لسٹ کر رکھا تھا۔ 2014 میں پاکستان گرے لسٹ ہوا اور 2015 میں وائٹ لسٹ میں شامل ہو گیا۔ قابل ذکر بات ہے کہ اگست 2016 میں نواز حکومت نے آئی ایم ایف کو باقاعدہ خدا حافظ کہہ دیاتھا۔ ڈاکٹر عشرت حسین (موجودہ حکومت کی اصلاحات سے متعلق ٹاسک فورس کے سربراہ) نے اپنی کتاب میں اسحاق ڈار کی اقتصادی پالیسیوں کی بے حد تعریف کی ہے۔

آج صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ معاشی بحران منہ کھولے کھڑا ہے۔ اسٹاک مارکیٹ زمین بوس ہے۔ سرمایہ کاروں اور کاروباری برادری کا اعتماد مجروح ہو چکا ہے۔ عمران خان کا دعویٰ ہے کہ تین سے چھ ماہ میں صورتحال میں بہتری دکھائی دے گی۔ اللہ کرے کہ ایسا ہی ہو۔ پاکستان ترقی اور استحکام کی راہ پر گا مزن ہو جائے۔ اس دعوے کے برعکس ماہرین معیشت مہنگائی میں اضافے کی خبر دے رہے ہیں۔ کہنا ان کا یہ ہے کہ آنے والے مہینوں میں شرح سود میں اضافہ ناگزیر ہو گا۔ پٹرول،، خوردنی تیل، چائے کی پتی سے لے کر موبائل فون، موٹر سائیکل اورگاڑیوں تک کی قیمتیں بڑھیں گی ۔ گزشتہ چند ہفتوں میں پٹرول، گیس، بجلی اور اشیائے خورد و نوش کی قیمتیں جس تیزی سے بڑھی ہیں، اس نے غریب آدمی کی کمر توڑ ڈالی ہے۔ اب اگر مہنگائی میں مزید اضافہ ہوا تو عوام کی زندگی حقیقی معنوں میں اجیرن ہو جائے گی ۔

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی۔ایم۔ایف سے بروقت رابطہ کر لیا جاتا تو اس معاشی بحران سے بچا سکتا تھا۔ فیصلہ سازی میں تاخیر کے باعث روپے کی قیمت تیزی سے گری۔ جس کی وجہ سے اسٹاک مارکیٹ کو 1300 ارب روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔ قرض لیے بغیر ہی پاکستان کے قرضوں میں 900 ارب روپے کا اضافہ ہو گیا ہے۔ نہایت ضروری ہے کہ عمران خان اپنی معاشی ٹیم اور پالیسیوں پر نظر ثانی کریں۔ مستقبل پر ضرور نگاہ رکھیں۔ نیو یارک ٹائمز کی تازہ رپورٹ کے مطابق حکومت پاکستان کی 50 لاکھ گھر بنانے کی اسکیم اور دیگر منصوبوں پر بھی آئی۔ایم۔ایف کی زد پڑے گی۔ جبکہ فنانشل تائمز کا تجزیہ ہے کہ اس قرض سے اقتصادی راہداری منصوبہ متاثر ہو گا۔ پاکستان کے محب وطن حلقے اظہار تشویش کرتے رہے ہیں کہ پاکستان دشمنوں نے سی پیک منصوبے پر نظریں جما رکھی ہیں۔ آئی۔ایم۔ایف نے بیل آوٹ پیکج دینے سے پہلے پاکستان سے تمام قرضوں کی تفصیلات طلب کر لی ہیں۔ غور ہونا چاہیے کہ ان تفصیلات کی طلبی، خدانخواستہ سی ۔پیک منصوبے کو ہدف بنانے کا آغاز تو نہیں؟

Facebook Comments HS