سوراب، بلوچستان میں ایرانی تیل کی باڑہ مارکیٹ
کراچی جانے والی سڑک پر کوئٹہ سے لگ بھگ 190 کلومیٹرز کے فاصلے پر واقع شہر سوراب کی ایک پہچان ڈیزل اور پٹرول کی اسمگلنگ بن چکی ہے، آپ اگر کوئٹہ سے کراچی سفر کریں تو آپ کو راستے میں ایرانی ساخت کی پک اپس آتی اور جاتی ملیں گی، جن پر کین بندھے ہوئے ہوں گے، ایسی گاڑیاں آپ کو لسبیلہ اور سندھ کی حدود سے پہلے سرحدی شہر حب تک نظر آْئیں گی۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق سینکڑوں کی تعداد میں دوڑتی ہوئی ان گاڑیوں میں سے اکثر کا رنگ لائیٹ بلیو ہوگا اور آدھی سے زیادہ گاڑیوں پر رجسٹریشن پلیٹس بھی نظر نہیں آئیں گی، اکثر اقات یہ پک اپس آپ کو قافلے کی صورت سفر کرتی نظر آئیں گی۔ ان گاڑیوں کی پہلی منزل سوراب ہے، جی ہاں سوراب، جو کہ اب ایرانی پٹرول اور ڈیزل کی باڑہ مارکیٹ بن چکا ہے۔
سوراب 2017 تک قلات ضلع کی تحصیل تھا اب ضلع سکندر آباد کا ہیڈکوارٹر ہے، یہاں سے ایک سڑک براستہ پنجگور ایرانی سرحدی شہر تافتان تک جاتی ہے، جہاں سے ڈیزل اور پٹرول اسمگل ہوکر آتا ہے، تافتان سے سوراب تک تیل کی ترسیل دیگر بڑی گاڑیوں میں ہوتی ہے، تاہم ایسی پک اپس اس روٹ پربھی آپ کو نظر آئیں گی۔
سوراب میں ڈیزل اور پٹرول کے کاروبار کی وجہ سے آپکو بڑی تعداد میں پٹرول پمپس نظر آئیں گے، پمپس بھی ایسے کہ سڑک کے دونوں طرف قطار میں آپکو پمپس کی ٹینکیاں ملیں گی، جن کے نیلے، پیلے، اودے، ہرے رنگ سے صرف اس بات کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ پمپ پچھلے پمپ سےالگ ہے، تاہم اس پورے علاقےمیں پٹرول پمپ چاہے کسی بھی کمپنی کا ہو، بہت مشکل ہے کہ اس میں تیل اصل کمپنی کا ہو۔
یہاں پر پٹرول یا ڈیزل بھرنے کے باقاعدہ کانٹریکٹ ہیں، گو کہ ادائیگی نقد ہوتی ہے، تاہم کچھ لوگوں کا لگا بندھا حساب کتاب بھی چلتا ہے، یہاں سے تیل لینے کے بعد بلوچستان کے دیگر اضلاع میں پہنچایا جاتا ہے، جہاں سے سندھ اور پنجاب کے سرحدی علاقوں میں بھی اسمگل ہوتا ہے، لیکن وہاں تک پہنچتے ہوئے اس کے دام بڑھ جاتے ہیں اس لیے اس کی مقدار بھی کم ہوتی جاتی ہے۔
مقامی لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ مشرف کے دور سے پہلے بھی اسمگلنگ ہوتی تھی مگر اس کے بعد سختی ہوئی جس کی وجہ سے تیل کی ترسیل میں مشکلات پیش آنے لگیں۔
سوراب میں چائے کی ہوٹل پر ایک مقامی شخص سے جب اس سلسلے میں میں نے بات کرنی چاہی تو پہلے اس نے میرے حلیے کا جائزہ لیا، پھرشناخت کے حوالے سے بات چھیڑدی، کچھ دیر تک بات چیت کرنے کے بعد وہ خود ہی میری دلچسپی کے موضوع کی طرف آیا اور پوچھا کہ سندھ کے کن شہروں میں ایرانی تیل ملتا ہے، میں نے اپنے علم کے مطابق بتایا تو اس کا اعتماد کچھ بڑھا اور اس کو کچھ یقین ہوا کہ وہ جو سمجھ رہا ہے، میں شاید وہ نہیں۔
کچھ دیر کے بعد پھر سے میں نے موضوع پر کچھ مختلف انداز میں بات شروع کی اور سڑک کنارے پٹرول پمپس کی قطاروں کا پوچھا تو اس نے ایسے ہی رواجی انداز میں جواب دیا کہ ’سب ڈیزل بیچتا ہے۔ ‘
میں کافی دیر کی تگ و دو کے باوجود بھی اس سے کوئی خاص معلومات لینے میں ناکام ہو کر اٹھا اور اپنی کوچ کی طرف جانے سے پہلے واش روم کا پوچھا تو اس نے ہوٹل کی پچلھی طرف کی اشارہ دیا، جہاں واش روم کے نام پر کچھ کچی دیواریں اٹھائی گئی تھیں، چاروناچار وہاں جانا ہی پڑا۔
واپس آیا تو کوچ ابھی اسٹارٹ نہیں ہوئی تھی، کئی گھنٹوں کے سفر میں بیٹھنے کی بھی تھکاوٹ ہوتی ہے، جس کی وجہ سے ایک طرف کھڑا ہوا تو اسی شخص کو تھوڑے فاصلے پر کھڑا پایا، میں پھر متوجہ ہوا اور بات چھیڑی تو شاید اب اس کا اعتماد کچھ بڑھ چکا تھا۔
’ اڑے بابا یہ لوگ دیکھو، کوئی آبادی (زراعت) نظر آتا ہے تمہیں؟ ‘ وہ ہاتھ سے سگریٹ ایک طرف پھینکتے ہوئے بولا۔ میں نے کوئی جواب تو نہیں دیا لیکن چہرے سے تاثر دیا کہ وہ شاید ٹھیک بول رہا ہے۔
وہ پھر گویا ہوا ’ یہاں کے لوگ اپنے بال بچوں کا پیٹ پالنے کے لئے یہ کاروبار کرتا ہے‘۔
میں نے زیادہ سوال کرنا اس لیے مناسب نہیں سمجھا کہ وہ خود ہی میرے ذہن میں موجود سوالات کے جواب دینے لگا ہے۔
’ غریب لوگ سیٹھ لوگ سے گاڑی لیتا ہے، ادھر سے ڈیزل لیتا ہے، آگے چھوڑ آتا ہے، گذارہ ہوجوتا ہے، اب یہ نہ کرے تو کیا کرے‘ وہ بولا۔
میں نے پوچھا کہ کیا صرف ڈیزل ہوتا ہے؟ میرا مطلب تھا کہ پٹرول نہیں؟
وہ اپنی واسکٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالتے ہوئے بولا ’ وہی، سمجھو دونوں‘۔
کنڈکٹر نے کوچ اسٹارٹ کی اور ہارن بجانے لگا جو اس بات کا اشارہ تھا کہ اب گاڑی چلنے والی ہے، میں نے مڑ کر دیکھا تووہ ہاتھ کے اشارے سے جیسے کہنے لگا کہ ابھی وقت ہے نکلنے میں۔
میں نے وقت کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے کہا کہ یہ اکثر گاڑیاں نیلے رنگ کی کیوں ہیں؟ (یعنی تیل والی پک اپس)
’ایرانی ہے نا‘ ایسے بولا جیسے مجھے یہ عام بات تو معلوم ہونی چاہیے۔
میں نے کہا ’رجسٹرڈ بھی نہیں شاید‘
’کون پوچھتا ہے‘ بے نیازی سے بولا۔
میں نے جاننا چاہا کہ یہ گاڑیاں اسمگل شدہ تیل لے کر کہاں تک جاتی ہیں؟
’اڑے بابا روزی کرنا ہے، جہاں بولے گا، لے جائے گا‘
میں نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ کیا یہ لوگ خود ہی کام کرتے ہیں کہ بڑے لوگوں کا بھی ہاتھ ہوتا ہے۔
مسکراتے ہوئے بولا ’جس کے گھر میں کھانے کو کچھ نہیں وہ کیا کرسکتا ہے، بڑے لوگ ہیں، غریب لوگ ڈرائیوری کرتا ہے اور روزی کرتا ہے۔ ‘
اب ڈرائیور سیٹ پر آگیا تھا میں نے ہاتھ ملاتے ہوئے اجازت لی اور پوچھا کہ ’ان کو کوئی روکتا نہیں؟ ‘
’اڑے بابا سیٹنگ ہوتی ہے تو سب چلتا ہے نا‘
اس نے ہاتھ چھوڑنے سے پہلے کہا کہ ’جب یہ کام بند تھا تو بدامنی بہت تھا، اب روزی چل پڑا ہے تو وہ لوگ بھی ادھر آگیا ہے جو پہلے ’دوسرے کام‘ میں تھا‘۔
کوچ ہارن دیتی ہوئی آہستہ سے چلنے لگی تو میں بھی آ کے بیٹھ گیا، اب کوئٹہ تک کے بقیہ سفر میں کے دوران میرے ذہن میں کئی سوالات تھے مگر جواب کس سے لوں؟
کوئٹہ میں قیام کے دوران میرے تجسس نے اس سوال کا جواب بھی پالیا کہ واقعی ایرانی تیل کی اسمگلنگ کا راستہ کھلنے کے بعد بہت سے لوگ فراری کئمپس چھوڑ کر اس ’کاروبار‘ سے لگ گئے ہیں۔
(اس مضمون کے ساتھ کچھ تصویریں بھی ہیں، جس میں ایرانی پک اپس، اورسوراب میں پٹرول پمپس نظر آرہے ہیں)







