استاد ”محترم“ سے ”مجرم“ ہو گئے
معلوم نہیں یہ تقدیر کا ”پھیر“ ہے یا الفاظ کا ”ہیرپھیر“، وہ جو ایک مدت سے سب سے محترم قرار پائے تھےوہی آج سب سے بڑے ”مجرم“ ٹھہرائے جا رہے ہیں۔ آج دل خون کے آنسو رو رہا ہے کہ وائے نادانی ہم ”کم فہم“ جسے پیشہ پیغمبری سمجھتے رہے اور اسی ”خوش فہمی“ میں اس پیشے کا انتخاب بھی کر بیٹھے، اب کہاں جائیں؟
اپنے ایک مضمون (کیمروں کی نہیں کمروں کی ضرورت ہے صاحب ) میں ہم پہلے یہ لکھ چکے ہیں کہ آجکل اساتذہ سب سے بڑے ”مجرم“ بن چکے ہیں اور ان پہ نظر رکھنے کے لئے ہر سکول میں کیمرے لگا دیے گئے ہیں۔ اس اقدام سے عزت نفس کتنی مجروح ہوئی بتانا مشکل ہے۔ ہم پھر بھی یہی سمجھے تھے کہ ہم جیسے معمولی ”معلم“ ہی اصل مجرم ہیں لیکن اب جو ”سانحہ“ ہوا ہے اس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ استاد کسی بھی لیول کا ہو اس کی اب کوئی عزت نہیں رہی۔
نیب کے ارکان بے شک مجبور ہوں گے لیکن ایسی بھی کیا مجبوری کہ اس بزرگ کو بھی لوہے کی زنجیریں پہنا دیں جو نقل و حرکت کے لئے بھی ”لاٹھی“ کا محتاج ہے؟ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ استاد وہی لاٹھی ان نکموں کے سر میں دے مارتا جن کو ڈگریاں ایک ”استاد“ کا ادب بھی نہ سکھا سکیں۔ ایک وقت تھا جب استاد کی چھڑی ”آزاد“ تھی اور وہ تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت کا بھی ذمہ دار تھا۔ پھر وقت بدلا چھڑی کھو گئی اور تربیت بھی ادھوری رہ گئی۔
ایک وہ معاشرہ ہے جہاں استاد عدالت میں پیش ہو تو جج سمیت تمام عدالتی شرکاء احترام کے لئے کھڑے ہو جاتے ہیں اور ایک یہ ”نیا پاکستان“ ہے جہاں ملزم استاد جس پہ ابھی الزام ثابت بھی نہیں ہوا، ہتھکڑی میں جکڑ دیا جاتا ہے۔
آج ہمیں اپنے بڑے بھائی کے فیصلے پہ بے حد فخر محسوس ہو رہا ہے جنہوں نے پی ایچ ڈی اکنامکس کر کے بھی اپنی کنسٹرکشن کمپنی رجسٹر کروا لی ہے۔ کم ازکم ہتھکڑی کی ذلت سے تو محفوظ رہیں گے۔ درست کہتے ہیں وہ کہ یہاں عزت استاد کی نہیں طاقت کی ہے۔ طاقتور بھی وہ جن کے پاس دولت ہے اور اختیار ہے۔ ایک معمولی استاد کہ پاس بھلا کیا اختیار؟ وہ جو اپنی مرضی سے اپنے ہاتھ کا استعمال بھی نہیں کر سکتا، تربیت خاک کرے گا؟
ہم اپنی آنے والی نسلوں کو یہ سکھا رہے ہیں کہ ایسے ”ذلت آمیز“ شعبوں سے بچ کے رہنا ہے۔ ہمیں بس ان شعبوں میں جانا ہے جہاں بس اختیار ہو، طاقت ہو۔ ہر کسی کو بے عزت کرنے کا لائسنس ہو۔
اب تربیت کے لئے درسگاہیں نہیں سوشل میڈیا رہ گیا ہے۔ سنا تھا ”نئے پاکستان“ میں بڑی تبدیلیاں آئیں گی۔ اگر تبدیلی یہی ہے تو ہماری التجا ہے کہ ہمیں ”پرانا پاکستان“ ہی واپس کر دیا جائےجہاں استاد آزاد تھا اور ”بد تمیزی“ قید تھی۔ مار نہیں پیار کا اصول ایسے ”بدبخت“ ہی پیدا کرتا ہے۔ جن کو یہ تک معلوم نہیں کہ جس کے جوتے اٹھانے کے لئے خلیفہ کے بیٹے بھی لڑ پڑے تھے اس کو ”ہتھکڑیاں“ پہنا دینے پر جوتے سر پہ بھی پڑ سکتے ہیں۔ بس دعا کریں کہ ہم جیسا کوئی جذباتی جوش میں نہ آئے۔


