ای چالان اور بھاری جرمانے ہی ہمیں مہذب بنا سکتے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ دنیا کی خوبصورتی، ترقی یافتہ ملکوں کا نظم و نسق، سڑکوں پر احسن ترتیب کے ساتھ رواں دواں ٹریفک، احساس تحفظ، صفائی ستھرائی اور قوانین کے تابع نظام زندگی۔ دراصل وہاں کی تعلیم و تربیت کا نتیجہ ہے۔ جبکہ میرا خیال ہے بلکہ میں یقین کی حد تک اس بات کا قائل ہوں کہ یہ ان لوگوں کا وھم ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان فطرتاً باغی ہے۔ مشرق کا انسان ہو یا مغرب کا۔ اسے حیوان سے انسان بنانے کے لیے سخت ترین قوانین کے شکنجے میں قید کیا جاتا ہے۔ اسے ہزار ہا قسم کی رسیوں سے باندھا جاتا ہے پھر کہیں جا کر وہ ’انسان‘ بنتا ہے۔ چند ایک مثالیں تو ہر جگہ مل جاتی ہیں لیکن مجموعی طور پر ہم سب کام چور، نکمے، سست اور ذہنی طور پر عیاش ہوتے ہیں بلکہ ہم پاکستانی تو بدمعاش بھی ہوتے ہیں۔

فضول ترین بیانیہ یہ ہے کہ چونکہ ہمارے ہاں تعلیم و تربیت کی کمی ہے اس لیے ہم مہذب انسان نہیں ہیں۔ دانشوروں کا کہنا ہے کہ چونکہ ہمارے ہاں شعور کی کمی ہے اس لیے ہمارے لوگ جگہ جگہ گندگی پھیلاتے ہیں۔ سڑکوں پر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ بدتمیزی کرتے ہیں۔ جبکہ میرا خیال ہے کہ ہمارے ہاں ان سب قباحتوں کی وجہ قانون پہ عملدرآمد نا ہونا ہے۔ ایک آدمی جب گاڑی چلاتے ہوئے کینٹ ایریا میں داخل ہوتا ہے تو وہاں ناکے پر بہت تمیز سے بات کرتا ہے۔ وہی آدمی جب کسی سول علاقے میں داخل ہوتا ہے تو سپاہی سے بدمعاشی کرتا ہے۔ جب باہر کے ملک جاتے ہیں تو قطار میں کھڑے ہوتے ہیں۔ اپنے ملک آتے ہیں تو قطار میں کھڑے ہونا توھین سمجھتے ہیں۔ وجہ کیا ہے؟ سختی کی کمی۔

گزشتہ دنوں ایک ایسی خوبصورت تبدیلی دیکھنے میں آئی کہ دل خوش ہو گیا۔ لاہور شہر میں پنجاب سیف سٹی اتھارٹی نے ای چالان کا آغاز کیا ہے۔ جب آپ اشارہ توڑتے ہیں تو کیمرہ آپ کی گاڑی کی تصویر لے لیتا ہے۔ اور کچھ دنوں بعد چالان آپ کے گھر آ جاتا ہے۔ اس سے پہلے کیا ہوتا تھا؟ جب کوئی اشارہ توڑتا تھا تو اشارے پہ کھڑا وارڈن اس گاڑی کو روکتا تھا۔ گاڑی میں بیٹھا بڑا آدمی وارڈن کو سر سے پاؤں تک دیکھتا تھا۔ اور پھر بحث شروع ہو جاتی تھی۔ کوئی بڑے ادارے کا افسر ہے، کسی کا چاچا ماما چوہدری ہے، تو کوئی پریس کا سہارا لیتا تھا، کسی کا ابا سیاستدان ہے تو کوئی کہتا تھا کہ تمہارا ایس پی میرا دوست ہے ابھی تمہارا تبادلہ کرواتا ہوں۔ لیکن اب سیف سٹی اتھارٹی والوں نے سب کے ’وٹ‘ نکال دیے ہیں۔

وہی لوگ جو اشارے پہ رکنا اپنی توھین سمجھتے تھے اب وہ زیبرا کراسنگ سے بھی پیچھے رکتے ہیں۔ چند دن پہلے اتھارٹی کے چیف آپریٹنگ آفیسر اکبر ناصر خان سے ملاقات ہوئی۔ ہیڈکوارٹر میں بڑی بڑی سکرینیں نصب ہیں۔ ٹیکنالوجی سے لیس عملہ 24 گھنٹے پورے شہر کی نگرانی کر رہا ہے۔ انہوں نے کیمرے کی مدد سے چئیرنگ کراس کا منظر دکھایا۔ اشارہ بند ہوتے ہی سب لوگ بڑی شائستگی کے ساتھ رک گئے۔ لگ ہی نہیں رہا تھا کہ یہ لاہور شہر کی سڑک ہے۔ اس احسن کارنامے پہ اکبر ناصر خان اور ان کی ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے۔ ‘

ایک اور بات، بطور ڈاکٹر میں نے دیکھا ہے کہ ہمارے حادثات، حادثات نہیں بلکہ خودکشیاں ہیں۔ حادثہ وہ ہوتا ہے جو انجانے میں وقوع پذیر ہو جائے۔ لیکن اگر آپ جانتے بوجھتے ایک حرکت کر رہے ہیں تو بتائیں وہ حادثہ ہے یا خودکشی؟ یقیناً خودکشی ہے۔ اگر ایک موٹر سائیکل والا بغیر ہیلمٹ کے موٹر سائیکل چلاتا ہے اور حادثے کی صورت میں جان چلی جاتی ہے تو قصور وار کون ہے؟ اگر آپ اوور سپیڈنگ کر رہے ہیں اور حادثہ ہوتا ہے تو کیا وہ حادثہ ہے؟

ٹریفک حادثات دنیا بھر میں اموات اور معذوری کی سب سے بڑی وجہ ہیں۔ اور ہمارے ہاں تو خیر اللہ ہی حافظ ہے۔ اوپر سے چالان بھی نا ہونے کے برابر ہے۔ قانون توڑنے پہ جرمانہ صرف 200 یا 500 ہے لیکن نتیجہ کسی کی موت یا معذوری ہے۔ باہر کے ملکوں میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پہ اتنا بھاری جرمانہ ہوتا ہے کہ طبیعت صاف ہو جاتی ہے۔ سعودی عرب میں اشارہ توڑنے پہ 3000 ریال تک جرمانہ ہے۔ UK میں 100 پونڈ، کیلیفورنیا میں 30 ہزار پاکستانی روپے تک۔ اور ہمارے ہاں بدمعاشی بھی کرنی ہے اور جرمانہ بھی نا ہونے کے برابر۔

حکومت سے درخوست ہے کہ ایک تو ای چالان کا نظام پورے صوبے میں متعارف کروایا جائے اور دوسرا چالان کی رقم بڑھائی جائے۔ کم از کم جرمانہ 10 ہزار ہونا چاہیے اور ساتھ دو چھتر بھی۔ ہماری بدمعاشی کا یہی حل ہے۔ باقی یہ تعلیم شالیم سب بکواس ہے۔ ڈنڈا ہی ہم سب کا علاج ہے۔ اور یقین جانیں کہ ترقی یافتہ ملکوں کی خوبصورتی کا راز بھی ’ڈنڈا‘ ہی ہے۔ اور آخری بات، یہ جو ای چالان، بھاری جرمانے اور ہیلمٹ کے خلاف چیخیں نکل رہی ہیں وہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ اب ہمیں قوم بنانے کے لیے ہماری طبیعت صاف کرنے کی شدید ضرورت ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •