اورنج ٹرین والے تمہیں ہم یاد کرتے ہیں
ہاں میں تمہیں یاد کرتی ہوں۔ ہر روز باقاعدہ صبح 8اور 9بجے کے درمیان۔ تم نے کام ہی ایسا کیا ہے؟ کہ جب میں ملتان روڈ پر چڑھتی ہوں۔ بے ساختہ میری نظر یں اوپر اٹھتی ہیں۔ اونچے اونچے دیوہیکل کالموں پر بچھی ناک کی سیدھ میں چلتی ٹرین کی پٹڑیوں کی سلیبیں دور تاحد نظر جاتی بہت سے منظروں کے راستے بند کرتی نظروں سے ٹکڑاتی ہیں۔ جابجا پڑے مٹی، اینٹوں کے ڈھیر، سریے کے ٹکڑے طبعیت پر گراں گزرتے ہیں۔ جہازی سائز کے اسٹیشن لگتا ہے آوازیں دے رہے ہیں۔ جیسے کہتے ہوں تم ہمیں بیچ منجھدار کے چھوڑ گئے اور یہ بھی نہ سوچا کہ یہ ایسی قوم کب ہے؟ جس کے آنے والے یہ دیکھیں کہ کوئی پروجیکٹ اگر مکمل نہیں ہوا۔ بیچ میں لٹک رہا ہے تو اسے مکمل ہونے دیں۔ وہ تو سزا دینے پر آجاتے ہیں۔
اچھا اسے تو پورا ہی نہیں کرنا۔ بھاڑ میں جائے یہ۔ نام تو پچھلوں کا ہونا ہے ہمیں کیا ملے گا؟ اب تم بھی پکڑ دھکڑ میں آگئے ہو۔ ویسے یہ مت سمجھنا کہ میں خوش ہورہی ہوں۔ میں بہت دُکھی ہوں۔ یہ نئے آنے والے تم لوگوں سے بھی گئے گزرے نظر آتے ہیں۔ دراصل میں یہ کہنا چاہ رہی ہوں کہ تم جو خود کو خادم اعلیٰ کہتے تھے کاش کبھی ایک عام آدمی کا روپ بدل کر شہر کا چکر لگاتے تو جانتے کہ تمہاری اِس اورنج ٹرین نے شہر کو کس قدر گندا کردیا ہے۔ ایک تو خیر سے لوگوں کا سیلاب جدھر نظر اٹھاؤ لوگ ہی لوگ۔ اتنی آبادی اِسے کنٹرول کرنے کی بھی کوئی سرگرم کوشش نہ ہوئی۔ وہی بات کہ حکومتی سطح پر کچھ ایسے قوانین جو مسائل کو حل کریں۔ وہ تو کرنے ہی نہیں بشمول تمہارے سبھوں کی یہ پالیسی کہ لوگ کہیں خلاف نہ ہوجائیں، کرسی نہ چھن جائے۔
کہیں چھوٹے شہروں کو تو جہ ملتی، روزگار کے مواقع ان شہروں میں پیدا کیے جاتے تو بڑے شہروں کی طرف نقل مکانی کا رحجان نہ پکڑتا۔ مگر یہ باتیں کون سوچتا؟ اب کوئی تم سے پوچھے کہ کوئی ضرورت تھی اِس اورنج ٹرین کی شوبازی اور پراگے کی۔ ایسے چونچلے تو وہاں سوجھتے ہیں جہاں لوگوں کو زندگی کی گاڑی چلانے کے لیے پیٹ بھر کھانا ملتا ہو، بیماری سے بچاؤ کے لیے دوائی ملتی ہو، کسی چھوٹی موٹی جھگی کا ٹھوڑ ٹھکانہ ہو۔ یہ چونچلے تو تب اچھے لگتے ہیں جب عوام کا پیٹ بھرا ہو۔ اربوں، کھربوں کے اِن ادھورے پروجیکٹوں کی بجائے تم کچھ پینے کے صاف پانی، کچھ سکولوں، کچھ اسپتالوں کو ہی ٹھیک کردیتے تو کیا بہتر نہ تھا۔
تمہاری مدت حکمرانی کچھ اتنی کم تو نہیں تھی۔ پر جب پلاننگ نہ ہو۔ اب دیکھو نا لاہور کیسا کھلا ڈلا باغوں کا شہر تھا۔ مگر ناس مارا جائے ناجائز تجاوزات اور لالچی رئیل اسٹیٹ کے مالکوں کا جنہوں نے اس کا سارا حُسن غارت کرکے رکھ دیا۔ وہ مقامات جہاں ہری بھری فصلیں اُگتی تھیں، جہاں کیکر، شیشم اور نیم کے مقامی درختوں کا حُسن تھا سب کا اِن کمبخت مارے ہاؤسنگ سوسائیٹیوں نے ناس ماردیا۔ کِسی کو غرض نہیں کہ شہر کِس بے ہنگم انداز میں پھیلا جارہا ہے اور سیمنٹ سریا کیسے اس کے موسموں اور حُسن کو متاثر کررہا ہے۔ شہر چاروں طرف سے چالیس کلومیٹر تک پھیل گیا ہے۔
حدیث میں فرمان ہے کہ آبادی بڑھے تو نئے شہر بساؤ۔ مگر کون یہ سب پڑھے اور اس پر عمل کرے۔ ملتان روڈ کے باسیوں کو داد دینی چاہیے۔ گذشتہ آٹھ نو سال سے یہاں کے باسی مسلسل مٹی گٹا پھانک رہے ہیں۔ میرا خیال ہے سیروں کے حساب سے یہ ان کے معدوں میں چلا گیا ہوگا۔ پہلے سڑک کو کشادہ اور ون وے کرنے کا منصوبہ شروع ہوا۔ چلئے مٹی پھانکتے رہے اس امید پر کہ دُکھ کے بعد سُکھ نصیب ہوگا۔ جب سڑک بنی تو خدا کا شکر ادا کیا۔ گندہ نالہ ٹھوکر نیاز بیگ تک بنا۔
دورویہ سڑک کے کناروں پر گھاس کے قطے اور شجر کاری، قطعوں پر بچوں کے لیے جھولے اور سی سا بھی لگائے گئے۔ ابھی قرب و جوار کے رہنے والے بچے اِن جھولوں اور بڑے سڑک کی کشادگی سے لُطف اندوز بھی نہ ہوپائے تھے کہ اورنج ٹرین کا شوشہ چھٹ گیا۔ اکھاڑ بچھاڑ کا سلسلہ پھر شروع گیا۔ کیسے اِس اورنج ٹرین نے شہر کی رہی سہی کشادگی اور تاریخی حسن کو گہن لگایا۔ کتنا واویلا مچا۔ عدلیہ بیچ میں کودی تو کچھ حصّے زیر زمیں چلے گئے۔
چلو ایک بات سے تمہارا دل اور اپنا دل خوش کرتی ہوں کہ مزدور لوگ جو سردی گرمی کی شدتوں میں سڑک کنارے اپنے اڈوں پر اکٹھے ہوتے تھے اب انہیں اورنج ٹرین اسٹیشنوں کی بڑی مظبوط چھتیں نصیب ہوگئی ہیں۔ اُن کے نیچے یہ دیہاڑی دار اپنے پینٹ پالش کی کوچیوں اور ڈبوں سنگ بیٹھے سگریٹ، بیڑی کے دھوئیں اُڑاتے مالکوں کی راہ تکتے ہیں کہ کب کوئی آئے اور انہیں دیہاڑی پر لے جائے۔ چلو کھربوں کے اِس پروجیکٹ نے یہ کام تو کیاکہ بیچاروں کو دھوپ، بارش اور سردی سے پناہ میسر آئی۔


