امریکی وفاق اور ریاستی حکومتیں کس طرح کام کرتی ہیں؟


آپ یوں کہہ لیں کہ متحدہ امریکہ پچاس سے زیادہ ریاستوں یا ممالک کا ایک وفاق اور اتحاد ہے۔ جن میں سے ہر ریاست کا اپنا معاشی، معاشرتی، ثقافتی نظام اور اپنا آئین ہے۔ اس وفاق میں چھوٹی ریاستوں سے لے کر بڑی بڑی ریاستں بھی موجود ہیں۔ مگر کوئی شکوہ کوئی بد انتظامی نہیں۔ کیونکہ یہاں اختیارات حقیقی نمائندوں کے پاس ہیں۔ مثال کے طور پر کیلیفورنیا۔ اگر یہ امریکی وفاق کا حصہ ہونے کے بجائے علیحدہ ملک ہوتا تو رقبے کے لحاظ سے سے دنیاکا چوتھا بڑا ملک اور چھٹی یا ساتویں بڑی اکانومی ہوتا۔ مگر یہاں وفاق سے علہدگی، رعب، شکوے اور شکائیت نام کی کوئی چیز نہیں۔ اور اس طرح کی شمار بے ریاستیں اس وفاق میں موجود ہیں۔

امریکہ جیسے وفاق کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے یہ تجربہ انڈیا اور پاکستان میں بھی کیا گیا ہے۔

اب اگر پاکستان کی بات کی جائے تو یہ بنیادی طور پر مختلف خود مختار صوبائی اکائیوں اور کچھ قبائلی علاقوں پر مشتمل ایک وفاق کا نام ہے۔ اور 1940 کی قرار داد کے مطابق وفاق کے بنیادی اختیارات دفاع، کرنسی، ابلاغ، اور خارجہ امور ہیں۔ میرے خیال سے صوبائی خود مختاری کی اس سے سادہ مثال میرے پاس نہیں ہے۔

مگر وفاق قائم ہونے کے بعد ملک کو وفاقی کے بجائے اصل معنوں میں ایک وحدانی اور وہ بھی آمریت پسند ریاست بنا دیا گیا جہاں صوبوں کے ریونیو سے لے کر تمام داخلی معاملات غرض تہذیب و تمدن اور زبان تک کو تقریباً تقریباً مرکز کی بلواسطہ یا بلا واسطہ عملداری میں دے دیا گیا۔ جس نے وسائل و اختیارات کی غیر منصفانہ اور غیر حقیقی تقسیم کو جنم دیا۔ جس کا نتیجہ بالآخر وفاق پاکستان کی کوکھ سے بنگلہ دیش کی پیدائش کہ صورت میں نکلا۔ اور جس کا زخم ابھی تک ہرا ہے۔ حالانکہ ہمیں یاد رکھنا چاہیے تھا کہ وفاق ہند ٹوٹنے کی وجہ اختیارات و وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور فرضی تقسیم اور لوگوں کے حقوق کو تسلیم نہ کرنا تھا۔

اگرچہ1973کے آئین نے صورتحال کچھ تبدیل کی مگر یہ سب بھی کاغذی تماشا ثابت ہوا۔ حال میں اٹھاروہں ترمیم کو اس معاملے میں بڑی کامیابی مانا جاتا ہے مگر میں اس کو بھی نظر کے دھوکے کے علاوہ کچھ نہیں جانتی۔ ( تفصیلی مضمون ہم سب ہر ملاحضہ ہو)۔

حقیقت یہ ہے کہ یہاں کوئی بھی اختیار اور وسائل کو آگے منتقل کرنا نہیں چاہتا۔ وفاق سے لے کر صوبوں تک سب ایسے اختیارات اور وسائل پر سانپ بن کر بیٹھے ہیں جن سے عہدہ براء ہونے کی استعاد ان کے پاس موجود ہی نہیں ہے۔ اور جن کو ذمہ داریوں کی بہتر اور حقیقی انجام دہی کے لئے ان کا نیچے منتقل کیے بغیر کوئی چارہ ہی نہیں۔
وفاق صوبوں کو کچھ نہیں دینا چاہتا اور صوبے مقامی حکومتوں کو۔ مقامی حکومتی نظام طوحا کرحا قائم تو کر دیا گیا ہے مگر بغیر ہاتھ پاؤں کے۔ اگر صوبے کچھ پاور نیچے دیتے بھی ہیں تو اپنے نمائندوں یعنی نوکر شاہی کو۔

نتیجہ ہم سب کے سامنے ہے جس اتحاد، یکجہتی اور ہم آہنگی کے نام پر ہم لوگوں کی آزادیاں، حقوق، وسائل اور خود مختاری صلب کر کے بیٹھے ہیں اس کا حال یہ ہے کہ ہر صوبہ دوسرے کو اپنے حقوق کا غاصب اور وسائل پر قابض سمجھتا۔ ان صوبوں کےتمام لوگ نہ صرف دوسرے صوبوں بلکہ اپنے صوبوں کے اندر بھی ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرا کر ایک دوسرے سے متنفر اور بیزار نظر آتے ہیں۔ کیونکہ اختیارات اور وسائل کی فرضی اور غیر منصفانہ تقسیم، شخصی، تہذیبی و ثقافتی، معاشی، مذہبی، اور انسانی آزادیوں اور حقوق پر کدغن بٹواروں، نفرتوں اور معاشی بدحالی کو جنم دیتی ہے۔ یہ تجربہ ہم دو بار کر چکے مگر کچھ نہیں سیکھا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس ملک کو حقیقی معنوں میں وفاق بنایا جائے وہ وفاق جس کا وعدہ ہم سے کیا گیا تھا۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2