کلبھوشن یادیو پر عالمی عدالت میں مقدمہ فروری 2019ء میں چلے گا
راقم کے سکول میں داروغہ والا لاہور کا بدر خلیل بھی پڑھتا تھا۔ نکلتا ہوا قد، گوری رنگت اور نیلی آنکھوں کے ساتھ وہ انگریز ہی لگتا جس نے لاہور کی دھوپ کھا کے اپنا رنگ تھوڑا جھلسا کر خود کو اور جاذب نظر بنا لیا تھا۔ لڑکا خوبصورت ہونے کے ساتھ ذہین بھی تھا اور پڑھائی میں تیز بھی تھا۔ اس سے اچھی دوستی تھی۔ کلاس میں ہم ساتھ ساتھ ہی بیٹھتے تھے اور گھر جانے کے لئے بس اسٹاپ تک اکٹھے ہی پیدل جاتے تھے جو اسکول سے بھی ذرا فاصلہ پر تھا۔
کالج کی زندگی میں رابطہ ختم ہوا تو پھر دوبارہ ملاقات کوئی 22 سال بعد اس وقت ہوئی جب استنبول ترکی میں اکسرے میدان (Aksaray Square) میں آوارہ گردی کرتے ہوئے وہ اچانک 2006ء میں ٹکرایا۔ جسم تھوڑا بھر چکا تھا مگر اتنے سالوں بعد بھی اس کے چہرے میں وہی تازگی تھی اور آنکھوں کی چمک بھی ویسی ہی تھی۔
اتنے سالوں بعد اسے مل کر مجھے کم حیرانگی ہوئی مگر یہ جان کر بہت ہی حیرانی ہوئی کہ اب وہ ترکی سے یونان بارڈر کراس کرانے والا سب سے مشہور انسانی اسمگلر ”ابو خلیل“ ہے اور جس کو یونان کی پولیس اور بارڈر فورسز ڈونڈھ رہی ہیں۔ خیر وہ زیادہ دیر نہیں رکا اور کچھ دیر باتیں کرکے جلدی چلا گیا۔ پچھلے سال اس کی یونان بارڈر پولیس کے ہاتھوں انسانی اسمگلنگ کے الزام میں گرفتاری کی خبر سن کر بہت دکھ ہوا۔
بدر خلیل لاہوری عرف ابو خلیل کی گرفتاری کے بعد میں یہی سوچ رہا ہوں کہ یونان والوں نے ترکی کو ابو خلیل کی مجرمانہ سرگرمیوں کا قصوروار کیوں قرار نہیں دیا اور اس کی شناخت کو صرف پاکستان تک ہی کیوں محدود رکھا۔ حالانکہ ترکی اور یونان کے درمیان قبرص کی ملکیت پر شدید اختلافات بھی ہیں۔ یونان نے ترکی کی یورپی یونین میں شمولیت کی مخالفت بھی کی ہے۔ یہ تو بہترین موقع تھا یونان کے لئے کہ وہ ابو خلیل کی گرفتاری پر ترکی کو اس کی مجرمانہ کارروائی وں کا سرپرست قرار دے کر خوب رگڑا لگاتا اور اسے شدید مطعون بھی کرتا۔ یونانی عوام بھی اس معاملہ پر ترکی مخالف جذبات کا اظہار کر سکتے تھے کیونکہ یہ ابو خلیل اور اس جیسوں کا کیا دھرا ہی ہے کہ یونانی جزیرہ و سرحدی شہر کاوس (Greek island of Chaos) کی جیلوں اور حراستی مراکز میں بھرے ہزاروں غیر قانونی تارکین وطن کو یونان لانے کا مرکزی کردار تھا اور ترکی کے شہر استنبول اور ازمیر میں بیٹھ کر ساری کارروائیاں کیا کرتا تھا۔
یونانی عوام سے مجھے اس رویہ کی توقع اس لئے تھی کہ پاکستان میں کچھ عناصر ایسے بہت بڑی تعداد میں موجود ہیں جو کلبھوشن یادیو نامی بھارتی دہشت گرد اور جاسوس کی دہشت گردیوں کا تعلق نہایت دیدہ دلیری سے ایران کے ساتھ جوڑتے ہیں۔ یہ عناصر ایک مخصوص سوچ کے پروردہ ہیں جو ہر حالت میں اپنے گروہ کی دہشت گردی اور دہشت گردی کے سرپرستوں کے نام واضح ہونے کے بعد کاؤنٹر اٹیک کے طور پر ایران کو ملوث کر کے اپنے متعصبانہ اور منافرانہ جذبات کو ٹھنڈک پہنچانا چاہتے ہیں۔
عالمی عدالت انصاف نے کلبھوشن یادیو کیس کی آئندہ برس 19 سے 25 فروری کی تاریخیں روزانہ کی سماعت کی بنیاد پر مقرر کی ہیں۔ اس سلسلہ میں بھارتی اعتراضات کے مقابلہ میں پاکستان کے دفتر خارجہ کی آفیسر ڈاکٹر فریحہ بگٹی نے 400 سے زیادہ صفحات پر مشتمل جواب الجواب کی دوسری قسط جمع کروائی ہے۔ ان تمام صفحات کی کسی ایک سطر میں بھی بھارتی دہشت گرد کلبھوشن کا ایران کی حکومت یا اس کے کسی ادارے سے کوئی تعلق ظاہر نہیں کیا گیا۔
البتہ کلبھوشن یادیو کے متعلق نئی دستاویزات میں ٹھوس شواہد اور اس کی جاسوسی کے متعلق اہم معلومات میں یہ ذکر کیا گیا ہے کہ کلبھوشن یادیو کے مبینہ ساتھی راکیش عرف رضوان کی گرفتاری کے لئے ایرانی اداروں نے بھرپور تعاون کیا البتہ راکیش تو کلبھوشن کی گرفتاری کی خبر سن کر ہی ایران سے بھارت رفوچکر ہو چکا تھا۔ چونکہ یہ معاملہ عالمی عدالت انصاف کا ہے لہذا یہ کاغذات انتہائی احتیاط سے تیار کیے گئے ہیں۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ دوست ممالک سے بھرپور مشاورت کر کے کلبھوشن کیس کی سماعت کے بعد ان دستاویزات کو جاری کر دیا جائے گا تاکہ بھارت کے مکروہ چہرے کو دنیا کے سامنے لایا جا سکے۔
دوسری طرف بھارتی میڈیا میں کلبھوشن یادیو کی گرفتاری کو انڈین ایجنسی را کی شدید ترین ناکامی قرار دیا جا رہا ہے۔ ایک معروف بھارتی جریدہ کے مطابق اگست 1968ء میں پیدا ہونے والا کلبھوشن یادیو بھارت کا نیوی افسر تھا اور اس نے حسین مبارک پٹیل کے نام سے بھارتی شہر پونا سے پاسپورٹ نمبر L9630722 بنوایا۔ کلبھوشن کے ساتھیوں نے جریدے کو بتایا ہے کہ کلبھوشن ڈیوٹی کے دوران اکثر غائب رہتا تھا جو کہ اس بات کے واضح اشارے تھے کہ وہ سرکار کے کسی کام میں ملوث ہے۔
کلبھوشن کے ساتھیوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس نے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے کر اپنا کاروبار شروع کیا ہوا تھا اور اپنے نیوی کے دوستوں کو یہی بتاتا تھا کہ وہ کام کے سلسلے میں ایران کا سفر کرتا رہتا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کلبھوشن دراصل ان دنوں ایران میں را کے ایک جاسوس راکیش رضوان سے معاملات کو سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ راکیش نے ہی کلبھوشن کی ملاقات تحریک طالبان پاکستان اور بلوچ علیحدگی پسندوں کے اس گروہ کے کچھ سرکردہ لوگوں سے کروائی تھی جو ڈاکٹر اللہ نذر اور لشکر جھنگوی سے منسلک تھے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق کلبھوشن اگرچہ نیوی افسر تھا اور سگنلز کے استعمال کا ماہر تھا مگر پھر بھی اسے الگ سے معلومات وصول اور ارسال کرنے کا تین (3) ماہ کا تربیتی کورس بھی کرایا گیا۔ را کے حکام کے مطابق کلبھوشن نے اس ساری تربیت کے باوجود بھی وہ کام کیا جس کا جاسوسی کی دنیا میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا اور وہ تھا موبائل فون پر پاکستان میں اپنے ذرائع سے بات چیت کرنا۔ یہ ایسی بے وقوفی تھی کہ کلبھوشن اپنی زبان میں بہاری اور مراٹھی لہجہ کی وجہ سے پاکستانی ایجنسیوں کی عقابی نظروں میں آ گیا اور انہوں نے اسے لشکر جھنگوی بلوچستان کے مضبوط گڑھ کے عین درمیان سے ڈھونڈ نکالا۔ بھارتی ایجنسی را کے ایک سابق سیکریٹری کے مطابق کلبھوشن اور اس کے افسر کے اناڑی پن کی اس انتہا کا نتیجہ انڈیا کو عالمی عدالت انصاف میں بھگتنا پڑے گا جہاں کلبھوشن کے بچ نکلنے کے کوئی چانسز نہیں ہیں۔


