بازخانی طرزِحیات:ایک جائزہ

جناب بی کے ماچھی کے افکارونظریات اورحیات وخدمات کااحاطہ ایک کالم میں ممکن نہیں‘سوہم ان کے ایک اجمالی سے جائزے کی روشنی میں اپنے مطلب پرآتے ہیں۔

یادش بخیر! ہمارے بچپن کے دور میں بازخان ماچھی نے کئی برس تک ہمارے ڈیرے پر ملازم کی حیثیت سے اپنی گراں قدر خدمات انجا م دیں۔ مویشیوں کی دیکھ بھال اور زمینداری کے چند امورآپ کے فرائض منصبی میں شامل تھے۔

بدقسمتی سے مرحوم کی طبیعت میں دیانتداری کا خاصا فقدان تھا ۔اہل ِدیہہ کے نزدیک اسی وصف کے طفیل وہ اپنے ان فرائض سے کما حقہ‘ عہدہ برآ ہونے سے قاصر رہے اور اسی بنا پر تاحیات عزت سے کوسوں دور رہے۔ جناب باز خان جہاں زندہ دل اور شوقین مزاج واقع ہوئے تھے‘ وہاں معاشرتی ناہمواریوں کے سبب بڑی حد تک شخصی آزادیوں سے محروم بھی تھے۔

غریب کی شخصیت میں ایک بڑا سقم یہ تھا کہ ان کے دل میں چودھری بننے کی بڑی تڑپ تھی۔ اپنے اس شوق کی تسکین کے لیے وہ سرعتِ اظہارکی بیماری میں مبتلا تھے ور اسی عارضے کے طفیل بلاناغہ دن میں کم از کم دو مرتبہ ہمارے دادا جان مرحوم سے ضرور بے عزت ہوتے۔

بے عزتی مذکور کی ایک بڑی وجہ مابین فریقین ملکہ ترنم نور جہاں کی شخصیت سے متعلق ”نظریاتی اختلاف ‘‘بھی تھی۔عصر کے وقت بی کے ماچھی کام کاج سے فارغ ہوتے ہی اپنی دل پشوری کرنے کا اہتمام شروع کر دیتے۔ وہ لوہے کے صندوق سے اپنے ذوق و شوق کا سامان برآمد کرتے‘جو انہوںنے ادھار سدھار اور اپنی مانگے تانگے کی خدا دادصلاحیتوں کے بل بوتے پر جمع کر رکھا تھا ۔

اس ”نازک موقع‘‘ پر باز خان نہا دھو کر اپنا بوسکی کا اکلوتا کُرتازیب تن کرتے اور بائیں ہاتھ میں بھاری بھرکم سنہری گھڑی باندھ کر آستین چڑھا لیتے۔ وہ سفید رنگ کی بڑی سی پگڑی اپنے سر کی زینت بنا کر اور پائوں میں زری کھسہ پہنے بیٹھک کے صحن میں داداجان کے پلنگ سے حتی المقدور فاصلے پر کسی چار پائی کواپنامسکن بنالیتے۔

بی کے ماچھی تکیے میں کہنی دیئے چارپائی پر نیم دراز ہو جاتے اورسبز ریشمی کپڑے کے غلاف میں ملبوس اپنا ریڈیو آن کر کے بائیں ہاتھ میں پکڑ لیتے۔ وہ اپنا ریڈیو اور گھڑی والا ہاتھ باضابطہ طور پر قدرے بلند رکھتے تاکہ اس پر آنے جانے والوں کی نظر پڑتی رہے ۔

یہی چند چیزیں آپ کی کل کائنات بھی تھیں اور ان کا تصورِ چودھراہٹ بھی انہی میں پنہاں تھا ۔ ایسے میں جب آپ کی سوچ کا اڑن کھٹولا انہیں چودھر ی کے درجے پر فائز کر چکا ہوتا‘ وہ ریڈیو پر بجنے والے نغموں پر وجدانی کیفیت میں سر دھنتے‘ رہگیروں کو جبراً جانکاری دیتے:”نور جہاں پئی گائوندی اے ‘‘۔( نور جہاں گا رہی ہے) ساتھ ہی اپنا تکیہ کلام بھی ضرور دہراتے :”نور جہاں ساڈی ہانڑیں اے‘‘۔ (نور جہاں میری ہم عمر ہے ) ۔

دادا جان جو تکیے سے ٹیک لگائے کنکھیوں سے بازخان کی حرکات و سکنات کا تنقیدی جائزہ لے رہے ہوتے‘اس فقرے سے ان کے دل پر چوٹ سی لگتی اور وہ تڑپ کر فرماتے: ”اوئے بے وقوفا ! نور جہاں تمہاری نہیں‘ میری ہم عمر ہے ‘‘۔

چونکہ جناب باز خان کو اپنی عزت قطعی عزیز نہیں تھی‘ لہٰذا وہ موقع کی نزاکت کا احساس کیے بغیر ان کی بات کی تردید کرتے ہوئے کہتے :”چودھری صاحب ! آپ بزرگ ہیں اور نور جہاں جوان بند ہ ہے‘ وہ آپ کی نہیں‘میری ہم عمر ہے ‘۔‘ عموماً یہ بحث طول نہ پکڑتی اور یہی جملہ ان کی چودھراہٹ کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوتا ۔

دادا حضور انہیں چند گالیوں سے نوازنے کے بعد دھاڑتے:” اوئے بازا‘ دفع ہو جا یہاں سے‘‘۔ دادا کے تلاطم خیز غصے کے آگے ٹھہرنا محال تھا‘ سو بی کے ماچھی نیویں نیوں ہوکر حویلی مویشیاں کی طرف نکل جاتے مگر اپنے اصولی مؤقف پر قائم رہتے ہوئے جانوروں کے آگے بھی اپنا دعویٰ داغ دیتے کہ نور جہاں ساڈی ہانڑیں اے ۔

البتہ کسی جانور کی جانب سے آپ کے دعوے کی تردید کا کوئی ریکارڈ دستیاب نہیں‘ کیونکہ حیوان کبھی کوئی احمقانہ بیان مستردنہیں کرتے۔ بیساکھ میں کہیں کہیں ڈھول کی تھاپ پر گندم کاٹنے کا رواج تھا ۔ ایسے میں کھیتوں میں کام کے دوران جب دور کہیں ڈھول پر چوب پڑتی تو باز خان کے ہاتھ سے درانتی گر جاتی اور بے اختیار”ہائے‘ ‘کہہ کران کے پائوں رقص کے لیے اٹھ جاتے ۔ ایسے مواقع پر بھی آپ کی درگت بننا معمول کا حصہ تھی۔

بازخانی ضابطہ حیات کے اس خاکے میں ہمیں اپنی گزشتہ حکومتوں کاعکس نظرآتاہے۔ وزرا کی فوجیں بیرونی قرضوں سے ”بوسکیاں‘ ‘پہن کر ڈنگ ٹپائو پالیسیاں بنا تی رہیںاورکل کی فکر سے آزاد مانگے تانگے کی پگڑیاں باندھے اپنی چودھراہٹ برقراررکھنے کی تگ و تاز میں مصروف رہیں ۔

ڈیم نہ بننے سے لاکھوں کیوبک فٹ پانی سمندر میں گر کر ضائع ہو تارہامگرہمارے منصوبہ ساز ملٹی نیشنل کمپنیوں کی مدد سے بجلی پوری کرنے کی سعی کرتے رہے ۔ ہم جدید سائنس وٹیکنالو جی کی بدولت قائم گلوبل ویلج سے حتی المقدور فاصلے پر اپنی ”ڈھوک‘‘ میں بیٹھے اسے اپنی جہالت کے زور پر فتح کرنے کی بڑھکیں مارتے رہے مگر روٹی ان سے مانگ کر کھاتے تھے ۔

ہم خسارے کے بجٹ بنا کر قرض کی مے پیتے تھے اور پھر ملک کو ایشین ٹائیگر بنانے کے خواب دیکھتے تھے۔ بازخان مانگے تانگے کی بوسکی اور کھسہ پہن کر دل ہی دل میں چودھری بنتا تھا اور ہم دنیا کے در‘در پر کاسئہ گدائی گھما کر اپنے تئیں خود کو اس دنیا کا امام سمجھتے تھے‘ جبکہ حقیقت میں بحیثیت ایک بد دیانت اور بھکاری قوم دنیا کی نظروں میں عزت سے کوسوں دور رہے ۔

برس ہابرس تک معیشت کی استواری کا ٹھیکہ آئی ایم ایف کو دے کر ہم پرائے ڈھولوں کی تھاپ پر رقصاںان کی فصلیں کاٹتے رہے۔ہمارے حکمران خودکوایٹمی طاقتوں کے”ہم عمر‘‘قراردیتے مگران چودھریوں کی طرف سے آنکھیں دکھانے پر نیویں ہوجاتے اوراہل وطن کے درمیان آکریہی دعویٰ داغ دیتے‘تاہم یہ شرمناک بازخانی طرزِحیات حالیہ تبدیلی سے پہلے کاہے۔

اب بازخان کی جگہ عمران خان کاسکہ چلتاہے۔اب تواللہ کے کرم سے ہمارے دن ایسے پھرے ہیںکہ مختصرترین کابینہ میں قرضے کی بوسکیاںنظرآتی ہیں‘نہ مانگے تانگے کی پگڑیاں۔ڈنگ ٹپائوپالیسیاں ہیں‘نہ کوئی کشکول۔اب ہمیں آئی ایم ایف کی محتاجی ہے‘ نہ پرائے ڈھولوں کی تھاپ پران کی فصلیں کاٹنے کی حاجت۔چندے سے ڈیم بھی بن رہے ہیں اورہم ایک آزاداور خودمختار ریاست کی حیثیت سے اپناوجودبھی منواچکے ہیں۔

عمران خان اپوزیشن میں رہ کرہمیشہ کرپٹ اورنااہل حکمرانوں کو بازخانی طرزحیات ترک کرکے یہی خاندانی طرزحیات اپنانے کی تلقین کرتے رہے ہیں ۔اگلے روز انہوں نے کابینہ کے اجلاس میںگزشتہ دس سالوں کے دوران قرضوں کاحجم 6ہزارارب روپے سے 30ہزارارب روپے تک بڑھنے پرتشویش کااظہار کرتے ہوئے وزارت خزانہ کوہدایت کی وہ ان قرضوں کی وجوہات اوران کے استعمال کاتفصیلی جائزہ پیش کرے ۔

جہاں تک موجودہ حکومت کی طرف سے قرض کے لیے آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کا تعلق ہے تواسے بازخانی ہرگزنہیں کہاجاسکتا‘البتہ ڈوبتی معیشت کوسہارا دینے کی خاطربازخانی ضابطۂ حیات سے استفادہ کرنے کی سعی قراردینے میں کوئی حرج نہیں۔

شایدڈالرکے ارفع مقام تک پہنچنے اور قرضوں کی ادائیگی میں مشکلات پرحکومت نے سمجھ لیاہے کہ اس زہرکاتریاق یہی زہرہے ۔جناب وزیراعظم نے بجاطورپرکہاہے کہ آئی ا یم ایف کے پاس جانے سے قیامت نہیں آگئی۔ انہوں نے یہ بھی کہاہے کہ ہم دس مرتبہ سوچیں گے کہ اگر قرضہ لیں تواس سے اتناپیسہ اکھٹاہوسکے کہ قرضوں کی اقساط کی ادائیگی کی جاسکے۔

ہماراخیال ہے کہ اگرایساممکن ہوسکاتوواہ بھلا‘ورنہ نئے قرضوں سے چاردن اورہماری چودھراہٹ تو برقراررہ ہی سکے گی۔بدنام زمانہ لوٹی گئی قومی دولت واپس آگئی تواچھی بات ہے‘ورنہ دنیاکی امامت کے اخراجات پورے کرنے کے لیے بی۔کے ماچھی کے افکارونظریات اورحیات وخدمات تومشعل راہ ہیں ہی۔پریشانی کاہے کی؟

بشکریہ دنیا

Comments - User is solely responsible for his/her words