فوجی رنگروٹ اور ہارون الرشید کا فون

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فوج میں رنگروٹوں کو ابتدائی تربیتی مراحل میں اور دیگر مواقع پر نشانہ بازی کی مشق کروائی جاتی ہے۔ فائرنگ رینجز پہ عموماً ٹارگٹ بورڈز پہ پیپرز چسپاں کئے جاتے ہیں، جس پہ “بلز آئی’ کا اندرونی دائرہ اور اس کے گرد لائنوں کے ذریعے دائرے بنے ہوتے ہیں۔ جس جوان کے سارے نشانے ٹارگٹ کے بیرونی دائرے سے بھی باہر لگیں تو اس کے لیے “واش آوٹ” کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ یعنی وہ جوان نشانہ بازی میں بالکل ہی ‘فارغ’ ہے۔ جتنی گولیاں فائر کی جاتی ہیں، ان کے شیل اکٹھے کر کے آرمری میں واپس جمع کرائے جاتے ہیں۔ عام بول چال میں جسے ایمٹی (empty) یا ‘کھوکھا’ کہا جاتا ہے۔

موضوع سے ہٹ کر یہاں ایک ضمنی بات بھی کرنا چاہوں گا، کہ جہاں ہم فوج کے سیاسی کردار اور چند بڑے مگر مچھوں کی بد عنوانیوں اور اختیارات کے نا جائز استعمال پہ تنقید کرتے ہیں، وہاں یہ اعتراف کرنے میں بھی کوئی عار نہیں کہ فوج میں نچلی سطح پہ افسروں اور جوانوں پہ چیک اینڈ بیلنس کا ایک شان دار نظام نافذ ہے۔ فائر ہو جانے والی گولی کے خالی کھوکھے سے لے کر میزائلوں اور ٹریفک حوال دار کی موٹر سائیکل سے ہوائی جہازوں تک ہر اثاثے کی بہترین دیکھ بھال اور لکھت پڑھت کی جاتی ہے۔

غفلت کی وجہ سے نقصان ہونے یا سہو استعمال پہ سزا و جزا کا ایک خودکار نظام موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں افواج پاکستان جدید ٹیکنالوجی اور مشینری کو استعمال میں لاتے ہیں، وہاں مینٹیننس کے اسی بہترین نظام کی وجہ سے پچاس پچاس سال پرانے ٹرک آج بھی قابل استعمال ہیں۔

پاک فوج کے جوان، جونیئر افسر اور ان کے خاندان بھی ہم عام لوگوں کی طرح کمیٹیاں ڈال کر چھوٹی چھوٹی خوشیاں خریدتے ہیں اور قرض لے کر خوشی و غم کے مواقع نبھاتے ہیں۔ سبھی کے خاندان کینٹ میں ان کے ساتھ رہتے ہیں نا ہر فوجی کے بچے اے پی ایس اسکولوں کالجوں میں پڑھتے ہیں۔ جوانوں اور افسروں کی ایک بڑی تعداد سالوں اور کبھی عشروں سرکاری کوارٹر یا ٹو بیڈ روم بنگلا الاٹ ہونے کا انتظار کرتی ہے۔

یہی افسر اور جوان اپنی نوبیاہتا دُلہنوں اور کلکاریاں مارتے بچوں سے ہزاروں میل دور نا صرف فرائض انجام دیتے ہیں بلکہ وقت پڑنے پر اپنی جانوں کا نذرانہ بھی پیش کرتے ہیں۔ اب اگر چند جرنیل دفاعی بجٹ کا ایکسٹرنل آڈٹ نہیں ہونے دیتے، سیاسی مداخلت و الیکشن انجینئرنگ کرتے ہیں یا مارشل لاء نافذ کر دیتے ہیں تو آواز ان کے خلاف بلند کی جاتی ہے۔ ورنہ بطور ادارہ فوج کے وجود سے اختلاف ہے نا اس کی ضرورت و اہمیت سے انکار۔

وہ دوست جو مارشل لا کے دوران یا عام حالات میں خوف و مصلحت کی وجہ سے ان جرنیلوں کے خلاف آواز بلند نہیں کر سکتے وہ براہ کرم چیک پوسٹوں پہ کھڑے گرم و سرد موسم کا مقابلہ کرتے جوانوں سے سول سپر میسی کی جنگ بھی نا لڑیں، تو کوئی حرج نہیں کہ فوج میں کمانڈ اینڈ کنٹرول کے زبردست سسٹم کی وجہ سے (جو فوج کی بقا کے لیے ضروری ہوتا ہے) نچلی سطح پہ معلومات صرف Need to Know Basis پہ فراہم کی جاتی ہیں۔ آپریشن جبرالٹر سے لے کر کارگل محاذ تک ان سپوتوں نے ہر حکم کو جہاد اور وطن کا مفاد سمجھ کر ہی جان کی بازی لگائی۔

یہاں سادہ لوح عوام کی اکثریت کو بھی ہوش کے ناخن لینے کی ضرورت ہے جو جوانوں اور جونیئر افسروں کی شہادتوں یا بریدہ جسموں کی گلوریفائیڈ تشہیر سے اس قدر ‘مسمرائیز’ ہوتے ہیں کہ سیاسی و عدالتی مداخلت اور آئین شکنی کو بھی ان کا حق اور اپنی قسمت سمجھ کے قبول کر لیتے ہیں

اچھا تو بات ہو رہی تھی فائرنگ رینج کی۔ فوج میں میرے جیسے ‘کوجے’ سپاہیوں کے لیے ٹرینر حوال دار ایک طنزیہ محاورہ استعمال کرتے ہیں کہ “ہک رنگ کالا تے شکل بھیڑی، دوجا واش آوٹ تے اُتوں کھوکھا ای گم” (مطلب ایک تو رنگ کالا اور شکل بری، دوسرا ایک نشانہ بھی ٹھیک نہیں لگا اور اوپر سے کھوکھا بھی گم)۔

آج یہ محاورہ قبلہ ہارون الرشید کی گدھے کا بچہ والی وائرل کال سے یاد آیا۔ ایک تو ساری زندگی مصنوعی بلندی پہ بیٹھ کر قرآن و حدیث اور جنید بغدادی ایسے اولیا کے حوالے دے دے کر لکھنے والے یہ حضرت جھوٹی شان استغنا دکھاتے رہے۔ پھر اپنا وزن ہمیشہ عوام دشمن غیر جمہوری قوتوں کے پلڑے میں ڈالا اور کمال ہشیاری سے عوام کو جمہوریت سے بدظن کرتے رہے۔ حاکم جرنیلوں کو شب بیدار دانشور یا چین اسموکر مفکر پورٹریٹ کرنا اور درویشان عصر کی مارکیٹنگ کرنا موصوف کا محبوب مشغلہ تھا تو دوسری طرف عوامی نمایندوں پہ کیچڑ اچھالنے اور شکوک و شبہات پیدا کرنے کا کوئی موقع بھی ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔

دعا ہے کہ ایسا ہر صحافی اپنی زندگی میں ہی بے نقاب ہو اور انجام کو پہنچے جو دامے درمے سخنے سیاسی حکومتوں، انتظامیہ اور فوج میں اثر و رسوخ کی بنا پر سفارش، مداخلت اور مفاد حاصل کرنے کو معیوب سمجھنا تو درکنار الٹا اپنا حق سمجھتا ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •