اِک جاں پروری اور‘ڈئیوس، علی اور دیا ’


اس ناول میں سارہ کا کردار ایسی جرنلسٹ کا ہے جو کم از کم ہمارے موجودہ صحافتی نظام میں تو بالکل نہیں چل سکتا یعنی وہ میگزین کی پالیسی سے زیادہ سماجی روایات کے عالمی تناظر میں ذہنی ترقی کو وسعت دینا اہم سمجھتی ہے اور کہتی ہے کہ قاری تو مصالحہ دار فیچر پسند کرتا ہے لیکن مجھے قاری کو دیکھ کر فیچر نہیں دینا بلکہ ثقافتی رویوں کے تنزل کو سنبھالنے والا کچھ لکھنا ہے (ص 10)، وہ ایسی جرنلسٹ ہے جو حقیقت میں یہ سوچتی ہے کہ ہماری سوسائٹی سے عدل و انصاف عنقا ہوتا جا رہا ہے اور میڈیا کے معاشی مفادات اور ذاتی عناد حقیقی قومی مفاد اور انفرادی اخلاص و سچائی پر حاوی ہو رہے ہیں(ص234)، وہ ایسی جرنلسٹ ہے جس کے خیال میں ہمارے پورے نظام کو ناکام کرنے والی نسل عالم ِ نزع میں ہے اوروقت کی ڈوریں نئی نسل کے ہاتھ میں ہےسو وہ خود کو ریاست قرار دیتے ہوئے پورےنظام سے بھڑ جانے اور مرجانے کے لیے تیار ہے اور کہتی ہے کہ میں بے انصافی نہیں ہونے دوں گی(ص 239)، آج کے سیٹھ کے میڈیا میں ایسے جرنلسٹ بھلا کہاں ملتے ہی، اگرکچھ سارہ جیسے جذباتی یا سرپھرے اس فیلڈ میں آبھی جائیں تو یہاں ٹھہر نہیں پاتے یا پھر بہت جلداِس بلیک میلر اور بکاؤ نظام کا کل پرزہ بن جاتے ہیں۔

ہمیں تو یہ کردار اور اس سے جڑے تمام واقعات اور مکالمے بہت مصنوعی سے لگے جو ‘ڈئیوس، علی اور دیا’ کی عمارت کھڑی کرنے کے لیے سہارے کے طور پر گھڑے گئے ہیں۔ خاص طور پر آخری باب جو تقریباً پورے کا پورا سارہ اور نعمان کے درمیان گفتگو پر مبنی ہے ناول کو فنی اعتبار سے کمزور کر دیتا ہے۔ یہ بات ہماری سمجھ سے باہر ہے کہ دو سو صفحات پر ایک کہانی بیان کرنے کے بعد اُس کہانی پر تبصرہ کرنے اور قارئین کو اُس کا موضوع سمجھانےکی ضرورت ناول نگار کو کیوں پیش آئی۔ غالباً انھیں یقین تھا کہ جب تک وہ خود یہ نہیں بتائیں گے کہ ہماری صبح کی ابتدا مہکتے، بل کھاتے، مسکراتے لمحوں سے ہوتی ہے اور شام ہونے تک ہمارے دامن میں دکھوں کی پوٹلی کے سوا کچھ نہیں ہوتا لیکن اس کے باوجود دن بھر کی تھکاوٹ اور روح کے زخم بے تابی سے اگلی صبح کی تمنا رکھتے ہیں (ص228۔ 229) اور یہ کہ علی کمال کو ہسپتال پہنچانے والا جیسمین اینڈ روز گارڈن کا سٹاف افسر کہتا ہے کہ علی ایک سینئر سول سرونٹ تھا اور اخبارات میں بھی لکھتا تھا اور حکومتی ظلم و جبر سے وہ نفسیاتی مریض بن چکا تھا(235)، تب تک اُن کے ناول کے قارئین کو یہ بات سمجھ نہیں آئے گی۔

متذکرہ آخری باب کے مکالموں سے چند مثالیں ملاحظہ کیجیے۔ ناول نگار نے پہلے سولہ سترہ ابواب کی کہانی کا موضوع خود ہی ان مکالموں میں ایسے سمجھا دیا ہے کہ ہمیں اور آپ کو دماغ پر ذرا سا بھی زور دینے کی ضرورت پیش نہیں آتی:
‘‘کیا سماجی چلن اور رسم و رواج انسان کو اس قدر پابند کر دیتے ہیں کہ وہ اپنے اندر کے جذبات کے اظہار کے لیے کسی دوسرے سماج کی طرف دیکھے؟کیا علی ہم میں سے نہیں تھا یا ہم علی سے الگ تھے؟کیا یہی وجہ ہے کہ ہم اپنے ملک کورفتہ رفتہ کھو رہے ہیں۔ علی کے ابا کتنا سچ کہتے تھے۔ یہی آزادی تھی جس کا ارمان تھا؟’’(ص236)

‘‘اُس کا قصور صرف یہ ہے کہ وہ خبر بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ وہ اپنے خیالات میں شفاف ہے۔ اس کا کردار بے داغ ہے۔ غضب یہ ہوا کہ وہ تندرست ہو رہا تھا۔ وہ شیزو فرینیا سے نکل رہا تھا۔ اس کے پاس اتنا کچھ ہے کہ وہ لوگوں کی توجہ بانٹ سکتاہے۔ وہ اثر انداز ہو سکتا ہے۔ وہ عوامی رائےبدل سکتا ہے لیکن کون اسے ایسا کرنے دے گا؟نظام کا ‘سٹیٹس کو ’بدلنے کے لیےاس ملک کی اشرافیہ کے وہ مقاصد خاک نہ ہو جائیں گے جس کی بنیاد پر انھوں نے عنانِ مملکت سنبھال رکھی ہے۔ ’’(ص238)

‘‘وہ اکیلا ناکام نہیں ہواہے، اس کے ساتھ پورا سماج جو توازن اور امن و سکون کا متلاشی تھا، سب ناکام ہو گئے ہیں۔ وہ آدرش ناکام ہوئے ہیں، جس کی آرزو ہماری روحوں میں آزادی کے نام پر اتری تھی۔ ’’(ص239)

‘‘یہ صرف جھوٹ، نفرت اور ذاتی مالی مفادات کی اٹھی ہوئی دیواریں، منافقت کے محل ہیں، جن کی تعمیر کبھی مکمل نہیں ہوا کرتی۔ قومیں ایسی نہیں بنتیں۔۔۔ اب یہ طے ہو رہا ہے کہ ہمارے سماج میں، ہمارے اندر میں سچائی اور عدل کا عنصر ناپید ہے، ہم آج بھی وہیں کھڑے ہیں جہاں سے سفر شروع ہوا تھا۔ کیا یہ ناکامی پورے نظام کی نہیں ہے۔ ’’(ص240)

انہی سب باتوں کی بنیاد پر اس ناول کا تانا بانا بُنا گیا ہے۔ علی کمال تقسیم ِ ہند کے بعد اُس دھرتی پر پیدا ہوا جس کے بارے میں اُس کے والد کا خیال تھا کہ آزادی کے سراب کے سوا یہاں کچھ نہیں۔ ناول کی پوری کہانی میں انسانی آزادی کے سلب ہونے کی جھلکیاں کڑی در کڑی موجود ہیں۔ ‘ڈئیوس، علی اور دیا ’انسانی وجود کی فطری آزادی کو ہمارے سماجی نظام، معاشرتی رویوں اور مذہبی عقیدے کی لاٹھی سے ٹکڑے ٹکڑے ہو تے ہوئے دکھاتا ہے۔ یہاں زندگی کرنے کے لیے طاقت کی لاٹھی ضروری ہےجس کی عدم دستیابی کی صورت میں تسلسل کے ساتھ جھوٹ بولنے کی قوت، مذہبی شکل یا اعلیٰ سطحی منافقت میں سے کوئی ایک کوالیفکیشن بھی آپ رکھتے ہیں تو کام چل سکتا گا۔
زیرِ نظر کہانی میں علی کمال کا بچپن بہت جلدی گزر جاتا ہے۔ ناول نگار اُس کے بچپن کے تمام واقعات کا آئندہ زندگی سے کوئی خاص ربط قائم کرنے میں ناکام ہیں ماسوائے اُس لڑکی امبر سے ایک ملاقات کے، جو بعد میں علی کمال کی بیوی بنتی ہے لیکن جیون ساتھی کبھی بھی نہیں بن پاتی کہ اُسے کسی اور سے محبت تھی۔ علی کمال سوشلسٹ خیالات کا مالک ہے۔ مذہبی معاملات اُس کے لیے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے۔ اُس کی زندگی کی پہلی بہار شانی تھی جو اُس کے ہمسایے میں رہتی تھی اور اُس میں بہت زیادہ دلچسپی رکھتی تھی۔ پہلی دفعہ جب جوانی کے دنوں کے ایک منظر میں علی شانی کی گرم سانسیں اپنے اندر سمو رہا ہوتا ہے تو شانی کی چھوٹی بہن آجاتی ہے اور یوں ناول نگار اپنے اس مرکزی کردار کی کنواریت بچا لیتے ہیں، علی کہتا ہے کہ ‘‘اس کے بعد پھر کبھی میں نے دانستہ شانی کو تنہائی میسر نہیں ہونے دی، مجھے معلوم ہو چکا تھا کہ اگر اُس وقت شانی کی چھوٹی بہن کمرے میں نہ آتی تو ہم دونوں پر کئی ایک طوفان گزر جاتے، جس کا ازالہ رہتی دنیا تک ہم میں سے کوئی بھی نہ دے پاتا۔ ’’(ص56)

باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5

خاور نوازش

ڈاکٹر خاور نوازش بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے شعبہ اُردو میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔ اُردو اور ہندی تنازع کی سیاسی، سماجی اور لسانی جہات پر تحقیقی مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی۔ اُن کے پہلی کتاب‘ مشاہیرِ ادب: خارزارِ سیاست میں’ 2012ء میں مقتدرہ قومی زبان اسلام آباد سے شائع ہوئی۔ ‘ادب زندگی اور سیاست: نظری مباحث’ کے عنوان سے اُن کی دوسری کتاب مثال پبلشرز فیصل آباد نےشائع کی۔ اُردو کی ادبی تحقیق و تنقید کے ساتھ ساتھ عصری سیاست اور سماجی موضوعات پر بھی لکھتے ہیں۔ اُن سے اس میل ایڈریس پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔[khawarnawazish@bzu.edu.pk]

khawar-nawazish has 5 posts and counting.See all posts by khawar-nawazish