ناطق نامہ، فقیر کی بستی اور خوابوں کا نگر

عرفان صدیقی کا شعر ہے : اٹھو یہ منظرِ شب دیکھنے کے لیے کہ نیند شرط نہیں خواب دیکھنے کے لیے ہمارا بھی یہی ماننا ہے کہ خواب دیکھنے کے لیے نیند کی حالت میں جانا ضروری نہیں۔ خواب اصل میں وہی ہوتے ہیں جو کھلی آنکھوں اور جاگے دماغ سے دیکھے جائیں اور جن…

Read more

اِک جاں پروری اور ’ڈئیوس، علی اور دیا‘

آج کل ہمارا فراغت کا زمانہ ہے سوزیادہ وقت مہمان نما دوستوں کے ساتھ ہی گزرتا ہے اُس پنجابی کہاوت کے مصداق کہ ”ویھلی رَن پرونیاں جوگی“۔ دفتری اوقات میں بھی کچھ ایسے دوست ملنے آ جاتے ہیں جن کے صدورِ شعبہ نے اُن کے ورک لوڈ کی تین کلاسوں میں سے ایک صبح آٹھ…

Read more

پروفیسر ڈاکٹر خیرات محمد ابن ِرسا اور ناممکنات کا ممکن

معلوم نہیں یہ کوئی منیو فیچکرنگ فالٹ ہے یا وقت گزرنے کے ساتھ جنم لینے والا مسئلہ ہے کہ میراذہن چلتے چلتے کسی ایک نکتے پر اٹک جائے تو پھر کئی کئی گھنٹے اور بعض اوقات کئی کئی دن اُسی نکتے کے گرد گھومتا رہتا ہے۔ سوچتا رہتا ہوں اور ڈھونڈتا رہتا ہوں کہ اس…

Read more

اِک جاں پروری اور‘ڈئیوس، علی اور دیا ’

آج کل ہمارا فراغت کا زمانہ ہے سو زیادہ وقت مہمان نما دوستوں کے ساتھ ہی گزرتا ہے۔ اُس پنجابی کہاوت کے مصداق کہ‘‘ویھلی رَن پرونیاں جوگی’’۔ دفتری اوقات میں بھی کچھ ایسے دوست ملنے آ جاتے ہیں جن کے صدورِ شعبہ نے اُن کے ورک لوڈ کی تین کلاسوں میں سے ایک صبح آٹھ…

Read more

 ‘بھاگ بھری‘ کا ساون آئے، ساون جائے

ہمارے اردو والے بڑی ریاضت کے بعد جن تین الفاظ کی معنویت ختم کرنے میں تقریباً کامیاب ہوچکے ہیں وہ ‘نامور‘، ‘معروف‘ اور ‘عظیم‘ ہیں۔ میں کسی بھی ایسے شخص یا اس کے کارہائے نمایاں کو ہاتھ ڈالنے میں احتیاط لازم سمجھتا ہوں جس کے معاصرین اس کے نام کے ساتھ ان تینوں میں سے…

Read more