ناطق نامہ، فقیر کی بستی اور خوابوں کا نگر
عرفان صدیقی کا شعر ہے : اٹھو یہ منظرِ شب دیکھنے کے لیے کہ نیند شرط نہیں خواب دیکھنے کے لیے ہمارا بھی یہی ماننا ہے کہ خواب دیکھنے کے لیے نیند کی حالت میں جانا ضروری نہیں۔ خواب اصل میں وہی ہوتے ہیں جو کھلی آنکھوں اور جاگے دماغ سے دیکھے جائیں اور جن کی تعبیر کے لیے ہم سرگرداں بھی ہوں۔ اِسی لیے نیند کی حالت میں کی گئی سیروں، اٹھائی گئی راحتوں اور مختلف ہستیوں کی مستیوں
Read more
