اِک جاں پروری اور‘ڈئیوس، علی اور دیا ’


اس سیچویشن پر تبصرہ کچھ دیر کے لیے موقوف رکھتے ہوئے آگے چلتے ہیں۔ بھٹو کے پہلے دور میں علی اپنے ایک بہت قریبی دوست خان جمال کے مشورے پر یورپ جانے کا پروگرام بنا تا ہے اور وہ دونوں پاکستان سے براستہ افغانستان، ایران اور ترکی، یونان میں داخل ہوتے ہیں۔ یہ سفر اس ناول کے چالیس پنتالیس صفحات ہڑپ کر جاتا ہے۔ ان صفحات کا مجموعی تاثر ایک سفرنامے کا ہے۔ کہانی اور اس کے موضوع سے براہِ راست متعلق کچھ بھی نہیں ماسوائے جینی کے۔ علی اور جینی کی ملاقات استنبول سے پیرس جانے والی اورینٹ ایکسپریس کے ایک کمپارٹمنٹ میں ہوئی، کچھ دیر کے بعد ڈائنگ کار میں وہ کھانے کی میز پر اکٹھے ہوئے۔ اس منظر میں علی اور جینی کی دلچسپی ایک دوسرے میں بڑھ رہی ہے، بئیر اور سیگریٹ کی ڈور پر چلتے ہوئے وہ گفتگو کا آغاز کرتے ہیں اور چند لمحوں کے بعد ‘‘ڈبل آن دی راکس’’کے ایک ایک پیگ کے ساتھ ہی علی کو جینی کی آنکھوں سے اپنے لیے اُمڈتا ہوا پیار نظر آنے لگتا ہےجس کا آخری پڑاؤ وہی منزل ہے جہاں سے علی اس سے پہلے شانی کے ساتھ ہو کر واپس بھاگ آیا تھا۔

جینی کے جانے کے بعد علی خود کلامی میں کہتا ہے‘‘پہلے میں نے منزل کے انتظار میں شانی کھو دی، اب زندگی کی ایک ہمسفر جینی کی صورت میں ملی تو میں نے خود ساختہ خوابوں کی تعبیر میں اسے بھی کھو دیا، کیا میں نے ایک بار پھر اپنی جنت گنوا دی؟’’(ص 100) اس سیچویشن پر بھی تبصرہ کچھ دیر کے لیے موقوف رکھتے ہوئے آگے چلتے ہیں کہ جب یونان میں علی کی ملاقات اپنی زندگی کی اُس تیسری لڑکی دِیاسے ہوتی ہےجو وہ اپنے دراز قد، بھرے بھرے جسم اور تیکھے نقوش کی وجہ سے اُسے پنجابی جٹی لگتی ہے۔ دِیا کے ساتھ علی کی دِلی قربت بڑھتی جاتی ہے، دونوں ایک دوسرے کے عشق میں مبتلا ہو چکے ہیں، قربت جب بڑھتے بڑھتے یہاں تک آ گئی کہ علی نے تیسری بار ایک لڑکی کی گرم سانسوں اور تپتے ہونٹوں کو محسوس کیا تو ایک دفعہ پھر اُس کے دماغ میں جھماکا ساہوا اور یہ محسوس کرکے وہ پیچھے ہٹ گیا کہ ‘‘میں ان طوفانوں کا مقابلہ نہیں کر سکوں گا، میں بہت کمزور ہوں، مجھے خوف لاحق ہونے لگا کہ اگر میں نے ایک بار اس بندھن کو جوڑ لیا تو میری واپسی ناممکن ہو جائے گی۔ پرندوں کی اڑان میں ڈار سے بچھڑ جانے کا احتمال میرے لیے سوہانِ روح تھا۔ ’’(ص161)

صاحبو !ان تینوں سیچویشنز کا پہلا تاثر تو یہ تھا کہ ناول نگار بہت ظالم ہے۔ کہانی کا مرکزی کردار ہمیشہ کہانی کار کو سب سے زیادہ عزیز ہوتا ہے۔ بھلا اپنے سب سے عزیز کردارکے ساتھ ایسا کون کرتا ہے کہ ‘مقامِ اعترافِ شکست’تک پہنچا کر واپس بُلا لے( آن اے لائیٹر نوٹ)۔
مصنف ان تینوں سیچویشنز کو فکشنائز کرنے میں بھی ذرا سا زیادہ آگے نکل گئے ہیں۔ علی کی زندگی میں آنے والی تینوں لڑکیوں کے نمودار ہونے کا وقفہ بہت کم ہے اوراُن سے محبت میں گرفتار ہونے کی رفتار مستنصر حسین تارڈ کے کرداروں کی طرح بہت تیز ہے۔ تاہم اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ انسانی وجود میں محبت کی بے پناہ شکتی موجود ہے لیکن اس شکتی کے سر پر جب وجود سوار ہو جائے تو زندگی صحرا نظر آتی ہے۔ علی کا وجود اُس کے ہر جذبےسے بڑا ہے۔ جب دِیا کہتی ہے کہ اپنے من میں کیوں نہیں جھانکتے تو وہ کہتا ہے:‘‘من میں تو تب جھانکوں جب منزل کا نشان نظر آئے۔ ابھی یہ سب کچھ بہت دُور ہے۔ دِیا۔۔۔ میری منزل میرے وہ آدرش ہیں، میری تعلیم، میرا کیرئیر اور پھر ایسے حالات کو جنم دینا جس میں میرا وجود دنیا کے لیے ایک رول ماڈل ہو۔ فی الحال تو میں اپنے مستقبل کو ملک کے ان بچوں کےساتھ دیکھتا ہوں، جنھیں ایک وقت کی روٹی میسر نہیں۔ جنھیں صحت و تعلیم سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ ہم ابھی جدو جہد کے عہد سے گزر رہے ہیں۔ ایک انقلاب سوچ اور تبدیلی ہی ان سب کا مقدر سنوارے گی، ایسے حالات میں تم خود سوچو میں کسی امکانی بوجھ کو کیسے پال سکتا ہوں بھلا؟ ’’(ص160)

علی کمال جس زمانے میں یہ سب بول رہا ہے وہ آج سے لگ بھگ چالیس پنتالیس برس پہلے کا دور ہے۔ بھٹو دور میں علی کمال ایسے بہت سے نوجوانوں کو انقلابی سوچ مقدر سنوارنے کا زینہ لگتی تھی، اپنے وجود کودنیا کے لیے رول ماڈل بنانے کا خواب ہی اُن کے لیے سب کچھ تھا اوراُس سب کے بیچ کہیں ایک مضبوط خاندانی نظام نے بھی اُس نسل کو جکڑا ہوا تھا۔ گویا یہ دوطرفہ گرفت تھی، اپنے آدرشوں کی بھی اور اُس نظام کی بھی جس کا علی حصہ تھا۔ وہ دونوں سے ہی نہ بھاگ سکتا تھا۔ شانی، جینی اور دِیا تینوں کے قریب جاتے ہی اُسے لگتا ہے کہ اُس نے جو نہی اڑان بھری وہ اپنی ڈار سے بچھڑ جائے گا۔ تینوں سیچویشنز پر غور کرنے سے محسوس ہوتا ہے کہ ہم سب ستر سال گزرنے کے بعد بھی اپنے اجتماعی لاشعور میں موجود ‘ ڈار سے بچھڑنے کا خوف ’ مٹا نہیں سکے۔ ہمارے داخل کو ہمارے خارج کے لگائے ہوئے زخم اتنے گہرے ہیں کہ اُن کا درد دو نسلوں کو ہڑپ کر چکا ہےاور تیسری اُسے بھگت رہی ہے۔ ہمارے بڑوں نے گذشتہ صدی کے وسط میں ایک اڑان بھری تھی اور اُس میں اپنی ڈار سے ایسے بچھڑے کہ اپنے آپ سے ہی بچھڑ گئے۔ منزل ملی نہ اپنی ڈار کا ساتھ واپس ملا۔ ہم سب کسی نہ کسی سطح پر اڑان بھرنے سےخوف زدہ رہتے ہیں۔

ہم میں سے اکثر لوگ اپنے جذبات کے کراس روڈز پر کھڑے ہوتے ہیں۔ ہم حال سے زیادہ مستقبل میں جیتے ہیں۔ ہمیں دوڑنے سے پہلے گرنے کا خوف وراثت میں ملتا ہے۔ علی کمال کا بھی اس خوف نے زندگی بھر پیچھا کیا۔ وہ اپنے جذباتی معاملات میں ادھورےپن کی کسک ساری عمر کاندھوں پر اٹھائے چلتا رہا۔ دِیا کی محبت سے بھاگ کر واپس پاکستان آنے کے بعدعلی کمال نے ماس کمیونی کیشن میں ماسٹرزکیا، اخبارات میں کالم لکھے، سی ایس ایس کیا اور اُس نظام کے ساتھ جڑ گیا جس کا اصلاً وہ کبھی بھی حصہ نہ تھا نہ بن سکا۔ سی ایس پی آفیسر ہونے کے باوجود لوگوں کے ساتھ بڑے عوامی انداز میں میل جول رکھتا تھا اور اپنے آدرشوں کو بھُولنے کے لیے تیار نہ تھا حالانکہ ماسٹرز کے بعد وہ ایک دفعہ مارشل لائی جبر کا نشانہ بنتے ہوئے جیل بھی جا چکا تھاجب اپنی ایک اُستاد میڈم جہاں آرا کی یونیورسٹی سے برطرفی کے خلاف کالم لکھا تھا۔ ناول کے اس حصے میں علی کمال کے پاس وہ سب تھا جس کی کوئی بھی عام پاکستانی نوجوان خواہش کر سکتا ہے لیکن اس کا وجود خالی تھا۔

باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5

خاور نوازش

ڈاکٹر خاور نوازش بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے شعبہ اُردو میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔ اُردو اور ہندی تنازع کی سیاسی، سماجی اور لسانی جہات پر تحقیقی مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی۔ اُن کے پہلی کتاب‘ مشاہیرِ ادب: خارزارِ سیاست میں’ 2012ء میں مقتدرہ قومی زبان اسلام آباد سے شائع ہوئی۔ ‘ادب زندگی اور سیاست: نظری مباحث’ کے عنوان سے اُن کی دوسری کتاب مثال پبلشرز فیصل آباد نےشائع کی۔ اُردو کی ادبی تحقیق و تنقید کے ساتھ ساتھ عصری سیاست اور سماجی موضوعات پر بھی لکھتے ہیں۔ اُن سے اس میل ایڈریس پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔[khawarnawazish@bzu.edu.pk]

khawar-nawazish has 5 posts and counting.See all posts by khawar-nawazish