جی ٹی روڈ کی بغاوت


گرینڈ ٹرنک روڈ، شاہ راہ بابری، سڑک اعظم، جس کے ایک حصّے کو شیر شاہ سوری نے نئے سرے سے تعمیر کروایا۔ بّرصغیر کی طویل ترین اور قدیم ترین تجارتی راہ گزر ہے۔ جنوبی ایشیا اور وسط ایشیا کو ملانے والی 2500 کلومیٹر لمبی سڑک۔ ہر دور میں عسکری، سیاسی اور معاشی اہمیت کی حامل رہی ہے۔ اگر یہ شاہ راہ نہ ہوتی تو بابر بادشاہ کا توپ خانہ بھی پانی پت تک نہ پہنچ پاتا۔ اس شاہ راہ پر قابض افغان قوتیں اگر مغل فوج کے باغی کمانڈر شیر شاہ کا ساتھ نہ دیتیں، تو ہمایوں بادشاہ بے تاج و تخت ہو کر ایران کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور نہ ہوتے۔ اگر اسی شاہ راہ پر بسنے والے گھکھڑ قبائل مغل فوج کا ساتھ نہ دیتے، تو ہمایوں بادشاہ دوبارہ اپنی سلطنت حاصل نہ کر سکتے۔ ہر سال مغل بادشاہ دہلی، آگرہ اور لاہور سے چل کر جلال آباد، کابل اور قندھار کے موسموں کا لطف نہ اٹھا پاتے۔

اسی شاہ راہ پر مغلوں نے سب سے زیادہ شہر، سرائیں اور قلعے تعمیر کیے۔ اسی شاہ راہ کے اردگرد مغل آبادکاری ہوئی۔ زراعت، صنعت و حرفت اور فوجی ساز و سامان کی فیکٹریاں بھی یہیں لگائی گئی تھیں۔ یہی وہ شاہ راہ ہے، جس نے سکّھ اور انگریز حکمرانوں کو افغانستان تک رسائی دی۔ اسی شاہ راہ سے تحریک خلافت کے قافلے افغانستان داخل ہوتے تھے۔ تقسیم ہند کے بعد یہ شاہ راہ بھی تقسیم ہوئی۔ انڈیا اور بنگلہ دیش میں چٹا گانگ سے ڈھاکا اور امرتسر سے دہلی تک جی ٹی روڈ کے نام ہی سے موسوم ہے۔ پاکستان میں لاہور سے طورخم تک رواں دواں ہے۔ اسلام آباد کا دار الحکومت اسی تاریخی شاہ راہ پر آباد کیا گیا۔

پاکستان نے اس شاہ راہ کو خوب کشادہ کیا، چار رویہ بنایا۔ آج یہ سڑک پشاور سے لاہور تک ہر وقت آباد رہنے والی لائف لائن ہے، جو رات کو بھی جگمگاتی رہتی ہے۔ اسی سڑک پر فوج کے کانوائے چلتے ہیں اور چاروں صوبوں میں پھیل جاتے ہیں۔ پاک فوج کے اکثر جوانوں اور افسروں کا تعلق بھی جی ٹی روڈ کے علاقوں سے ہے۔ وسطی پنجاب کی یہ زنجیر ہے۔ بعض تنگ نظر لوگ پاک فوج کو پنجابی فوج بھی کہتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ جس سیاسی جماعت کو جی ٹی روڈ کی حمایت حاصل ہو جائے وہ نہ صرف پنجاب بلکہ مرکز میں بھی حکومت بنا لیتی ہے۔ اگر چہ 2018 کے الیکشن میں اس سیاسی حقیقت کو جھٹلایا جا چکا ہے۔

شہید ذوالفقار علی بھٹو سندھی تھے لیکن جی ٹی روڈ کی حمایت کی وجہ سے عوامی لیڈر بنے اور قائد عوام کہلائے۔ فوجی حکمرانوں کی حمایت بھی پنجاب ہی نے کی اور جب فوجی حکمرانوں کو اتارا گیا تو اسی جی ٹی روڈ نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ میاں محمد نواز شریف کو جب عدالت نے وزارت عظمی سے نکالا تو اسی جی ٹی روڈ نے انھیں خوش آمدید کہا۔ تمام تر دباؤ اور تحریص کے باوجود یہ جی ٹی روڈ، آج بھی نواز شریف کے ساتھ کھڑی ہے۔ اسی لئے مسلم لیگ نون کو جی ٹی روڈ کی پارٹی بھی کہا جاتا ہے۔

جب بارہ اکتوبر 1999 کو جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف کا تختہ الٹا تو پہلی بار جی ٹی روڈ کے باسیوں نے اپنی بے عزّتی محسوس کی۔ انھیں فوج سے شکوہ پیدا ہوا اور تحریک نجات کے نتیجے میں پنجابی ذہن بغاوت بر آمادہ ہوا۔ لیکن پنجاب کے چودھریوں نے موقِع سے فائدہ اٹھایا اور اردو اسپیکنگ جرنیل کے آگے پنجاب کو بیچ دیا۔ یہ خرید و فروخت عارضی تھی۔ جونھی وردی اتری، جنرل مشرف پنجابیوں کے دل سے اتر گئے۔ نواز شریف نے اپنی محبّت کا جادو جگایا اور پنجابی رہ نما مسلم لیگ قاف سے فرار ہو کر واپس مسلم لیگ نون میں آ گئے، گویا کہ قید سے رہائی ملی ہو۔ نواز شریف اور مسلم لیگ نون در اصل فوج کے غیر مشروط خیر خواہ رہے ہیں۔ لیکن اس غیر مشروط محبت کا انجام اچھا نہیں ہوا۔

نت نئے تجربات کرنے والوں نے نت نئے تجربات کی مشق جاری رکھی؛ نواز شریف اور ان کے چاہنے والوں نے بار بار ہتک محسوس کی ہے۔ نواز شریف نے جنرل مشرف کو غدار قرار دے کر اپنا حساب برابر کرنے کی کوشش کی اور یہیں سے مسلم لیگ نون یعنی جی ٹی روڈ کے باسیوں اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان فاصلے بڑھنے شروع ہوئے۔ نہ مشرف پر مقدمہ چلتا نہ اسٹیبلشمنٹ کے اندر نواز شریف بیزار عناصر کا پلّہ بھاری ہوتا اور نہ عمران خان کو متبادل کے طور پر آگے بڑٖھایا جاتا۔ عمران خان نیازی پٹھان ہیں اور صوبہ خیبر پختون خواہ کے پٹھانوں کا ایک بڑا حصہ انھیں اپنا لیڈر سمجھتا ہے۔ لاہور جو جی ٹی روڈ کا سب سے بڑا اور آخری شہر ہے وہ عمران خان کو کرکٹ کے دنوں تک پنجابی ہی سمجھتا تھا لیکن 2013 کے انتخابی نتائج نے پنجابیوں کو خان سے دُور کر دیا۔

نواز شریف پہلے کی طرح ہی پنجاب کے ہر دل عزیز لیڈر بن کر ابھرے۔ دار و گیر اورپکڑ دھکڑ کے باوجود ضمنی انتخابات میں اٹک سے لے کر لاہور تک جی ٹی روڈ نے اسٹیبلشمنٹ کے حمایت یافتہ عمران خان کو بری طرح رد کر دیا ہے۔ نواز شریف کا بیانیہ اور کسی کی سمجھ میں آیا ہے یا نہیں سنٹرل پنجاب کو خوب سمجھ آ گیا ہے۔ ایک تلخ حقیقت قبول کر لینی چاہیے، کہ اسٹیبلشمنٹ کے سیاسی اقدامات کی حمایت کے لئے عوامی حمایت مکمل طور پر تقسیم ہو گئی ہے۔ جو لوگ نواز شریف کے ساتھ ہیں وہ اس تبدیلی کے ساتھ کھڑے دکھائی نہیں دیتے۔ اور اسٹیبلشمنٹ جس تمکنت کے ساتھ اس تبدیلی کی پشت پر کھڑی ہے، وہ جی ٹی روڈ کے لوگوں کو پسند نہیں ہے۔

قومی اداروں کو سب پاکستانیوں کی حمایت حاصل ہونی چاہیے۔ یہ کسی ایک سیاسی پارٹی کے پلڑے میں وزن ڈال کر ٖغیر جانب دار نہیں کہلا سکتے۔ ہر اس ادارے کو سیاست سے فی الفور دُور ہو جانا چاہیے، آئین جسے سیاست کی اجازت نہیں دیتا؛ ورنہ عسکری دانش سے بیزار جی ٹی روڈ اپنا دامن باغیوں کے لئے کھول دے گی۔ اور اس تاریخی شاہ راہ کی بغاوت بڑی خطرناک ہوتی ہے!

Facebook Comments HS