ٹوٹی ہوی دیوار (ناول) پانچویں قسط


پشاور آرمی پبلک سکول پر حملہ کرنے والے

واحدی نے ہاتھ کے اشارے سے اُسے روکتے ہوئے کہا، ’ نہیں نہیں یار یہ ایسا سادہ نہیں ہے۔ یہ لوگ ابھی اتنے بچے بھی نہیں ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ دوسروں کو دکھانے کے لیے ایسا رویہ دکھاتے ہیں تاکہ لوگ ہم سے نفرت کریں۔ اس سارے جھگڑے کے پیچھے بھی سیاست ہے۔ ایک خود غرضانہ سیاست اور یہ سب کا سب اقتصادی معاملہ ہے۔ اُنہیں ایسے نظریات چاہیے ہی نہیں جس سے اُن کی کمائی میں کمی آئے۔ ابھی اس بازار میں سب سے اچھا چورن مذہب اور قومیت ہی کا بِک رہا ہے تو کون اپنی چلتی ہوئی دوکان بند کروائے گا؟ مگر میرے بھائی ہر مال کے بکنے کا بھی ایک وقت ہوتا ہے اور اُس کا ایک بازار بھی، اب دیکھو نا ایک زمانہ تھا لوگ گرام فون پر گانے سنتے تھے مگر آج کل سی ڈی پلیر کا زمانہ ہے، اب لوگ ایم پی تھری پلیر پر گانے سنتے ہیں۔ ”
ناظر عزیزی نے ہنستے ہوئے کہا، ’چلو میں تمھاری بات مان بھی لو ں مگر یہ نا بھولنا کہ ہم ایک ایسی قوم کے فرد ہیں جہاں سو چنے اور بات کرنے پر پابندی ہے۔ تمھیں یہ لوگ نقصان پہنچا سکتے ہیں بھائی تم سمجھتے کیوں نہیں۔ ؟ “

مگر واحدی نے ناظر عزیزی کے جملے کو سنی ان سنی کرتے ہوئے آخری نوالہ منہ میں ر کھا اور پانی کے گلاس کی طرف ہاتھ بڑھا تے ہوئے اپنی ہی بات کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے کہا، ’ دیکھو بھائی ابھی انٹر نیشنلزم کا زمانہ ہے۔ اب لوگ گلوبل ورلڈ کے باسی ہیں جہاں مختلف اقسام کے مذہب، قومیت، رنگ، نسل اور زبانوں کے لوگ مل جل کر ساتھ ساتھ رہتے ہیں اور اگراُن کے درمیان کی کوئی شے اُنہیں آپس میں جوڑتی ہے تو وہ محض اقتصادیات ہے۔ یہ زیادہ پرانی بات تو نہیں ہے کہ دوسری عظیم جنگ میں سارا مغرب ایک دوسرے سے قومیت اور مذہب کے نام پر گتھم گتھا ہوگیا تھا، پو لینڈ پر جرمنی اور جرمنی پر فرانس بم مار رہا تھا مگر آج ساری جغرافیائی سرحدیں مٹا کر ایک ملک کی طرح۔ اب یہی لوگ بغیر ویزے کے پورے یورپ میں آجا رہے ہیں تو کہاں گیا وہ سارا نیشنل ازم جو پچاس سال پہلے خون پی رہا تھا؟ اور اب یہ ڈھیر ساری محبتیں راتوں رات کہاں سے پیدا ہوگئیں؟ ارے بھائی صرف اور صرف اقتصادیات اور کچھ بھی نہیں۔ ’

واحدی نے پانی کا ایک بڑا گھونٹ لیا اور اُس کی گفتگو کچھ دیر کے لیے ٹوٹ گئی۔

”اچھا مان لیا قومیت پر تمھارا نقطہ نظر ٹھیک ہوگا مگر مذہب کے بارے میں تم کیا کہو گے؟ اِس پر تو سیدھا سیدھا خون خرابا ہوجائے گا، جونہی کوئی مولوی سنے گا کہ مذہب کا خیال ہی مصنو عی ہے تو تمھاری بات کا یہی مطلب نکالا جائے گا کہ خدا ہے ہی نہیں، پھر اُن کے لیے تو یہ سیدھی سادی دہریت ہوگئی نا؟ ’ یہ کہہ کر ناظر عزیزی نے میٹھے کی طرف ہاتھ بڑھا کر اُسے واحدی کی جانب کھسکا دیا اور آنکھ کے اشارے سے اُسے لینے کے لیے کہا۔ واحدی نے مسکرا کر میٹھے کو دیکھتے ہوئے کہا، ’یہی تو سب سے کڑوا موضوع ہے یار، اِس پر تو بات کرنے کے لیے تو منہ میٹھا کرناہی پڑے گا۔ ۔ مگر اس کا جواب تمھیں میرے چند سوالوں سے مل جائے گا بھائی۔ ۔ کیا وجہ ہے آج مغرب میں چرچ خالی ہو رہے ہیں اور مشرق میں مسجدیں ہمیشہ کی طرح دن بدن بھرتی جارہی ہیں؟ کیا وجہ ہے مغرب میں فلسفہ اور سائنس عروج پر نظر آتے ہیں اور مشرق والے اُن سے قطعی بے بہرا ہیں۔ اگر کہیں سائنس نظر آتی بھی ہے تو چین یا جاپان میں جہاں روایتی مذہب نہیں رہا اور فلسفہ بھی اسی لیے کیونکہ وہ اُس سے جڑا ہوا نہیں ہے، ویسے بھی مذہب ٹھیک و ہیں پر ختم ہوجاتا ہے جہاں پر فلسفہ شروع ہوتا ہے۔ تھوڑا بہت مذہب اگر چین یا جاپان میں ہے بھی تو بدھا مذہب ہے اور وہ خدا کے سہارے کے بغیر ہے۔ یعنی فلسفہ ہی فلسفہ ہے۔

ایک ہندوستان ہے جو اب تقسیم کے بعد کچھ نئی شکل دکھا رہا ہے۔ رہ گیا اُس کا ایک حصہ پاکستان جو روایتی مذہب کے چنگل میں پھنس گیا ہے یا اقتصادی فائدوں کے خاطر پھنسا دیا گیا ہے۔ تو اُس کے حالات دیکھ لو اور ہندوستان کے حالات بھی دیکھ لو، ہے نا دونوں جانب زمین آسمان کا فرق؟ تو بھائی اگر مذہب واقعتا کوئی فطری واقعہ ہے تو فطرت اس کے ماننے والوں کے ساتھ بھلا ئی کیوں نہیں کر رہی ہے؟ اب مجھے وہ گھسی پٹی بات نہیں کرنا جو مخصوص مذہبی ذہن کرتے ہیں۔ بات صرف اتنی سی ہے کہ ذہنی ارتقا کچھ علاقوں میں ہوا ہے اور کہیں رک گیا ہے۔ کہیں کا سماج مذہب سے آگے بڑھ گیا تو کہیں کا اُس سے پیچھے رہ گیا ہے۔ جہاں سائنسی دماغ نے ترقی کرلی وہاں چرچ خالی ہوگئے اور لوگوں کی زندگی خوشحال ہوگئی، جہاں سا ئنسی دماغ پیدا نہیں ہوا وہاں اقتصادی بدحالی آگئی اور لوگوں کی زندگی بھی بد حال ہوگئی۔

بھائی میرے، ترقی کا سارا دارومدار اقتصادیات پر ہے جب مذہبی دور تھا تو اقتصادیات اُس سے جڑی ہوئی تھی۔ ایک پنڈت ایک مولوی ایک پیغمبر ایک خدا کا بیٹا آڑ میں رہتے تھے اور جو طاقتور تھا اُن سے جڑ کر حکومت کر رہا تھا۔ ابھی اُن لوگوں کی ضرورت ختم ہوگئی سائنس نے اُن کے بغیر ہی قوموں کو طاقتور کر دیا ہے۔ بڑے بڑے میزائل اور بم موجود ہیں تم خدا کو مانو یا نا مانو، کس کو پروا ہے؟ انگلی کے اشارے پر تمھاری زندگی ہے۔ ابھی پر چار کا زما نہ گیا، یہ چورن اب صرف گلیوں محلوں کی سیاست کے لیے بکتا ہے تاکہ چھوٹے موٹے غریب ملکوں کے کچھ عیار لوگ عوام کو چونا لگا کر بڑی طاقتوں سے کچھ مال بٹور سکیں مگر یہ بھی ارتقا ئی عمل ہے، پچیس پچاس سال کے بعد یہ اور نہیں بک پائے گا بازار میں، خود سائنسی معاشرہ ہی اس دوکان کو آگے بڑھا دے گا۔ میرے بھائی بھلا طوفان کے آگے بھی کبھی تنکے کنکر وغیرہ ٹھہر پاتے ہیں؟ “
ناظر عزیزی نے ہنستے ہوئے کہا، ’ اچھا تو تمھاری خیال میں ضرورت ایجاد کی ماں ہے؟ ’

”ہاں اور اقتصادیات باپ ہے اور جس کی بہت ساری بیویاں ہیں ان میں سے جو سب سے زیادہ خوبصورت ہے اُس کا نام مذہب ہے۔ اُس کی دوسری بیوی کا نام قومیت ہے، تیسری زبان تو چوتھی رسوم و رواج، اب جسے چاہے وہ بازار میں لے آئے اُس کا کوئی دین ایمان تھوڑا ہی ہے۔ “ ’ یہ کہہ کر ہنستے ہوئے واحدی اپنی کرسی سے اُٹھ گیا۔
” ہاں مگر۔ اُس کے کچھ بچے بگڑے ہوئے ہیں اُن سے ذرا بچ کر۔ ۔ ’ ناظر عزیزی نے تھوڑا سا سنجیدہ ہو کر جملہ لگایا۔
” میں سمجھ سکتا ہوں یار۔ چلو آوٗ چائے پیتے ہیں اور سوچتے ہیں آگے کیا کرنا ہے؟ ’ ’ واحدی یہ کہہ کر ڈائنگ ٹیبل سے اُٹھ کر ہاتھ دھونے باتھ روم کی طرف چلا گیا اورپھر دونوں دوست واپس بیٹھک میں آگئے۔

ٹوٹی ہوئی دیوار۔۔۔ چھٹی قسط۔۔۔ اگلے ہفتے

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2