مہارانیوں اور بیگمات کی بیچارگیاں


(1) راجپوتانہ کی ایک بڑی ریاست کی ضعیف اور بیوہ مہارانی نے کہا:۔
” بھائی صاحب! عورتیں جب ہمارے گلے میں ہیروں اور موتیوں کے نیکلس دیکھتی ہیں، تو ان نیکلسوں کو حسرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ان بیچاریوں کو کیا معلوم، کہ ہیروں اور موتیوں کے یہ نیکلس ہمارے لئے سانپ ہیں، جو ہمیں ہر وقت ڈستے رہتے ہیں“۔

(2) پنجاب کی ایک مہارانی نے ایک بار بات چیت کے دوران آنکھوں میں آنسو بھرتے ہوئے کہا:۔
” سردار صاحب! میں اگر اپنے مہاراجہ شوہر کے مقابلہ میں کسی جاٹ سے بیاہی جاتی، تو میری زندگی خوشگوار ہوتی۔ سنہری صوفوں پر بیٹھنے اور سپرنگ دار پلنگوں پر سونے سے بدرجہا اچھا ہوتا، میں اپنے جاٹ شوہر کے لیے روٹی پکا کر کھیت میں لے جاتی“۔

(3) شملہ کے علاقہ کی ایک رانی نے کہا تھا:۔
” سفر کرتے ہوئے جب ٹرین میں کسی ہم سفر کو میرے رانی ہونے کا علم ہوتا ہے، تو مجھے حسرت کی نگاہوں سے دیکھتی ہے۔ اس بیچاری کو کیا علم میں دن رات خون کے آنسو روتی ہوں“۔

(4) کاٹھیاواڑ کی ایک بیگم ( جن کا پچھلے دنوں کراچی میں انتقال ہوا) مجھ سے اپنے دکھ اور دل کا حال بیان کرنے کے لئے دہلی آئیں، اور گورنمنٹ پاؤس کے پیچھے پہاڑی پر ان سے بات چیت ہوئی، تو اس بیچاری نے کہا:۔
” میری ماں مجھے پیدا نہ کرتی، اور وہ مجھے پیدا کرنے سے پہلے بانجھ ہو جاتی، تو اچھا تھا، تاکہ مجھے موجودہ عذاب کی زندگی سے واسطہ نہ پڑتا“۔

(5) یوپی کے ایک بہت بڑے تعلقہ دار کی بیوی کا ایک بار خط آیا۔ اس خط میں مظلوم نے لکھا:۔
” آپ نوابوں اور مہاراجوں کے مظالم کو بے نقاب کرتے ہیں، کبھی یو پی کے تعلقہ داروں پر بھی توجہ کیجیے، اور ان کی اینٹ بجا دیجیے۔ جن کی زندگی کا مقصد صرف شراب پینا، طوائفوں کے مجرے دیکھنا، اور کئی داشتائیں رکھنا ہے، اور جن کی بیویاں ناقابل بیان مظالم کا شکار ہیں“۔

(6) راجپو تانہ کی ایک مہارانی تیرتھ یا ترا کے بہانہ ہردوار گئی۔ اس نے اپنا ایک معتمد دہلی بھیج کر مجھے طلب کیا۔ وہاں کی ایک دھرم شالہ کے اوپر کے کمرہ میں اس سے بات چیت ہوئی، تو اس معصوم اور مظلوم خاتون نے روتے ہوئے کہا:۔
” کیا یہ ممکن ہے، کہ میں اب ہردوار سے واپس اپنی ریاست میں نہ جاؤں، اور کوئی شخص مجھے اپنے گھر میں برتن دھونے اور روٹی پکانے پر ملازم رکھ لے، اور میں اپنی آئندہ زندگی وہاں ہی بسر کر دوں“۔

راقم الحروف کے پاس کئی درجن مہارانیوں اور بیگمات کے خطوط موجود ہیں، جو ان بیچاریوں نے اپنے شوہروں کے مثالم کے متعلق مجھ پر اعتماد اور بھروسہ کرتے ہوئے لکھے۔ میں ان خطوط کو اعتماد شکنی کے الزام کے خوف سے شائع نہیں کرتا، ورنہ ان کو پڑھنے کے بعد کوئی عورت بھی کسی مہاراجہ، نواب یا رئیس کے ساتھ شادی کرنے پر آمادہ نہ ہو۔ کیونکہ رئیس کی بیوی بننے سے ہزار درجہ بہتر ہے، کہ وہ دوزخ میں زندگی گزار دے۔
کتاب ”سیف و قلم“ سے اقتباس

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

دیوان سنگھ مفتوں

سردار دیوان سنگھ مفتوں، ایڈیٹر ہفتہ وار ”ریاست“ دہلی۔ کسی زمانے میں راجاؤں، مہاراجوں اور نوابوں کا دشمن، ان کے راز فاش کرنے والا مداری، صحافت میں ایک نئے خام مگر بہت زور دار انداز تحریر کا مالک، دوستوں کا دوست بلکہ خادم اور دشمنوں کا ظالم ترین دشمن۔ سعادت حسن منٹو کے الفاظ۔

dewan-singh-maftoon has 26 posts and counting.See all posts by dewan-singh-maftoon