داستان گو خاموش ہو گیا


میں آج تک فیصلہ نہیں کر سکا کہ وہ خوش خلقی میں منفرد تھے یا خوش لباسی میں، خوش گفتاری میں ممتاز تھے یا خوش اخلاقی میں، خوش ذوقی میں بے مثال تھے یا خوب صورتی میں؟ شاید حقیقت یہ ہے کہ وہ ان تمام خوبیوں میں لاجواب تھے۔ ان کی جوانی کی تصویریں دیکھیں تو وہ کسی پاکستانی فلمی ہیرو کی طرح نظر آتے ہیں۔ گورا رنگ، کھلکھلاتا چہرہ، دل آویز مسکراہٹ، گہری نیلی آنکھوں میں بلا کی کشش، جاذبیت اور ذہانت، ستواں ناک، گھنی بھنویں، لامبی پلکیں، بھرے بھرے گال، گلابی رخسار، گھنے سیاہ بال اور مشہور زمانہ وحید مراد کا خوبصورت ہیئرسٹائل، پانچ فٹ نو انچ قد، مردانہ حسن و وجاہت کا پیکرتھے۔ بقول اشعر ملیح آبادی

شباب! اورپھران کا شباب کیا کہنا
مجھےگماں یہ ہواموسم بہار کا آیا

ان کا سراپا ہی بے مثل و لاجواب نہیں تھا شخصیت بھی باغ و بہار اور بے حد دلچسپ و ہر دل عزیز تھی۔ کوئی جگہ ہو، کوئی محفل ہو، کوئی موقع ہو، کوئی رت ہو، کوئی وقت ہو;موصوف ہر دم جان محفل ہوا کرتے تھے۔ شہر کی ہنگامہ خیزیاں، چکاچوند، رنگینیاں و رعنائیاں ہوں کہ گاؤں کی پر سکوں، خاموش، حسن فطرت سے مزین اور قدرتی نظاروں سے مالا مال بزم ہائے حیات;وہ ہر جگہ مرکز نگاہ ہوتے۔ شادی کی کسی محفل میں ان کے بغیر رنگ نہیں جمتا تھا۔ ہم سب کوشش کرتے کہ شادی بیاہ و دیگر پر مسرت موقعوں پر ان کی موجودگی کو یقینی بنایا جائے۔ وہ ہر ایسی تقریب کی خوب صورتی کو چار چاند لگا دیتے تھے۔ ماتم کے سوگوار و غمگین لمحات میں ان کی سحر انگیز حوصلہ افزائی و تشفی کے معجز نما الفاظ جیسے زخمی دلوں پر مرہم کھ دیتے تھے۔ ناصر کاظمی بھی کہاں یاد آئے

خوشی کی رت ہوکہ غم کا موسم، نظر اسے ڈھونڈتی ہے ہردم
وہ بوئے گل تھا کہ نغمہء جاں میرے تو دل میں اتر گیا وہ

انہیں اپنی شیرینیء کلام اور خوش گفتاری کے راستے واقعی دوسروں کے دلوں میں اترنے کا ہنر آتا تھا۔ موقعے کی مناسبت سے انتہائی خوب صورت، برمحل اور دل کو موہ لینے والی گفتگو کرتے تھے۔ جو بھی ایک مرتبہ ان سے مل کر بات کر لیتا تھا، بار بار ملنے کی خواہش کرتا تھا۔ لباس و پہناوے کے معاملے میں حقیقت میں ٹرینڈ سیٹر تھے۔ اس پر مستزاد یہ کہ جسمانی خدو خال، سراپا، پیکراور وضع قطع ایسی کہ جو پہنتے لگتاکہ بس انہیں کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ پینٹ کوٹ ان کا پسندیدہ لباس تھا۔ لباس اگر انسان کی شخصیت اور سراپے کو واقعی چار چاند لگاتا ہے تو یہ بات ان پر سو فیصد صادق آتی تھی۔ میں نے زندگی میں اس قدر جامہ زیب لوگ بہت کم دیکھے ہیں۔ آتش نے شاید انہیں کے لیے کہا تھا
ہر لباس آپ کو ہے زیبندہ
جامہ زیبوں کے بادشاہ ہو تم

مہماں نوازی، خوش اخلاقی، ہمدردی اور رواداری ان کی گھٹی میں پڑی تھی۔ اب سے کوئی بیس پچیس برس قبل جب وہ چاہ سلطان کےعلاقے میں کرایے کے مکاں میں رہتے تھے تو اس وقت بھی کوئی دن ایسا نہیں گزرتا تھا کہ جب گھر میں دو چار مہمان نہ ہوں۔ راقم جب بھی ان کے ہاں گیا(اور بکثرت جاتا تھا) دو چار مہمانوں کو ضرور ان کے ہاں فروکش پایا۔ کثیر الاعیال اور محدود تنخواہ ہونے کے باوجود کبھی مہمانوں کی آمدپر ان کے ماتھے پر بل نہیں آئے بلکہ جس روز کوئی مہمان نہ ہوتا اداس ہو جاتے۔ میر حسن نے شاید انہیں کے لیے کہا تھا
یہ بندہ نوازی، یہ جاں پروری
یہ آئین سرداری و سروری

یہ سلسلہ ان کی وفات تک جاری رہا۔ دوسروں کی کامیابیوں پردل سے خوش ہو کر انہیں دعاؤں سے نوازنا ان کی شخصیت کی ایسی خوبی تھی جو بہت کم دیکھنے میں آتی ہے۔ جب انہیں خاندان یا علاقے کے کسی آدمی کی کے چھوٹے بڑے کارنامے کے متعلق بتایا جاتا تو ان کے خوبصورت چہرے پر خوشی کی قوس قزح کے ان گنت رنگ بکھر جاتے۔ وہ دوسروں کی غمی خوشی میں دل و روح کی گہرائیوں سے شریک ہوتےتھے۔ سیاسی اور سماجی اثر و رسوخ اور راہ و رسم کے حوالے سےبھی انہیں ہمارے خاندان کی سب سے قد آور شخصیت ہونے کا اعزاز حاصل تھا۔

سیاسی فہم و فراست اور سوجھ بوجھ میں ید طولی رکھتے تھے۔ آغاز شباب ہی سے سیاسی سرگرمیوں میں گرم جوشی سے حصہ لیتے تھے۔ سکول و کالج کے زمانے میں فعال سیاسی کارکن کے طور پر اپنی شناخت بنائی تھی۔ جناب ذوالفقار علی بھٹو ان کے پسندیدہ لیڈر تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو سے راولپنڈی کے فلیش مین ہوٹل میں یادگار ملاقات کی روداد کوبڑے فخر و انبساط سے بیان کیا کرتے تھے۔

آزادکشمیر کے بانی صدر اور تمام خاندان سے ذاتی تعلقات تھے۔ مگر کبھی سیاسی وابستگی کو ذاتی مفاد کے لیے استعمال نہیں کیا۔ پاکستان انسٹیٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنا لوجی میں چھتیس سال تک بھرپور ملازمت کے باوجود گاؤں سے ناتا نہیں توڑا۔ خوشی غمی کے موقعے پر گاؤں والوں کے درمیان ہوتے۔ اہل علاقہ اورخاندان کے لوگ دل سے ان کی عزت کرتے۔ گاؤں میں مختلف تنازعات اور جھگڑوں میں ثالث اور منصف کاکردار بڑے خلوص، حکمت اور فہم و فراست سے ادا کرتے۔ پیٹھ پیچھے برائی کرنے کے بجائے منہ پر بات کہتے مگر کہنے کا انداز اس قدر دلنشیں، پر خلوص اور اپنائیت سے لبریز ہوتا کہ سننے والے پر گراں نہ گزرتا۔ بات کو پھول بنا کر پیش کرنے کا ہنر وہ خوب جانتے تھے۔

بات اس انداز سے کرتا ہے کہ وہ
بات کو پھول بنا دیتا ہے

جمالیاتی ذوق اور فطری و بشری حسن کے دلدادہ تھے۔ کون نہیں چاہتا کہ پیکران زہرہ وش و پری جمالوں کے جھرمٹ میں رہے اور خوبان ستم کیش کی جلوہ افروزیوں اور عشوہ طرازیوں کو حرز جاں بنائے۔ وہ میر اکبر جو ہر میدان میں قافلہء سالار کی حیثیت رکھتے تھے اس حوالے سے بھی رشک جہاں اور میرکارواں تھے۔ راقم الحروف ان کےشباب کا چشم دید گواہ تو نہیں البتہ ان کی ادھیڑ عمری کی کرشمہ سازیوں سے کافی کچھ آگاہ ہے۔ ان کی پیری بھی رشک شباب تھی۔ ایام شباب میں تو سناہے کتنی ہی نازنینیں اور قتالہء عالم ان پر فریفتہ تھیں۔ جہاں جاتے کوئی نہ کوئی قصہ مشہور ہو جاتا۔ ضروری نہیں کہ اس میں ان کی نیت و ارادے کو بھی دخل ہو۔ وہ جو حبیب جالب نے کہا تھا کہ

یہ اعجاز ہے حسن آوارگی کا
جہاں بھی گئے داستاں چھوڑ آئے

تو شاید روئے سخن ہمارےہردل عزیزانکل ہی کی طرف تھا۔ جب وہ کسی موضوع پر عالمانہ و والہانہ انداز میں دلچسپ گفتگو کرتے تو میں اکثر سوچتاکہ اگر وہ ادب کی طرف آتے تو ضرور بہت بڑے داستان گو اور افسانہ نگار ہوتے۔ تاریخ اور تاریخی واقعات سے خاص شغف تھا خاص طور پر پاکستان اور کشمیر کی تاریخ تو گھول کر پی رکھی تھی۔ پھر انداز بیان اس قدردلنشیں اور پر کشش ہوتا کہ اکثر چاند بھیگ جاتا اور سفیدہء سحر نمودار ہو جاتا مگر ہم ان کی گفتگو کے سحر میں جکڑے رہتے۔ تاریخی واقعات اور قصے کہانیاں ان کے منفرد اسلوب اور حسن بیان سے ہم آہنگ ہوتے تو سماں بندھ جاتا۔ جب گردش ایام پیچھے کی طرف دوڑنے لگتا تو ہم بھی ماضی کے سحر میں گم ہو کر رہ جاتے۔ میں نے ایسی محفلوں میں کتنی ہی تاریخی اور علمی گھتیاں سلجھائی تھیں۔

اس نے دولفظ میں جوباتیں کی تھیں مجھ سے
اس کو میں سوچنے بیٹھوں تو زمانےلگ جائیں

حیات مستعار کے آخری دس ماہ زیادہ بیمار رہے۔ اکثر ہسپتال میں داخل رہنا پڑا۔ بہت سی جان لیوا بیماریوں نے یکبارگی یلغار کر دی تھی۔ ڈاکٹروں نے بتا دیا تھا کہ ان زندگی کے چند ہی دن باقی بچے ہیں۔ بہت سے عارضوں میں مبتلا وفادار اہلیہ اور فرمانبردار و سعادت مند اولاد نے دل جوئی اور تیمارداری میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا۔ بیٹیاں تو ہمہ وقت ان کی پٹی سے لگی رہیں۔ بیٹوں نے بھی دن رات خلوص و دلجمعی سے خدمت کی۔

انہیں خود بھی پتہ چل گیا تھا کہ ان کی زندگی کا گلاب مرجھانے والا ہے مگر اس کے باوجود کبھی مایوسی کا کلمہ زبان سے ادا نہ کیا۔ ہر بیمارپرسی کرنے والے کا استقبال اسی طرح خوبصورت مسکراہٹ سےکرتے جس طرح اپنے گھر آنے والے مہمانوں کا کیا کرتے تھے۔ اللہ کے حضورپیش ہونےکے لیےبالکل تیار تھے۔ آخرکاران کی زندگی کا سورج اس سال 29 ستمبر صبح پانچ بج کر پینتالیس منٹ پر غروب ہو گیا۔ ایک ہر دلعزیز، مرنجاں مرنج، ملنسار، ہمدرد اور دلچسپ کہانیاں سنانے والا داستان گو رخصت ہو گیا۔ ان کے جانے کے بعد معلوم ہوا کہ بلاشبہ وہ ہمارے ”میر“ بھی تھے اور ”اکبر“ بھی۔
زندگی جن کے تصور سے جلا پاتی تھی
ہائے کیا لوگ تھے جو دام اجل میں آئے

Facebook Comments HS