ترقی کرتے لوگوں کی دوڑ میں آپ کہاں کھڑے ہیں؟
آپ نے بھی کبھی سوچا ہے کہ انسان نئے دور میں اپنی ذاتی زندگیوں میں بھی کس قدر تیزی سے ترقی کر رہا ہے؟ ایک قلیل عرصہ میں مستری سے لے تاجروں تک سب کے پاس ہی دولت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔
میں محسوس کرتا ہوں کہ میرے گرد و نواح میں ہر شخص دولت و ثروت کے لیے شب و روز تگ و دو میں ہے۔ آپ اپنے اردگرد نظر دوڑائیے، یا ایک نظر خود پر ڈالیے، ہر انسان چاہے وہ مزدور ہی کیوں نہ ہو، بہت جلد ترقی کرنا چاہ رہا ہے۔ وہ عجب آرزو لیے پھر رہا ہے کہ جلد میرے مسائل ختم ہوں اور میں بھی چند پل سکون سے گزاروں، میں اپنے سے نسبتاً اوپر والے کے مقام کو پا لوں۔
یعنی ہم میں سے ہر ایک اپنی سیڑھی سے اگلی سیڑھی پر جانا چاہتا ہے۔ ایسی کاوشیں جہاں قابل رشک ہیں، وہیں قابل افسوس بھی ہیں کہ اسی تگ و دو نے ہم سے ہماری ہی ذات کو چھین لیا ہے۔ ہم سے ہمارا وقت چھین لیا ہے۔ پرانے لوگ ایک دوسرے کے لیے بھی وافر وقت نکال رکھتے تھے، آج کے کامیابیوں کی منزلیں طے کرتے انسان کے پاس اپنے لیے ہی وقت نہیں۔
لوگ ترقی کرنے کے لالچ میں اپنے آپ سے کوسوں دور ہو رہے ہیں۔ ہم خود سے بات کر پاتے ہیں، نہ اپنوں سے۔ اس دوڑ میں جب ہم تھک جاتے ہیں، یا اس تماشہ سے نکال باہر کیے جاتے ہیں، تب ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ہم نے کس قدر غلطی کی جو اپنے بارے میں نہ سوچا، ہم تو ایسی زندگی گزارنا چاہتے ہی نہ تھے جیسی ہم گزار آئے۔
مثلاً بعض لوگ باہر کے ملک کمانے کے لیے جاتے ہیں، (میرے بھی بہت سے دوست عزیز ہمیں چھوڑ کر باہر کمانے کے لیے گئے ہوئے ہیں) ساری عمر پیسے کماتے تھک ہار کر جب واپس آتے ہیں تو احساس ہوتا ہے کہ میں تو بس پیسے کمانے والی مشین بنا رہا ہوں، میری وہ قدر و مقام تو ہے ہی نہیں جس کے خواب و خیال میں، میں نے اپنا آپ مسمار کیا۔ 1میں نے کن لوگوں کے لیے اپنی زندگی اے۔ٹی۔ایم بن کر گنوا دی؟
ایک ملازم آدمی جس کی آمدن عموماً قلیل ہوتی ہے، صحیح و غلط، حلال و حرام کی تمیز کیے بغیر پیسے کماتا ہے اور پھر، اگر اس میں قطرہ سا بھی ایمان ہو تو وہ پہچان لیتا ہے کہ میں نے تو بس اپنی ہی قبر خراب کی، اس کے سوا مجھے کیا ملا؟ یہ دولت جو میں نے کمائی ہے اسے ممکن ہے میری اولاد چند لمحوں میں ضائع کر دے تو میں کیا کر لوں گا؟ میری اولاد جسے میں نے محظ دولت کمانے کی تبلیغ کی انہی میری کیوںکر قدر ہونے لگی؟ (مولانا صاحب فرماتے ہیں کہ ایسے لوگ عموماً بیماری یا اولاد کی طرف سے دی گئی آزمائش کا شکار رہتے ہیں۔)
ایک مزدور دیہاڑی کر کے آتا ہے تو ڈھور ڈنگر پالتا ہے، انکی خدمت کرتا ہے، دودھ دوہتا ہے، کھانا وانا کھاتا ہے، مال ڈنگر اندر کی مخصوص جگہ پر باندھتا ہے اور پھر انہیں کے درمیان چارپائی ڈال کر جانور بن کر سو جاتا ہے، اپنے لیے اور بچوں کے لیے وقت نہیں نکال پاتا، اسے بڑھاپے میں احساس ہوتا ہے کہ اس نے بچوں سے اس قدر دوری اختیار کیے رکھی کہ وہ اب اس کی بات سننے کو تیار ہی نہیں۔
یعنی ہر انسان ہی اس ریس میں اپنے تئیں بھاگ رہا ہے۔ لیکن آخر میں ایسے تمام لوگوں کے لیے سوائے افسوس کے، ہاتھ ملنے کے، کچھ بھی نہیں۔ میں ہرگز نہیں کہتا کہ حلال رزق کی تلاش میں مت نکلیں، جی بھر کر کمائیں دولت، لیکن اپنے لیے اور اپنے اہل و عیال کے لیے اتنا وقت روزانہ ضرور نکالیے کہ آپ کو اور آپ کے اہل و عیال کو آپ کی وقعت کا احساس رہے۔
ایک نوالہ کم کھا لینے سے، ایک فٹ مکان نیچا رکھ لینا سے، ایک ماڈل پرانی گاڑی رکھ لینے سے، ایک کمرہ کم بنا لینے سے، ایک ایکڑ کم زمین بنا لینے سے، ایک پلاٹ کم خرید لینے سے، چند روپے کم کما لینے سے اور ایک دن فاقہ کر لینے سے بھی یقین مانیں کوئی فرق نہیں پڑتا، جنہیں آپکی قدر ہے انہیں رہنی ہے، جنہیں نہیں ہے آپ لاکھ ترلے مار لیجیے کچھ حاصل نہیں۔
اگر آپ نے خود سے پہلے کبھی سوال نہیں کیا تو آج کیجیے، جو کچھ بھی آپ کر رپے ہیں کیا آپ یہی کرنا چاہتے ہیں؟ کیا آپ واقعی جانتے بھی ہیں کہ آپ کیا کرنا چاہتے ہیں؟ آپ کی تسکین کہاں ہے؟ اور آپ کہاں آن پہنچے ہیں؟ کیوں کہ میں نے ایسے کئی لوگوں کی تحریریں پڑھی یا رودادیں سنی ہیں جو آخری عمر میں سوائے پچھتاوے کے اپنے پاس کچھ نہیں دیکھتے۔


