شاہ سلمان اور ولی عہد جمال خشوگی کی موت پرغم سے نڈھال


مقتول سعودی صحافی کی پراسرار موت کا معمہ تو حل ہوگیا لیکن اب اس مظلوم کے قتل کو مذاق بنادیا گیا ہے۔ سعودی عرب کے بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز اور شریف النفس ولی عہد محمد بن سلمان نے استنبول میں واقع سعودی کونسل خانے میں قتل کیے جانے والے صحافی جمال خشوگی کی موت پر ان کے بیٹے سے ٹیلی فون پر تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ فون میں بادشاہ سلامت اور ولی عہد نے کہا ہے کہ وہ جمال خشوگی کی موت پر بہت دکھی اور غم زدہ ہیں۔ جب سے انہیں اس موت کے بارے میں معلوم ہوا ہے انہیں رات کو نیند تک نہیں آتی۔ سنا ہے بادشاہ سلامت اور عظیم ولی عہد جمال خشوگی کی موت کے بعد گہرے صدمے میں ہیں۔

مظلوم و مقتول عالمی صحافی جمال خشوگی کے قتل کی ہر روز نت نئی داستانیں سامنے آرہی ہیں۔ ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے اس قتل کو بلیک کامیڈی میں بدل دیا گیا ہو۔ قتل کرنے اور کرانے والے دونوں آنسو بہا رہے ہیں۔ قتل کرنے اور کرانے والے دونوں کی زبان پر ایک ہی راگ ہے کہ وہ تو جمال خشوگی کو قتل نہیں کرنا چاہتے تھے لیکن بدقسمتی سے قتل کا سانحہ ہوگیا۔ موت کی پہلی داستان سعودی عرب کی شاہی سرکار نے کچھ ایسے بیان کی تھی کہ محترم جمال خشوگی کونسل خانے آئے تھے اور کام کراکے دوسرے دروازے سے خاموشی سے چلے گئے۔ انہیں کیا معلوم کہ وہ کہاں چلے گئے۔ جب عالمی میڈیا اور عالمی دنیا نے اس داستان کو افسانہ قرار دیا تو پھر کہا گیا کہ جناب اصل میں ہوا کچھ یوں تھا کہ وہ سامنے والے دروازے سے آئے۔ انہیں کرسی پر بٹھایا گیا۔ جلدی سے شاہی کونسل خانے نے ان کا کام کیا اور پھر وہ پچھلے دروازے سے چپکے سے نکل گئے۔

عالمی دنیا نے اس کہانی کو بھی رد کردیا اور شاہی کامیڈینز حکمرانوں کو تنقید کا نشانہ بنائے رکھا۔ اس کے بعد سعودی شاہی وزیر خارجہ میدان میں آئے اور انہوں نے ایک نئی بلیک کامیڈی کی۔ انہوں نے فرمایا جناب مسئلہ یہ ہے کہ جمال بھائی کونسل خانے آئے تھے۔ اسی دوران جمال بھائی اور سعودی انٹیلی جنس اہلکاروں کے درمیان کسی چھوٹی موٹی بات پر لڑائی ہو گئی۔ جمال خشوگی اسی لڑائی میں اچانک مر گئے۔

اس داستان میں بھی افسانوی خیال کا غلبہ ہے لیکن ایک حقیقت ضرور بتا دی گئی کہ جمال بھائی پندرہ سعودی اہلکاروں کے ساتھ ہاتھا پائی کرتے ہوئے مارے گئے۔ اب رائیٹرز ایک نئی داستان سامنے لے آیا ہے۔ اس داستان مین بھی بلیک کامیڈی کا عنصر ہے لیکن کچھ حقائق بھی جانے انجانے میں سامنے لائے گئے ہیں۔ ایک گمنام سعودی سیکیورٹی افسر نے رائیٹرز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ دراصل جمال بھائی کی موت گلاگھٹنے سے یا گلا دبانے سے واقع ہوئی ہے۔ موت کے بعد جمال بھائی کی لاش کے ٹکڑے ٹکڑےکیے گئے۔ اس کے بعد اس لاش کو قالین میں بوری بند شکل دی گئی اور پھر لاش کو ایک مقامی ترک باشندے کے حوالے کردیا گیا۔

نامعلوم سیکیورٹی افسر نے رائیٹرز کو بلیک کامیڈین انداز میں بتایا کہ پندرہ سعودی انٹیلی جنس اہلکار حقیقت میں جمال بھائی کو اس بات پر منا رہے تھے کہ وہ آرام سے سعودی عرب ان کے ساتھ چلے جائیں تاکہ بیرونی طاقتوں کے ہاتھوں استعمال نہ ہوں۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا پندرہ سیکیورٹی اور انٹیلی جنس کے اہلکار جمال صاحب سے یہ مذاکرات کررہے تھے کہ وہ سعودی عرب چلے چلیں۔ یہ قائل کرنے کا کیا طریقہ ہے کہ صحافی کو قتل کردیا جائے؟ نامعلوم سعودی سیکیورٹی افسر نے دکھی لہجے میں یہ بھی بتایا کہ شاہی حکمرانوں کی طرف سے سیکیورٹی اور انٹیلی جنس اہلکاروں کو یہ واضح پیغام دیا گیا تھا کہ پہلے جمال بھائی کو استنبول میں محفوظ مقام پر منتقل کیا جائے اور اس کے بعد انہیں سعودی عرب شفٹ کیا جائے تاکہ شاہی فیملی ان کو شاندار انداز میں خراج تحسین پیش کرسکے۔

لیکن جمال بھائی سعودی جانے کے لئے تیار نہ تھے۔ چیخنے چلانے لگے۔ اسی دوران کچھ سیکیورٹی اہلکاروں نے ان کا گلا دبا دیا اور وہ مر گئے۔ مرنے کی وجہ یہ تھی کہ جمال بھائی کی عمر بہت زیادہ تھی اور وہ معمولی سا تشدد برداشت نہ کرسکے۔

Facebook Comments HS