اردو زبان کی ترویج ہمیں ایک قوم بنا سکتی ہے
ہماری اردو جتنی مرضی اچھی ہو جائے اس میں سے کھٹی لسی کی بو ضرور آتی ہے۔ پنجاب کے جوان اور کسان یہی لسی پی کر جوان گھبرو ہوتے ہیں اور زمین کا سینہ چیر کر ہمارے لئے گندم اگاتے ہیں۔ پنجاب کے لکھاری جتنی کوشش کر لیں ان کی تحریر میں دلی کی بریانی کی خوشبو نہیں آسکتی۔ یہ الگ بات کہ خیالات اور احساسات کی کوئی زبان نہیں ہوتی۔ زبان صرف اظہار کا ذریعہ ہے ورنہ بلھے شاہ جو کہ گیا غالب کی سوچ بھی وہاں تک نہیں پہنچ سکی۔
پنجاب کے دفتروں میں لکھی جانے والی چٹھیاں اور ملازمین کی لکھی جانے والی درخواستیں ملاحظہ کی جائیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ ہماری قومی زبان کہاں جارہی ہے اور قومی زبان کے ساتھ ہم کیا کھلواڑ کرتے چلے جا رہے ہیں۔ ہماری ایک سٹاف نرس انگریزی میں چھٹی کی درخواست لکھ کر لائی جو غلطیوں سے بھرپور تھی۔ میں نے اسے کہا درخواست اردو میں لکھ کر دو۔ میرا خیال تھا اس کی اردو ٹھیک ہونی چاہیے۔ وہ اردو میں بھی میڈیکل سپرنٹینڈنٹ لکھ لائی۔ میں نے درخواست لینے کی بجائے اسے زبانی چھٹی کا حکم جاری کردیا۔ یوں ایک سرکاری قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے میں نے دو زبانوں یعنی اردو اور انگلش کی عزت بچالی۔ دونوں زبانوں پر اس سے بڑا احسان مجھ سے نہ ہو سکے گا۔
اردو ہماری قومی زبان ہے۔ یہ واحد زبان ہے جو پاکستان کے ہر حصے میں بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ اگرچہ پہلے پہل یہ لشکریوں کی زبان تھی۔ لشکر میں طرح طرح اور جگہ جگہ کے لوگ شامل ہوا کرتے اس لئے طرح طرح کی زبانیں بولی جاتی تھیں جو مل کر اردو بن گئی۔ مزے کی بات ہے انگریز اپنی حکومت مضبوط کرنے کے لئے اردو کی ترویج کرتے رہے۔ برطانیہ سے آنے والے انگریزوں کو اردو سکھائی جاتی۔ انگریز اپنی حکومت مضبوط کرنے کے لئے اردو پڑھ رہا تھا اور ہم انگریز کی حکومت مضبوط کرنے کے لئے انگریزی سیکھ رہے تھے۔ یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔
ہمارے پرائمری سکولوں سے یونیورسٹی تک انگریزی کا غلبہ ہے۔ جسے انگریزی زبان آتی ہے وہی اچھا طالبعلم ہے، وہی اچھا استاد اور زیادہ انگریزی بولنے والا قابل وکیل، ڈاکٹر اور جج بنتا ہے۔ پوری دنیا میں ٹیکنیکل تعلیم مقامی زبان میں دی جاتی ہے سوائے پاکستان کے۔ انگریز تو یہاں اردو سیکھتا رہا اور ہم انگریزی کے پیچھے پڑے ہیں۔
یورپ کی سیر کے دوران ایک بار ہمارا ایک گورے سے جھگڑا ہو گیا۔ غصے میں ہم نے اسے پنجابی میں ایک تگڑی گالی دے ماری۔ جواب میں اس نے قہقہ لگا کر کہا یہاں اس طرح کی گالیوں کو جوک کے طور لیا جاتا ہے۔ یورپ میں ماں بہن کی گالی کو گالی ہی نہیں سمجھا جاتا۔ وہ گورا پاکستان میں کئی سال کام کرتا رہا تھا۔ اور اردو پنجابی اچھی طرح سمجھتا تھا۔ گورے نے آدھی دنیا پر حکومت کی ہے اس لحاظ سے گورے کو آدھی دنیا کی زبانوں کی گالیاں ازبر ہونی چاہیے۔
ایک رپورٹ کے مطابق اردو دنیا کی دوسری بڑی زبان ہے جو دنیا کے مختلف ممالک میں بولی یا سمجھی جاتی ہے۔ پاکستان کے پہلےمتفقہ آئین 1973 کے آرٹیکل 251 کے تحت پاکستان کی قومی زبان اردو کی بطور سرکاری زبان ترویج کے لئے حکومت کو 15 سال کا وقت دیا گیا تھا تاکہ اس دوران اردو کو سرکاری زبان بنانے کے لئے ضروری اقدامات کر لئے جائیں۔ آج 45 سال کے باوجود ہم وہیں کے وہیں کھڑے ہیں۔ 2015 میں سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے اپنی سربراہی میں قائم ایک بنچ کے ذریعے فیصلہ سناتے ہوئے حکومت کو حکم دیا کہ 15 دن کے اندر اردو نافز کرنے کے اقدامات کرے۔ اگرچہ نواز شریف حکومت نے ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے حکم جاری کیا۔ عملی طور پر بات آگے نہیں بڑھ سکی۔
2000 سے لے کر آج تک انگریزی سکولوں کی تعداد میں 105% تک اضافہ ہوا ہے اور ان انگریزی سکولوں کو پروموٹ کرنے والے دعوی کرتے ہیں کہ ہمارے سکولوں کے تعلیم یافتہ بچے ہی ڈاکٹر، انجینیر اور اعلی افسر بن رہے ہیں۔ کیونکہ ان کی انگریزی پر گرفت زیادہ مضبوط ہے۔ اس وجہ سے ہمارے رورل اور اربن طلبا میں اور سوسائٹی میں فاصلے بڑھتے جارہے ہیں۔ 2017 میں لاہور ہائیکورٹ نے ایک حکم کے ذریعے سی ایس ایس کا امتحان اردو میں لینے کا حکم جاری کیا تھا بدقسمتی سے اپیل میں وہ حکم منسوخ ہو گیا۔
18ویں ترمیم کے بعد مرکز کے پاس کوئی ایسی اتھارٹی نہیں رہ گئی جو زبان کے حوالے سے ایسا کوئی حکم جاری کر سکے۔ لیکن جسٹس جواد خواجہ کا وہ حکم حکومت کی مدد کرسکتا ہے۔ ہمیں اس پر کام کرنا ہوگا کہ اردو بطور زبان ہماری وحدت کی علامت ہے۔ اردو کی ترویج کرکے ہم ایک قوم بن سکتے ہیں۔ اللہ تعالی ہماری مدد فرمائے آمین۔


