قدم بڑھاؤ نواز شریف! چابی والا کھلونا تمہارے ساتھ ہے


زیادہ عرصہ نہیں گزرا۔ یہی کوئی سات ماہ پرانی بات ہے جب وطن عزیز میں ایوان بالا کے انتخابات منعقد کیے گئے تھے۔ سینیٹ کے انتخابات کا آخری مرحلہ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کا انتخاب تھا۔

سینیٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب کے بعد نواز شریف نے بیان دیا تھا کہ ”چابی والے کھلونے ایک ہی جگہ سجدہ ریز ہو گئے۔ بنی گالا اور بلاول ہاؤس والے جھوٹے اور منافق ہیں۔ “ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ”زرداری اور نیازی مل کر بھی ہم پر بھاری نہیں۔ “ محمود خان اچکزئی کا بیان تھا کہ ”غیر جمہوری قوتوں کو فتح ہوئی“ جبکہ میر حاصل بزنجو نے کہا کہ ”آج پارلیمان کا منہ کالا ہوا۔ “ مسلم لیگ نواز کی ترجمان اور اس وقت کی وزیر مملکت برائے اطلاعات محترمہ مریم اورنگزیب نے کہا تھا کہ ”سنجرانی کا انتخاب نہیں بھرتی ہوئی، پیپلز پارٹی کا بھٹو شہید اور بھرم ختم ہو گیا۔ غیر جمہوری عناصر بے نقاب ہو گئے۔ “ خواجہ سعد رفیق نے فرمایا تھا کہ ”زرداری اور عمران نے جمہوریت کی پشت پر چھرا گھونپا۔ “

اس کے علاوہ طلال چوہدری، مشاہد اللہ خان اور مصدق ملک نے اپنی روایات کے مطابق بیان دیے جن میں کہا گیا کہ ”زرداری بیماری بنی گالا پہنچ گئی۔ “ یہ سب 13 اور 14 مارچ 2018 کے اخبارات میں شائع شدہ بیانات ہیں۔

یہ سارا غصہ اس لیے اچھل کر باہر آیا تھا کیونکہ سینیٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب میں مسلم لیگ نواز اور اتحادیوں کو شکست ہو گئی تھی۔ وجہ اس شکست کی یہ بنی تھی کہ عمران خان نے اپنے تمام سینیٹرز آزاد سینیٹرز کے ساتھ اس شرط پر نتھی کر دیے تھے کہ چیئرمین کا امیدوار بلوچستان سے ہوگا۔ پیپلز پارٹی چونکہ مسلم لیگ نواز کے امیدوار کو ووٹ نہیں دینا چاہتی تھی اور اپنی عددی حیثیت کے مطابق چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین بھی کامیاب نہیں کروا سکتی تھی چناچہ پیپلز پارٹی کے پاس اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچا تھا کہ وہ بھی آزاد پینل کے ساتھ کچھ لو اور کچھ دو کے اصول کے تحت معاہدہ کر کے کم از کم اپنا ڈپٹی چیئرمین منتخب کروا لے۔

چونکہ عمران خان پہلے ہی اپنے تمام ووٹ آزاد پینل کو دینے کا اعلان کر چکے تھے اس لیے وہ بھی اس لین دین پر اتفاق کر گئے اور چیئرمین کے ووٹ کے بدلے ڈپٹی چیئرمین کے ووٹ پیپلز پارٹی کے امیدوار سلیم مانڈوی والا کو دے دیے۔ یہ سیاسی داؤ پیچ تھے جس میں عمران خان کا پلڑا بھاری رہا اور ان کے حمایت یافتہ امیدوار چیئرمین سینیٹ منتخب ہو گئے۔ جبکہ ان کے حریف تلملا کر سازشی تھیوریاں بیان کرتے رہ گئے تھے۔

وقت کا کام ہے بدل جانا اور وقت بدل گیا۔ ملک میں عام انتخابات ہوئے اور ایک چابی والا کھلونا وزیر اعظم بن گیا جب کہ دوسرے چابی والے کھلونے کی قسمت میں ”جمہوریت کی واحد علم بردار“ جماعت مسلم لیگ نواز کے ساتھ اپوزیشن کی شراکت آئی۔ جھوٹے اور منافق لوگوں نے مل کر حکومت تو نہیں بنائی۔ البتہ ”جمہوریت کی واحد علم بردار“ جماعت نے ”جمہوریت کی پشت میں چھرا گھونپنے والی“ جماعت سے ہاتھ ضرور ملا لیا۔ اب یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ کون کس کو جمہوریت اور سیاست کا سبق پڑھائے گا۔ آمریت کی گود میں پل بڑھ کر جوان ہونے والی جماعت خود کو جمہوری کہ رہی ہے جب کہ جمہوری روایتوں کی امین جماعت کو چابی والا کھلونا قرار دے چکی ہے۔

حالات نے ان دونوں جماعتوں کو ایسے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں دونوں جماعتوں کے بنیادی نظریات دفن ہو کر رہ گئے ہیں۔ مزاحمت کی سیاست والے مفاہمت کے داعی بن چکے جبکہ مفاہمت کے خوگر مزاحمت میں پناہ ڈھونڈ رہے ہیں۔

نواز شریف مبینہ طور پر آصف زرداری کو پیغام بھیج رہے ہیں کہ آصف زرداری پر قائم مقدمات میں ان کا کوئی ہاتھ نہیں ہے بلکہ انہیں تو اس کا علم بھی نہیں تھا۔ آصف زرداری پریس کانفرنس کرتے ہیں اور مشترکہ اپوزیشن کو حکومت کے خلاف مشترکہ قرارداد لانے کی تجویز دیتے ہیں۔ پیغام رسانی کے فرائض مولانا فضل الرحمان کے ذمے لگتے ہیں جنہیں ان کے آبائی علاقے کے عوام مسترد کر کے پارلیمنٹ سے باہر کر چکے، اور جس کا غم مولانا کی جان کا روگ بن چکا اور وہ پورے نظام کی بساط لپیٹ دینے کو کمر بستہ دکھائی دیتے ہیں۔

یہ پاکستان کی سیاست ہے۔ فوقیت محض مفاد پرستی کو حاصل ہے۔ مقاصد کے حصول کی راہ میں آنے والے چابی والے کھلونے بھی بن جاتے ہیں اور جمہوریت کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے والے بھی۔ پھر وہی چابی والے کھلونے شریک سفر بھی ٹھہرتے ہیں اور جمہوریت کے محافظ بھی بن جاتے ہیں۔

یاد نواز شریف کو صرف یہ دلانا ہے کہ جس چابی سے چلنے والے کھلونے نے سینیٹ الیکشن میں جمہوریت کی پشت میں چھرا گھونپا تھا، اسی کے ساتھ مل کر چلنے پر اب آپ بھی چابی والے کھلونے ہی تسلیم کیے جائیں گے اور جمہوریت کی پشت میں کاری وار آپ کے ذمے لگ جائے گا۔ لہٰذا۔
قدم بڑھاؤ نواز شریف! چابی والا کھلونا تمہارے ساتھ ہے۔

Facebook Comments HS

اویس احمد

پڑھنے کا چھتیس سالہ تجربہ رکھتے ہیں۔ اب لکھنے کا تجربہ حاصل کر رہے ہیں۔ کسی فن میں کسی قدر طاق بھی نہیں لیکن فنون "لطیفہ" سے شغف ضرور ہے۔

awais-ahmad has 122 posts and counting.See all posts by awais-ahmad