کوکو کورینا ہم شرمندہ ہیں
شاید بچپن میں ہم نے اتنی بار دودھ نہیں پیا ہو گاجتنی بار کوکو کورینا گایا تھا۔ کوکوکورینا ایک ایسا گانا تھا کہ جو بھی گا لیتا اس کی آواز پر سوٹ کر جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ بے سرے لوگ بھی کوکوکورینا گا کر خود کو بڑا فنکار سمجھنے لگ گئے۔ لیکن کوک اسٹوڈیو میں مومنہ مستحسن اور اداکار احد رضا میر کی آواز میں جو کوکو کورینا پیش کیا گیا وہ لوگوں کو متاثر نہ کر سکا۔ اس وقت سوشل میڈیا پر جو ٹاپک سب سے زیادہ زیر بحث ہے وہ ’کوک اسٹوڈیو کا بلاتکار‘ ہے۔
سوشل میڈیا صارفین کی طرف سے کوکو کورینا کا ستیاناس کرنے پر نوجوان گلوکاروں پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ کوکوکورینا کی اصل دھنوں کو خراب کرنے پر نہ صرف عام لوگ بلکہ وفاقی وزراء بھی نا خوش ہیں۔ جس کا اظہار شیریں مزاری نے تو ٹویٹر پر گانے کو خوفناک قراردیتے ہوئے کیا اور ساتھ ہی شدید برہمی کا اظہار بھی کیا۔ شاہد شریں مزاری نے بھی یہ گانا خوب گایا ہو گا کیونکہ اس گانے کا ستیاناس ہونے کا درد وہی محسوس کر سکتا ہے جنھوں نے ماضی میں اس گانے کے ساتھ کھلونے کی طرح کھیلا ہوگا۔ تاہم یہ تنقید احد رضا اور مومنہ مستحسن کو نہ بھائی اور انہوں نے بھی شریں مزاری کو خوب جواب دیے۔
بقول احد رضا میر نوجوانوں کو سپورٹ کرنا چاہیے۔ لیکن شاہد احد رضا میر یہ بات بھول گئے کہ آپ پر تنقید کرنے والے وہی لوگ ہیں جنھوں نے آپ کی ڈارمہ سیریل ’یقین کا سفر‘ میں اداکاری کی تعریفوں کے پل باندھ دیے تھے۔ جب کہ مومنہ مستحسن کو بھی یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ یہی وہ لوگ ہیں جوآپ کی آواز میں گایا ہو ا گانا ’ آفریں آفریں‘ دن رات سنا کرتے تھے۔ یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے آپ دونوں کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا تھا۔ چونکہ آپ دونوں تعریفیں سمیٹنے کے عادی ہیں تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہم کان بند کر کے آپ کے گانے کی تعریف کرتے رہیں۔
ایک بات سمجھ سے باہر ہے کہ ہمارے ملک میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں۔ آئے روز کئی نوجوانوں کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوتی ہیں پھر ان کی خوبصورت آواز کو کچھ دن تک پزیرائی بھی ملتی ہے۔ لیکن کچھ روز بعد ہی وہ دھویں کی طرح غائب ہو جاتے ہیں۔ جس طرح جرائم پیشہ افراد مضبوط سیاسی پشت پناہی کی وجہ سے محفوظ رہتے ہیں۔ اسی طرح یہ اداکار لوگ بھی بے سرے گانے بڑی ہمت سے گاتے ہیں کیونکہ انہیں شوبز انڈسٹری کے کچھ لوگوں کی مضبوط پشت پناہی حاصل ہوتی ہے۔ جو انہیں کہتے ہیں کہ ایسے بے ڈھنگے اقدام سے ان کی شہرت میں مزید اضافہ ہو گا۔
کچھ عرصہ قبل، میں نے ایک پینٹر کی آواز سنی جسے پاکستان کا ارجیت سنگھ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔ اسی طرح اور کئی ایسے لوگ ہیں جو اپنی خوبصورت آواز لیے یا تو ریڑھی لگا کر پھر رہے ہوتے ہیں یا پھر کسی بنگلے میں جھاڑو دے رہے ہوتے ہیں۔ آخر کوک اسٹوڈیو کو ایسے لوگ نظر کیوں نہیں آتے۔ جن کے سر پکے ہیں جن کی آواز کمال ہے۔
احد رضا میر کو بھی یہ بات سمجھ لینی چاہیے ایک اداکار کا کام اداکاری کرنا ہوتا ہے۔ ضروری نہیں کہ ہر اداکار گانا بھی گا سکے۔ جب کہ کوک اسٹوڈیو کو بھی لوگوں کے ذہنوں پر کئی سالوں سے سوار خوبصورت اور یادگار دھنوں کے ساتھ کھلواڑ کرنے کی بجائے کچھ نیا پڑوڈیوس کرنے کی کوشش کرنی چاہیے جو یقیناً عوام کو متاثر کرے گا۔ فی الحا ل کوک اسٹوڈیو کو ’کوکوکورینا ہم شرمندہ ہیں ’ کہتے ہوئے عوام سے معافی مانگ لینی چاہیے۔


