جو مرضی کر لیں، دوبارہ کہہ رہا ہوں احتساب سب کا ہوگا: عمران خان


وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ قوم کو خوشخبری سنانا چاہتا ہوں۔ قرضے کی ادائیگی کی مشکل سے دوچار حکومت کو سعودی عرب سے زبردست اقتصادی پیکیج مل گیا ہے جس کے بعد دباؤ کم ہوگا۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ سب سن لیں، جو چاہیے مرضی ہو جائے، دوبارہ کہہ رہا ہوں احتساب سب کا ہو گا۔

سعودی عرب کے دورے سے واپسی پر قوم سے خطاب میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان کوشش کر رہا ہے کہ یمن کی جنگ میں ثالث کا کردار ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ اقتدار میں آتے ہی ہمیں گزشتہ حکومت کے لئے ہوئے قرض کی قسط کی ادائیگی کے دبائو کا سامنا تھا، اس وجہ سے کئی مشکل فیصلے کئے۔ ہماری کوشش تھی کہ آئی ایم ایف کے بجائے دوست ممالک سے قرض لیا جائے۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ سعودی پیکیج ملنے کے بعد اگر حکومت نے آئی ایم ایف سے قرض لیا بھی تو وہ زیادہ نہیں ہو گا۔ خوشی ہے کہ میرے کہنے پر سعودی عرب نےویزے کی فیس کم کر دی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ قرضے اس لیے چڑھے ہیں کہ یہاں منی لانڈرنگ کی گئی ہے، قرضے واپس کرنے کیلئے ٹیکس لگانا پڑے گا، مہنگائی بڑھے گی۔

عمران خان نے یہ بھی کہا کہ ہمیں بلیک میل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تا کہ این آر او کیا جا سکے۔ سب سن لیں، جو چاہے مرضی ہو جائے، دوبارہ کہہ رہا ہوں، احتساب سب کا ہوگا۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ فالودے والے کے اکاؤنٹ میں 2 ارب روپے سامنے آ رہے ہیں، یہ کہاں سے آرہا ہے۔ عوام سے وعدہ کیا تھا کہ کرپٹ لوگوں کوجیل میں ڈالوں گا، کسی کرپٹ شخص کو نہیں چھوڑوں گا۔

انہوں نے کہا کہ اگر دونوں جماعتیں سڑکوں پر آنا چاہتی ہیں تو آئیں انہیں کنٹینر ہم دیں گے۔ دونوں جماعتیں ہم سے این آر او لینا چاہتی ہیں، نہیں دیں گے۔ مشرف نے ن لیگ اور پیپلزپارٹی کو این آر او دیا، یہ چاہتے ہیں کہ دباؤ ڈال کر این آر او لے لیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ آج گردشی قرضہ 1200 ارب کا ہے، انہوں نے اتنا قرضہ لیا، ہم پرتنقید کرنے والی جماعتوں کو شرم نہیں آتی۔ 1971 سے 2008 تک پاکستان پر 6 ہزار ارب کا قرضہ تھا، 2008 سے اب تک حکومت پر 30 ہزار ارب کا قرضہ ہو گیا ہے ۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ کرپشن برداشت کرتے ہیں تو قیمت قوم کو ادا کرنی پڑتی ہے، غربت کو کم کرنے کے لیے آنے والے دنوں میں خصوصی پیکیج دیں گے۔ وزیر اعظم نے مزید کہا کہ پاکستان میں کرپشن نیچے آگئی ہے، مزید نیچے آئے گی۔ منی لانڈرنگ روکنے کے لیے خود معاملات دیکھ رہا ہوں۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کرپشن ایک کینسر ہے۔ اس کا علاج کر رہے ہیں۔ ریلوے، پی آئی اے اور دیگر سرکاری ادارے نقصان میں ہیں، سارے اداروں کو ٹھیک کرنا ہے۔

ہاؤسنگ پروجیکٹ سے متعلق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ہم نے ملک میں 50 لاکھ گھر بنانے ہیں، ہاؤسنگ میں غیرملکی سرمایہ کاری لائیں گے، بیرون ملک پاکستانی یہاں سرمایہ کاری کے لیے تیار ہیں۔

Facebook Comments HS