جنسی کمزوری کا بوٹ پالش سے علاج

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مشرقی اور مغربی ممالک کے لوگوں کا ذہبی اعتبار سے مقابلہ کیا جائے، تو یہ واقعہ انتہائی دلچسپ ہے، کہ یورپ اور امریکہ میں آپ کو ایک شخص بھی ایسا نہ ملے گا، جو جنسی احساس کمتری میں مبتلا ہو، اور مشرقی ممالک میں ایک شخص بھی ایسا نہیں، جو اپنے آپ کو جنسی اعتبار سے کسی نہ کسی حد تک کمزور نہ سمجھتا ہو، اور جس کو مقوی ادویات کی ضرورت نہ ہو۔ جس کا نتیجہ ہے، کہ یورپ اور امریکہ کے کسی بھی اخبار یا رسالہ میں مقدیہ ادویہ کا ایک بھی اشتہار نظر نہیں آتا، اور ہندوستان اور پاکستان کا شاید ہی کوئی اخبار یا رسالہ ایسا ہو گا، جس میں گندے جنسی اشتہارات موجود نہ ہوں۔ اور ان ممالک کے وید اور حکیم تو صرف مقوی ادویات اور کچے سنکھئے کے کشتوں پر ہی زندہ ہیں۔

اخبار ”ریاست“ کو جاری ہوئے چند برس ہوئے تھے، اور اس میں دوسرے اشتہارات کے علاوہ جنسی بیماریوں کے اشتہاریوں بھی کافی تھے، تو بجنور سے ایک مسلمان کا خط میرے پاس پہنچا، جس میں یہ سطور تھیں:۔

” آپ کے اخبار کا میں مداح ہوں، اور میرے گھر کے تمام لوگ اسے شوق سے پڑھتے ہیں، اور تمام بچے بھی ہر ہفتے اس کے منتظر رہتے ہیں۔ پرسوں کا واقعہ ہے، میری لڑکی جس کی عمر گیارہ برس کی ہے، اور جو پانچوں جماعت میں پڑھتی ہے، آپ کا اخبار میرے پاس لائی، اور اس نے اس میں سے ایک اشتہار دکھاتے ہوئے معصومانہ انداز میں مجھ سے پوچھا، کہ لفظ احتلام کے کیا معنی ہیں؟ اپنی بچی کا یہ سوال سن کر میری جو حالت ہوئی، وہ بیان نہیں کر سکتا۔ اس کا اندازہ آپ خود ہی کر سکتے ہیں۔ میں نے لڑکی کو ٹالتے ہوئے ایک کام سے بھیج دیا، اور جب وہ چلی گئی تو اس اشتہار والے صفحہ کو اخبار میں سے پھاڑ دیا، تا کہ وہ اس اشتہار کو مجھے پھر نہ دکھا سکے“۔

اس خط کو میں نے جب دیکھا، تو میں نے انہتائی شرمندگی محسوس کی۔ کچھ دیر سوچتا رہا، اور سوچنے کے بعد فیصلہ کیا، اور اخبار کیا، اور اخبار میں اعلان کر دیا کہ آئندہ ”ریاست“ میں کوئی بھی جنسی اشتہار شائع نہ ہو گا۔ چنانچہ یہ واقعہ ہے، کہ اس قدم کے اٹھانے کے باعث ”ریاست“ کی اشتہارات کی آمدنی میں کئی سو روپیہ ماہوار کی کمی ہوگئی۔ اس کے بعد کوئی اشتہار کسی دوائی کا شائع ہوا، تو بہت ہی احتیاط کے ساتھ، تاکہ ”ریاست“ معصوم اور بیگناہ لڑکیوں اور لڑکوں کے ذہن کو پلید کرنے کا باعث ثابت نہ ہو۔

چند برس ہوئے راقم الحروف ہندوستان ہیلتھ منسٹر راجکماری امرت کور سے ملا اور میں نے اردو کے اخبارات کے کٹنگ دیتے ہوئے ان سے درخوست کی، کہ ہندوستان کے اخبارات کو اس پلیدگی سے نجات دی جائے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا، کہ گورنمنٹ ہند نے فحش اشتہارات کے خلاف ایک قانون پاس کیا۔ پاکستان کے ہیلتھ منسٹر جنرل برکی کو بھی میں نے لکھا، اور کچھ اخبارات کے گندے اشتہارات اس خط کے ساتھ بھیجے، اور میرا ارادہ تھا، کہ پچھلے سال جب میں پاکستان گیا، تو جنرل برکی سے خود مل کر اخبارات کی اس پلیدگی پر ان کی توجہ دلاتا، مگر وقت نہ ہونے کے باعث ایسا نہ کر سکا۔ مجھے افسوس ہے، کہ پاکستان کی گورنمنٹ نے اس سلسلہ میں اب تک کوئی قدم نہیں اٹھایا، اور پاکستان کے اخبارات اس غلاظت میں مبتلا ہیں۔

جنسی احساس کمتری کے سلسلہ کا ایک واقعہ بیان کرتا ہوں، جو دلچسپ اور افسو سناک بھی ہے۔ جرنلزم کا پیشہ اختیار کرنے سے پہلے میں میڈیکل پریکٹس کرتا تھا۔ اور طبی دنیا کی نئی ایحادات سے مجھے دلچسپی تھی، جو اب بھی قائم ہے۔ میں نئی ایجاد ہونے والی ادویات کی فہرسیتں اور لٹریچر منگاتا رہتا ہوں، اور اگر کوئی اچھا ڈاکٹر ملنے کے لئے آجائے، تو بعض بیماریوں کے متعلق اس سے بھی دیر تک بحث ہوا کرتی ہے۔ میں ناگپور جیل میں تھا، تو اس جیل کا سٹاف مجھ سے بہت اچھی طرح پیش آتا، کیونکہ یہ لوگ اخبارات کے اثرات سے واقف تھے۔

جیل کے سپرنٹنڈنٹ کرنل موڈی تو دوسرے تیسرے روز میرے پاس آیا کرتے، اور میری ضروریات دریافت کرتے۔ مگر ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ اور اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ ہر روز صبح میرے پاس آتے، اور اس کے بعد شام کو قیدیوں کی گنتی کرنے اور بارکیں بند کرنے کے بعد میرے پاس آ جاتے۔ وہاں ہی چائے پیتے، کیونکہ میرے پاس بسکٹ، انڈے اور پھل وغیرہ کافی مقدار میں موجود رہتے، اور ایک آدھ گھنٹہ باتیں کرتے۔ ایک روز باتوں باتو ں میں ری جووی نیشن ( اعادہ شباب ) کے مسئلہ پر ذکر شروع ہو گیا، تو میں نے اپنی معلومات کے مطابق ان کو بتایا، کہ بڑھاپا کیوں آتا ہے اور شاب اور قوت کو قائم رکھنے کے لئے کیا کرنا چاہیے؟ یہ باتیں ایک گھنٹہ کے قریب ہوتی رہیں۔

ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ اور اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ چلے گئے، تو اس وارڈر نے جو میرے پہرے پر قریب ہی کھڑا تھا ( میرے پہرے پر اس وارڈ میں ایک سپاہی وارڈر ہمیشہ موجود رہتا۔ جس کا مقصد یہ تھا، کہ میں دوسرے کسی قیدی سے بات نہ کروں۔ مجھے جیل کی خرابیوں کا دوسرے قیدیوں سے علم نہ ہو اور میں رہا ہونے کے بعد جیل کی ان خرابیوں کو اخبار میں بے نقاب نہ کروں ) جیل کے ان افسروں کے جانے کے بعد مجھ سے سوال کیا:۔

” سردار جی! یہ ڈپٹی صاحب آپ سے باتیں کر رہے تھے، کیا یہ طاقت اور قوت کے متعلق تھیں؟ “
میں نے جواب دیا، کہ ”ہاں“۔

میرا یہ جواب سن کر اس وارڈر نے جو یو۔ پی کے ضلع پر تاب گڑھ کا رہنے والا بائیس برس کا جوان تھا ( کیونکہ پولیس اور جیل میں بطور سپاہی کے ملازم ہی وہ شخص ہو سکتا ہے، جو ہٹا کٹا و جوان اور اچھی صحت کا مالک ہو ) کہا:۔
” سردار جی! میری ابھی چھ ماہ ہوئے شادی ہوئی ہے، اور ایک ماہ ہوا، میں اپنی بیوی کو یہاں لے آیا ہوں۔ آپ مجھے بھی طاقت کی کوئی دوائی دیجئے“۔

یہ سن کر میں حیران ہو گیا، کہ یہ کم بخت بائیس برس کا ہٹا کٹا جوان ہے۔ اس کی صحت بہت اچھی ہے، مگر یہ بھی احساس کمتری میں مبتلا ہے۔ میں نے اس کو سمجھایا، کہ یہ کوئی دوائی مت کھائے، اس کو کسی دوا کی ضرورت نہیں۔ مگر اس نے ہاتھ باندھ باندھ کر التجائیں شروع کیں، کہ اسے دوائی ضرور جائے۔ اس کی ان التجاؤں کو دیکھ کر مجھے اس پر رحم بھی آتا تھا، اور میں اس کی بے و قوفی اور ناواقفیت پر مسکرا بھی رہا تھا۔ جب اس نے مجھے بہت ہی تنگ کیا، اور میرے پاؤں پکڑ لئے، تو میں نے سوچا، کہ گو یہ وارڈر میرے پہرے پر ہے، مگر چونکہ یہ میرا لحاظ کرتا ہے، میں دوسرے قیدیوں سے باتیں کر لیا کرتا ہوں۔ اگر یہ وارڈر بددل گیا، تو یہ مجھے اپنے افسروں کے حکم کے مطابق کسی قیدی سے کوئی بات نہ کرنے دے گا۔ اس بدبخت کا ذہن بھی جنسی احساس کمتری میں مبتلا ہے، میں نے اس سے کہا، کہ اچھا تمہیں دوائی دوں گا۔

میں اس وارڈر کو چھ سات روز ٹالتا رہا، تا کہ یہ دوائی لینے کے ارادہ سے باز آجائے، مگر اس کی التجاؤں میں روز بروز زیادتی ہوئی گئی۔ میں اس کی دوائی حاصل کرنے کی التجا سے تنگ آگیا۔ اس کے علاوہ نہ تو اس کم بخت کو کسی دوائی کی ضرورت تھی، اور نہ ہی جیل میں مرے پاس کوئی دوائی ہی تھی۔ میں نے سوچنے کے بعد فیصلہ کیا، کہ اس بیوقوف کی تسلی کے لئے کسی شیشی میں اس کو برا بوٹ پالش ( کیونکہ میرے پاس یہی موجود تھی ) دے دوں، اور کہوں، کہ اس سے چند سیکنڈ مالش کیا کرے۔

چنانچہ میں نے اس کو ایک چھوٹی شیشی بازار سے لانے کو کہا۔ شام کو یہ شیشی جس پر کارک لگا تھا، مجھے دے گیا۔ رات کو میں نے کوبرا پالش والی شیشی میں سے تھوڑی سی پالش اس شیشی میں بھر دی، اور اسے کاغذ میں لپیٹ کر رکھ دیا۔ اگلے روز صبح یہ میرے پہرے پر آیا، تو میں نے اسے یہ شیشی دی، اور کہا، کہ اس دوائی میں سے چنے کے برا بر ( حکم اور وید اپنی دوائی دیتے وقت چنے کے برابر، جو کے برابر یا چاول کے برابر ہی بتایا کرتے ہیں، یہی اوزان ہندوستان کے جہلا میں مقبول ہیں ) دوائی لے کر دو چار سیکنڈ مالش کیا کرے۔

یہ کم بخت دوائی لے کر بہت خوش تھا۔ دوپہر کو پہرہ سے فارغ ہو کر اپنے کوارٹر میں واپس گیا۔ وارڈروں کے صحن کے ایک کونہ میں اینٹوں کا چھوٹا سا پردہ ہوتا ہے، تا کہ پردہ کے اندر غسل کیا جا سکے۔ اس نے کوارٹر میں پہنچتے ہی اپنی بیوی سے کہا، کہ وہ کھانا تیار کرے۔ اس کی بیوی برآمدہ میں روٹیاں پکانے میں مصروف ہو گئی، اور یہ خود غسل کے لئے اس پردہ والی جگہ گیا۔ اس نے پہلے تو اس شیشی میں سے چنے کے برابر دوائی لکالی، اس دوائی کی انگلی سے مالش کی، اور مالش کرنے کے بعد اس نے غسل کیا۔ غسل سے فارغ ہونے کے بعد برآمدہ میں اپنی بیوی کے پاس آ کر اس نے کھانا کھایا۔ اور دوائی کی شیشی کو لے کر اپنے کپڑوں والے ٹرنک میں کپڑوں کی تہہ کے اندار چھپا دیا، تا کہ اس کی بیوی کو دوائی کا پتہ نہ چلے، اور یہ علم نہ ہو، کہ اس کا شوہر جنسی کمزوری کی بیماری میں مبتلا اور زیر علاج ہے۔

یہ وارڈر اگلے روز پھر پہرے پر آیا، تو بہت خوش تھا۔ میں نے پوچھا، کیا دوائی استعمال کی؟ میرے اس سوال کے جواب میں اس نے انتہائی اطمینان اور مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا، یہ دوائی بہت ہی اچھی ہے۔ میں نے جب مالش کی، تو اس دوائی کا فوراً ہی اثر ہوا۔ یہ سن کر میں مسکرا دیا اور اپنی مسکراہٹ کو ضبط کرتے ہوئے اس ہونق سے کہا، کہ اس دوائی کے متعلق کسی دوسرے سے ذکر نہ کرنا۔ تم چونکہ میرے پہرے پر ہو، اس لئے دوائی صرف تمہیں ہی دی ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

صفحات: 1 2

دیوان سنگھ مفتوں

سردار دیوان سنگھ مفتوں، ایڈیٹر ہفتہ وار ”ریاست“ دہلی۔ کسی زمانے میں راجاؤں، مہاراجوں اور نوابوں کا دشمن، ان کے راز فاش کرنے والا مداری، صحافت میں ایک نئے خام مگر بہت زور دار انداز تحریر کا مالک، دوستوں کا دوست بلکہ خادم اور دشمنوں کا ظالم ترین دشمن۔ سعادت حسن منٹو کے الفاظ۔

dewan-singh-maftoon has 26 posts and counting.See all posts by dewan-singh-maftoon