جمعیت نے یونیورسٹی میں ایک مبینہ شوہر کو ماحول خراب کرنے سے روک دیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک ویڈیو ہر جگہ چل رہی ہے کہ پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ کے سامنے مجمع جمع ہے، ایک شخص کو ایسی مار پڑ رہی ہے کہ کوئی تیس فٹ دور کھڑے ویڈیو بنانے والے کے کیمرے میں تھپڑوں کی آواز ایسے آ رہی ہے جیسے تین فٹ دور پڑ رہے ہوں۔ ایک نوجوان لڑکی چیخ رہی ہے ”کیا کیا ہے انہوں نے؟ انہوں نے کیا کیا ہے؟ مجھے بتاؤ؟ ہی از مائی ہزبینڈ! ہی از مائی ہزبینڈ! “

پہلی بات تو یہ ہے کہ جمعیت ایسی غنڈہ گردی کرتی ہی نہیں ہے۔ وہ ایک نہایت ہی پرامن تنظیم ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اگر یونیورسٹی میں بے حیائی پھیلائی جا رہی ہو تو اسے جمعیت ہی روکتی ہے خواہ کچھ بھی کرنا پڑے۔

اب اگر اصل معاملات سے بے خبر ایک عام آدمی اس ویڈیو کو دیکھے گا تو لبرل پروپیگنڈے میں آ جائے گا کہ اسلامی جمعیت طلبہ والے غنڈہ گردی کر رہے ہیں۔ شکر ہے کہ ایک جماعتی بھائی نے وضاحت کر دی کہ ان تھپڑوں میں جمعیت کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔ کیونکہ یہ صاحب ظاہر ہے کہ انتہائی اعلی تعلیم یافتہ ہیں اور یونیورسٹی کے سٹوڈنٹ رہے ہوں گے، اس لیے ہم نے ان کی سپیلنگ کو قابل اعتبار جان کر بعینہ لکھ دیا ہے۔ کہتے ہیں کہ

”جمعیت کو جو مرضی کہو لیکن جو ہوا ہے اس کی تحقیق کر لو۔ لڑکا اور لڑکی غلط انداز میں اپنے کیمپس میں عام طلبا کے سامنے بیٹھے تھے۔ لڑکی لڑکے کی گود میں تھی جس پر سیکیورٹی گارڈ نے منع کیا تو لڑکے نے بدتمیزی کی اور کہا کہ میں میڈیا سے ہوں اور یہ میری بیوی ہے۔ خالانکہ نہ وہ بیوی تھی نا ہی وہ لڑکا یونیورسٹی سٹودنٹ تھا۔ گارڈ نے کہا کہ اپ یہاں یہ سب نہ کرو اس پر وہ طیش میں اگیا اور گارڈ سے میڈیا والے رعب میں بات کرنے لگا۔ اس پر لڑکے جمع ہو گئے اور اس کی درگت بنا ڈالی۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ پنجاب یونیورسٹی میں اکثریت طلبہ و طالبات جمعیت میں ہیں تو اس کا ملبہ جمعیت پر اگیا۔ میرے خیال میں یہ مسئلہ بنیادی اخلاقیات کا جیسے سمجھنا چاھئے۔ گرل فرینڈ اور بوائے فرینڈ کلچر کی لمٹس ہونی چاھئے پبلک پلیسز پر اسلامی زیہن رکھنے والے طلبہ اور طالبات اس قسم کی بدمعاشی برداشت نہیں کرتے۔“

دیکھیں اب بات واضح ہو گئی ہے تو پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور انتظامیہ کی بات پر اعتبار نہیں کرنا چاہیے۔ یونیورسٹی کے ترجمان خرم شہزاد نے اس بہترین جماعتی وضاحت کے باوجود الزام لگا دیا ہے کہ اس مبینہ شوہر کو مارنے والے پانچ طلبہ کا تعلق جمعیت سے تھا اور ان کو سسپینڈ کر دیا گیا ہے۔ ایک گارڈ کو بھی سسپینڈ کیا گیا ہے جس نے انہیں مار پیٹ سے نہیں روکا تھا۔

آپ نے غور کیا؟ صالحین نے نہ صرف نکاح ختم کروا دیا ہے بلکہ گود میں بھی بٹھا دیا ہے جیسے یہ صاحب اپنی بیگم کو یونیورسٹی سے پک کرنے نہیں بلکہ ڈیٹ مارنے آئے تھے۔ حالانکہ یونیورسٹی انتظامیہ اور میڈیا یہ اصرار کر رہا ہے کہ نہ صرف یہ میاں بیوی تھے بلکہ یہ میاں اپنی بیگم کو یونیورسٹی سے گھر لے جانے آئے تھے۔ ظاہر ہے کہ میڈیا تو ہمیشہ جھوٹ بولتا ہے اور صالحین ہمیشہ سچ بولتے ہیں۔

آپ خود سوچیں کہ بھلا یہ بات قابلِ اعتبار ہے کہ کوئی شوہر نوجوان بھی ہو سکتا ہے، اس کی کوئی بیس بائیس سالہ بیوی بھی ہو سکتی ہے، اور وہ اسے نہ صرف یونیورسٹی میں داخل کرواتا ہے بلکہ اسے چھوڑنے لینے بھی جا سکتا ہے؟ جو لوگ اس پر یقین کرتے ہیں وہ نہ صرف لبرل ہیں بلکہ وہ جمعیت سے شکست اور مار کھانے کے سبب جھوٹا پروپیگنڈا کرتے ہیں۔

بفرض محال اگر وہ نوجوان واقعی اس طالبہ کا شوہر تھا تو اس نے نکاح نامہ کیوں نہیں دکھا دیا؟ اگر نکاح ہوا بھی ہے تو پھر اپنی بیوی کو لا لے جا کر جمعیت کے صالح نوجوانوں کو جلانے اور ان کے جذبات کو اشتعال دلوانے کی کیا ضرورت ہے؟

ہمیں ایک صالح جماعتی دوست نے بتایا ہے کہ یونیورسٹی میں تو یہی ہوتا ہے۔ بعض لڑکیاں جھوٹ بولتی ہیں کہ ان سے ملنے والا لڑکا ان کا بوائے فرینڈ نہیں ہے بلکہ باپ، بھائی، کزن، منگیتر، حتی کہ شوہر ہے۔ اب بھلا صالحین اس بات پر یقین کر سکتے ہیں؟ وہ تو بندہ دیکھ کر ہی جان جاتے ہیں کہ لڑکی سے اس کا کوئی رشتہ نہیں ہے۔ دیکھ کر پتہ نہ چلے تو وہ تفتیش کر لیتے ہیں۔ تفتیش کے لیے وہ پنجاب پولیس کا طریقہ استعمال کرتے ہیں تو اس پر اعتراض کیوں؟ پنجاب پولیس بھی تو ایک ویلنٹائن سے متاثرہ شوہر کو اپنی بیوی سے اپنے گھر میں زنا کرتے ہوئے گرفتار کر چکی ہے۔

اس جوڑے کے میاں بیوی ہونے پر کئی سوالات اٹھتے ہیں۔ کیا دور طالب علمی میں بھی کوئی شادی کر سکتا ہے؟ کیا نکاح نامہ جمعیت سے رجسٹر کروایا گیا تھا؟ کیا درست مسلک کے مولوی سے نکاح پڑھوایا گیا تھا؟ یعنی اول تو نکاح کا کوئی ثبوت نہیں اور ہوا بھِی ہو تو وہ ٹوٹ گیا ہو گا۔ جب اس لڑکے کی ہڈی پسلی ٹوٹ سکتی ہے تو نکاح کیوں نہیں ٹوٹ سکتا؟ بہتر ہے کہ یہ جوڑا ناظم جمعیت سے دوبارہ نکاح پڑھوا لے۔

یونیورسٹی انتظامیہ کی نا اہلی پر بھی افسوس ہی کیا جا سکتا ہے۔ جمعیت کے صالح کارکنوں کو یونیورسٹی سے نکالنے کی بجائے اس لڑکی کو کیوں نہ نکالا جائے جو گھر میں بیٹھ کر ساس سسر کی خدمت کرنے کی بجائے پڑھنے میں لگی ہوئی ہے؟ کیا اسے اپنی ذمہ داریوں کا ذرا بھی احساس نہیں ہے؟ بلکہ صرف اس لڑکی کو کیا، تمام لڑکیوں کو یونیورسٹی سے نکال دیا جائے۔ نہ لڑکیاں ہوں گی نہ جمعیت کے صالح نوجوانوں پر اس قسم کا کوئی الزام لگے گا۔ ویسے بھی جمعیت پر پابندی لگانا تو ممکن نہیں ہے، لڑکیوں پر ہی لگا دیتے ہیں۔

بظاہر یونیورسٹی انتظامیہ بھی اس حل کے حق میں نرم گوشہ رکھتی ہے۔ ایک طالبہ نے مینگوباز ویب سائٹ کو بتایا ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے جو ڈریس کوڈ نافذ کیا ہے اس میں یہ لازم کیا گیا ہے کہ طالبات دوپٹہ یا حجاب لیں گی اور طالبات کو خاص طور پر بتایا گیا کہ جنسی ہراسانی کی وجہ طالبات کے کپڑے ہیں۔ نہ یونیورسٹی میں طالبات ہوں گی نہ جنسی ہراسانی یا غنڈہ گردی ہو گی۔

اب سارا سال جمعیت ادھر پوزیٹو سرگرمیاں کرتی ہے۔ مثلاً میلوں کا انعقاد، نئے طلبہ کو داخلے کی راہنمائی فراہم کرنا، اساتذہ کو ہر طریقہ استعمال کر کے راہ راست پر رکھنا، لڑکے لڑکیوں کو ایک دوسرے سے بات کرنے سے روکنا، پشتونوں کو اتن وغیرہ ناچ کر گمراہ ہونے سے بچانا، وغیرہ۔ ان سب اچھے کاموں کو چھوڑ کر سب لبرل یہی شور مچاتے ہیں کہ جمعیت غنڈہ گردی کرتی ہے۔

دیکھیں اگر انتظامیہ معاملات کو ٹھیک سے نہیں چلائے گی تو مقتدر قوتیں دخل دے کر ادارے کو راہ راست پر لانے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ سٹوڈنٹ فیس دیتے ہیں، اسی فیس سے یونیورسٹی چلتی ہے، تو سٹوڈنٹ ہی ظاہر ہے کہ یونیورسٹی کے اصل مالک ہیں۔ اب اگر یونیورسٹی انتظامیہ ان کی ملکیت کو چیلنج کرے گی اور بلاوجہ اصرار کرے گی کہ یونیورسٹی کے آئین کے مطابق انتظامی اختیارات صرف اسی کے پاس ہیں تو مناسب نہیں ہو گا۔ یونیورسٹی انتظامیہ کے لیے بہتر ہے کہ خود جمعیت کے آئین پر چلے ورنہ جمعیت خود اسے اپنے آئین پر چلانے پر مجبور ہو جائے گی۔

Twitter: @adnanwk

اسی بارے میں: ویلنٹائن سے متاثر شادی شدہ جوڑا اپنے گھر میں زنا کرتے ہوئے گرفتار


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1419 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar