کپتان کے انمول رتن
مغل شہنشاہ جلال الدین محمد اکبر نے اپنے والد بادشاہ ہمایوں کے انتقال کے بعد حکومت سنبھالی اور تقریباً پچاس سال ہندوستان پر حکومت کی۔ اکبرِ اعظم بذاتِ خود تعلیم یافتہ نہیں تھے لیکن اعلیٰ دماغ کے مالک تھے اور انسان شناس بھی لہٰذا ہر مذہب کے فرد کو دربار تک رسائی حاصل تھی۔ ان میں سے سپاہیانہ، ذہانت، فطانت، ظرافت، علم و حکمت اور فنکارانہ صلاحیتوں کے مالک افراد ان کے اہم درباری تھے۔ انہی میں وہ ”نو رتن“ بھی تھے جن میں ہر ایک اپنی جگہ با کمال تھا۔ رتن کا لغوی معنی موتی، ہیرا وغیرہ ہے لیکن اکبر اعظم کے نو رتن ان نو قابل آدمیوں کی ٹیم تھی جنہوں نے اپنے آقا کی سلطنت کی توسیع و ترقی کے لئے آئینی، علمی، ادبی اور عملی خدمات سر انجام دیں۔
ہمارے کپتان کے پاس بھی ایسی ٹیم ہے جس میں کوئی ہیرا ہے تو کوئی یاقوت، کوئی زمرد، کوئی نیلم، کوئی پکھراج، کوئی لعل ہے تاہم ایک فرق ضرور ہو سکتا ہے کہ عددی اعتبار سے یہ انمول رتن نو سے زیادہ ہو سکتے ہیں مگر کم نہیں ہیں۔ ان میں سے پہلے نمبر پر ہم فیاض الحسن چوہان کا ذکر کریں گے جو اپنی مثال آپ ہیں۔ فراز نے غالباً انہی کے بارے میں کہا تھا کہ ”سنا ہے وہ بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں“ ان کی خوش بیانی کے چرچے چار دانگِ عالم میں پھیل چکے ہیں۔ پنجاب کے وزیرِ اطلاعات و نشریات بنتے ہی اداکارہ نرگس کے بارے میں ایسے کلمات ادا کیے کہ نرگس کو فوری طور پر ستائشِ باہمی کے اصول کے مطابق اسی طرح کے کلمات سے ان کو بھی نوازنا پڑا لیکن نہ جانے کیوں وہ شرمندہ سے ہو گئے اور پریس کانفرنس کر کے اپنے الفاظ واپس لے لئے۔
گذشتہ دنوں انہوں نے نواز شریف اور شہباز شریف کے ناموں کے ساتھ کشمیری کا لاحقہ لگا کر بار بار انہیں نواز شریف کشمیری اور شہباز شریف کشمیری کے نام سے پکارا۔ کشمیری عوام نے اس پر سخت احتجاج کیا شاید ان کا موقف یہ ہو گا کہ شریف برادران پورے ملک کے لیڈر ہیں اور وزیر موصوف انہیں کشمیر تک محدود کر رہے تھے۔ علاوہ ازیں شریف برادران کی طرف سے تبدیلی نام کا کوئی اشتہار بھی اخبار میں نہیں چھپا تھا۔ چناں چہ انہوں نے ایک بار پھر اخبار نویسوں کو اکٹھا کر کے اپنے الفاظ کی تشریح کی۔ ان کا یہ انمول انداز ہی انہیں منفرد بناتا ہے۔ وہ ہر معاملے پر دو بار پریس کانفرنس کرنے کے ماہر ہیں۔
دوسرے نمبر پر فواد چودھری کا نام لیا جا سکتا ہے۔ فواد چودھری میں کمال کی حسِ مزاح ہے۔ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ غربت و افلاس کے مارے ہوئے اور مہنگائی کے ستائے ہوئے عوام کو انٹر ٹینمنٹ چاہیے چنانچہ وہ وقتاً فوقتاً مزاحیہ باتیں کر کے عوام کو خوب ہنساتے ہیں۔ مثلاً پہلے ان کا ”ہیلی کاپٹر سستا پڑتا ہے“ والا بیان خوب ہٹ ہُوا۔ عوام الناس کی کثیر تعداد ہنس ہنس کر دہری ہو گئی جس کے نتیجے میں ان کے پیٹ میں بل پڑ گئے۔ وہ تو شکر ہے کہ ہمارے وزیرِ اعظم عوام کو کسی مشکل میں نہیں دیکھ سکتے انہوں نے اس کا فوری حل نکالا اور ایسے اقدامات کیے کہ مہنگائی کا سونامی عوام سے ٹکرا گیا اور اس نے سارے کس بل نکال دیے۔ فواد چودھری موٹو، شیرو، پدو وغیرہ کے بارے میں بھی اہم اطلاعات دے کر وزیر اطلاعات ہونے کا ثبوت فراہم کرتے رہتے ہیں۔ جیسے موٹو اب ہیلی کاپٹر میں سفر نہیں کرتا بائی روڈ بنی گالہ سے وزیر اعظم ہاؤس جاتا ہے۔ یاد رہے کہ موٹو، شیرو اور پدو وزیر اعظم کے چہیتے اور انصافیوں کے دلارے، پیارے پیارے کتوں کے نام ہیں۔
صدر مملکت عارف علوی بھی انمول رتنوں میں شامل ہیں ان دنوں جبکہ عوام مہنگائی سے بے حد پریشان ہیں، صدرِ مملکت اس سے یکسر انجان ہیں انہوں نے گزشتہ دنوں انتہائی حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جس مہنگائی کا رونا رویا جا رہا ہے وہ کہاں ہے؟ دو ماہ میں اتنی مہنگائی ہو ہی نہیں سکتی۔ در اصل وہ سائیں قائم علی شاہ کا ریکارڈ توڑنے کے خواہش مند ہیں۔ غالباً ان کی ان کہی خواہش یہ ہے کہ بے خبری کے حوالے سے قائم علی شاہ نہیں بلکہ ان کے بارے میں لطیفے بنائے جائیں آخر وہ ملک کے صدر ہیں کوئی مذاق نہیں ہیں۔
جہانگیر ترین کو بھی انمول رتن ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ بعض لوگ انہیں پیار سے اے ٹی ایم مشین کے نام سے پکارتے ہیں۔ ان کے جہاز خاصی شہرت کے حامل ہیں۔ خاص طور پر حکومت سازی کے دنوں میں ان جہازوں کی پروازوں کے چرچے رہے۔ جہانگیر ترین دوستی کی اعلیٰ مثال ہیں اسی لئے وہ اہنے دوست کپتان کو ملک کے طول و عرض میں جہاز کی سیریں کرواتے رہے ہیں۔ انہیں نہ وزارت کی تمنا ہے نہ حکومت کا شوق، چناں چہ خود پر نا اہلی کا ٹھپہ لگوا کر ان چھوٹی چھوٹی چیزوں سے بے نیاز ہو چکے ہیں لیکن محض دوستی میں خان صاحب کے ذاتی مشیر کی حیثیت سے اپنے فرائض بطریقِ احسن سر انجام دے رہے ہیں۔
وزیرِ اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔ ان میں کیا خوبیاں ہیں فی الحال اس کا کھوج لگایا جا رہا ہے۔ فی الوقت جو خوبیاں دریافت ہوئی ہیں ان میں سے ایک ان کی بے مثل بچت پالیسی ہے۔ انہوں نے اسی پالیسی کے تحت اپنے گھر میں بجلی نہیں لگوائی، نہ بجلی ہو گی نہ ہی خرچ ہو گی۔ اس کے بدلے میں سولر پینل لگوائے ہوئے ہیں۔ سنا ہے وہ رعایتی قیمت پر لگوائے تھے۔ الفاظ کی بچت تو ان پر ختم ہے۔ محض الفاظ کی بچت کرنے کے لئے وہ بعض اوقات صحافیوں کے سوالات کا بھی جواب نہیں دیتے کیونکہ صحافی بات سے بات نکالتے ہیں اور قیمتی لفظ ضائع کرواتے ہیں۔ اگر بولنے کی انتہائی ضرورت ہو تو احباب کے جملے سن کر کوئی مختصر سا جملہ منتخب کر کے بولتے ہیں۔ ان کی پریس کانفرنس کے دوران ان کے کان میں کھسر پھسر کرنے والے در اصل مختصر جملہ بتانے میں سبقت لے جانے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔ ان کے بارے میں کپتان کا فرمان یہ ہے کہ وہ سب سے قیمتی رتن ہیں اور مستقبل میں سب سے اچھے وزیر اعلیٰ ثابت ہوں گے۔
ان کے علاوہ پرویز خٹک، زلفی بخاری، انیل مسرت اور مراد سعید بھی کپتان کے انمول رتنوں میں شامل ہیں۔ یہ انمول رتن کپتان کو وزیر اعظم سے اکبر اعظم ثانی بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ لہٰذا ہمیں یقین ہے کہ اس ٹیم کے ساتھ کپتان وطن عزیز کو ایسے بلند مقام پر لے جائیں گے کہ ہم اپنے آپ کو اکبرِ اعظم کے زمانے میں پائیں گے۔ با ادب، با ملاحظہ، ہوشیار۔


