ہمارے وزیراعظم سچے پاکستانی ہیں


اللہ پاک کا لاکھ لاکھ شکر ہے۔ اس نے ہمیں قرض کی نعمت بے پایاں سے سرفراز فرمایا۔ ہم یہ قرض لینا نہیں چاہتے تھے۔ ہم تو قرض کے سخت خلاف تھے لیکن برادر سعودی عرب کا دل دکھانا بھی مقصود نہیں تھا۔ ہم نے اس وقت روضہ رسول پر قوم کے لئے رو رو کر دعائیں کیں۔ پوری قوم اس وقت اس قرض کے حصول کے لئے دعا گو تھں۔ اللہ نے قوم کی سن لی اور ہمیں کافر امریکیوں کے سامنے سرنگوں ہونے سے بال بال بچا لیا۔ اتنا متبرک اور پاک قرض عطا فرمایا۔ پوری قوم خوشی سے نہال ہے۔ اور اللہ پاک کی مشکور ہے۔

مزے کی بلکہ شکر کی بات یہ ہے کہ اس قرض پر پوری قوم متفق ہے حالانکہ پاکستانی قوم خاص طور پر پاکستانی سیاستدان کبھی کسی بات پر متفق نہیں ہوئے لیکن قرض کے معاملے پر ان کی بھی باچھیں کھلی ہوئی ہیں۔ سب سے بڑی بات ادھار تیل کا ملنا ہے۔ ہم پاکستانی ویسے عادت کے طور پر بھی ادھار لینا پسند کرتے ہیں۔ جیب میں پیسے ہوں تو بھی ادھار لینا پسند کرتے ہیں۔ ہمارے یہاں تو کریانے کی دکان ادھار کے بغیر نہیں چلتی۔ غلہ منڈی کے آڑھتی سارا سال کسان کو ادھار بیج، کھاد اور زرعی ادویات مہیا کرتے ہیں۔ فصل کے موقع پر کسان اپنا قرض اتار کر باقی پیسوں سے بچوں کے لئے کپڑے جوتے وغیرہ کا بندوبست کرتا ہے۔

مجھے پاکستان کے اس محسن کا نام یاد نہیں جس نے پہلی بار پاکستان کو قرض لے کر دیا۔ ویسے بھی ہم اپنے محسنوں کو کم ہی یاد رکھتے ہیں۔ ایوب خان پاکستان کا سب سے بڑا محسن تھا۔ اس نے قوم کو فضول قسم کے سیستدانوں سے نجات دلوائی۔ ایسے سیستدان آٹھ سالوں میں قوم کو ایک چھوٹا سا آئین بھی نہ دے سکے۔ سکول کے بچوں نے ایوب کتا ایوب کتا کے نعرے لگا لگا کر اس محسن قوم کے ساتھ وہ سلوک کیا کہ اس نے گھر کی راہ لی۔

یحی خان نے ہمیں بنگالیوں کے ظلم وستم سے نجات دلائی ہم اس کا احسان بھی بھول گئے۔ ضیا الحق نے ہمیں ہیروئن جیسی نعمت سے سرفراز کیا۔ کوئی ایک پف ہیرئن کا لے کے تو دیکھے کتنا سکون ملتا ہے۔ بے شمار لیڈر ہمیں قرض کی نعمت پہلے ہی دلوا چکے ہیں۔ اس لئے یہ عمران خان کا کوئی بڑا کارنامہ نہیں کہ اسے سنہری لفظوں میں لکھاجائے۔

میرے پاکستانیو، اللہ نے پاکستان کو بڑی بڑی نعمتوں سے نوازا ہے جس پر ہمیں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ اللہ نے ہمیں اتنے بڑے بڑے پہاڑ عطا کیے ہیں۔ ہم جب چاہیں پہاڑ پر چڑھ جائیں۔ ہمیں پہاڑ پر چڑھنے سے کون روک سکتا ہے۔ اللہ نے ہمیں سمندر عطا کیا ہے ہم اپنا سارا پانی سمندر میں ڈبو دیتے ہیں۔ اور پوری قوم اس بات پر متفق ہے کہ سارا پانی سمندر میں چلا جائے کالا باغ ڈیم نہ بنے۔ قرض کے بعد یہ دوسری بات ہے جس پر پوری قوم متفق ہے۔

جناب وزیر اعظم پوری قوم آج خوشی سے سرشار ہے۔ آپ قرض لینے میں کامیاب ہو گئے۔ یہ آپ کی بڑی کامیابی ہے۔ ہم بہت خوفزدہ تھے۔ آپ کنٹینر پر کھڑے ہو کر اکثر قرض کے خلاف بڑی بڑی باتیں کیا کرتے تھے۔ لیکن آج آپ نے ثابت کر دیا کہ آپ سچے اور پکے پاکستانی ہیں۔ اللہ آپ کو مزید قرض لینے کی توفیق عطا فرمائے۔ آپ قرض واپسی کی فکر نہ کریں۔ آپ سے پہلے والوں نے جب اس کی فکر نہیں کی تو آپ کیوں اس بکھیڑے میں پڑتے ہیں۔ خود بھی خوش رہیں ہمیں بھی خوش رکھیں۔ کل کس نے دیکھی ہے۔

جناب وزیراعظم ہمیں یقین ہے آپ سچے پاکستانی ہیں۔ آپ اپنے پاکستانیوں کو ان چوروں کی چیخیں ضرور سنوائیں گے جو آپ کے مخالف ہیں۔ یہ لوگ چور نالے چتر کی مثال قائم کر رہے ہیں۔ ان لوگوں نے 2013 اور پھر دھرنے کے بعد بھی آپ کو اقتدار میں نہیں آنے دیا۔ اگر یہ چور اس وقت آپ کے راستے میں نہ آتے تو آپ اب تک پاکستان کو کہیں سے کہیں لے جا چکے ہوتے۔ آپ نے دس سالہ جمہوری دور میں 30 ہزار ارب روپے کا آڈٹ بھی لازمی کروانا ہے تاکہ ان جمہوری چوروں کی چیخوں میں بجلی گیس کی قیمتیں دب کر رہ جائیں۔

Facebook Comments HS