معذوری اور باوقار سماج
کتاب کا ایک خصوصی حصہ دنیا کے ان مشہور ومعروف لوگوں کے بارے میں ہے جنہوں نے اپنی جسمانی اور ذہنی معذوری کو اپنے راستے کا پتھر نہیں بنایا بلکہ نہ صرف یہ کہ اپنی معذوری کو شکست دی بلکہ غیرمعذور لوگوں کی دنیا میں ایسے کام سرانجام دیے جن سے نسلِ انسانی کو مستقل فائدہ پہنچ رہا ہے۔
کتاب کے آخری ابواب بہت دلچسپ اور معلوماتی ہیں۔ گوہر نے دو خطوط شاملِ اشاعت کیے ہیں۔ ان خطوط سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ذہنی بیماریوں سے آشنا ہونا کتنا ضروری ہے، یہاں تک کہ ترقی یافتہ ملکوں میں بھی آگہی نہ ہونے کی وجہ سے مریض اور اس کا خاندان خطرناک حالات اور دشوار زندگی کا شکار ہوجاتا ہے۔ آج کے زمانے میں ذہنی معذوری کو لعنت نہیں سمجھنا چاہیے۔ ان لوگوں کو وہی عزت وتوقیر ملنی چاہیے جو عام انسانوں کو ملتی ہے اور سماج کو مِل کر ان کی بہتر زندگی کے انتظامات کرنے چاہئیں۔
آخری صفحات میں گوہر نے دنیا کے ان نامی گرامی لوگوں کی فہرست مرتب کی ہے جو مختلف قسم کی معذوری کا شکار ہوئے اور ساتھ ساتھ ایسے کام بھی کیے جن پر ہم سب فخر کرسکتے ہیں۔ انہوں نے ان تمام بیماریوں کا تعارف بھی شامل کیا ہے۔ کتاب کو پڑھنے والوں کے لیے ایسے تمام اداروں کا پتہ بھی ہے جہاں سے معلومات اور مدد حاصل کی جا سکتی ہے۔
پانچ سال قبل نیویارک میراتھن دوڑنے کے پچیس سال بعد نابینا افراد کے لیے کام کرنے و الے ادارے وکٹا (Victa) کے لیے چندہ جمع کرنے کے مقصد سے میں لندن میراتھن دوڑنے کے لیے لندن گیا۔ میں یہ دیکھ کر حیران ہوگیا کہ اس دفعہ بھی معذور افراد کی بہت بڑی تعداد لندن میراتھن میں حصہ لے رہی تھی اور سب سے زیادہ خوشی اس بات سے ہوئی کہ بے شمار لوگ معذور افراد کی تنظیموں اور ان کی دیکھ بھال کے اداروں کے لیے میراتھن دوڑرہے تھے۔ جس سماج میں کروڑوں کی تعداد میں لوگ معذور لوگوں کی زندگیوں کے بارے میں سوچتے ہیں وہ سماج ایک مہذب اور باوقار سماج ہے۔
گوہر تاج کی یہ کاوش اسی سماج کی تلاش کے لیے ہے۔
کاش! ہمارا سماج بھی اتنا ہی باوقار ہوجائے۔
۔

