شائد میں اب گل بہار بانو کی غزلیں نہ سن سکوں

بسا اوقات بے بسی کا احساس اس قدر شدت اختیار کرتا کہ اپنی ذات سے وحشت ہونے لگتی۔ یہ وحشت اکثر اس قدر بڑھتی کہ پاگل پن کی سرحد تک پہنچ جاتی۔ لیکن پھر چند دلفریب آوازیں مجھے سرحد کے اس پار پاگل پن کے پرخطر علاقے میں جانے سے روک دیتی۔ گل بہار بانو ان مدھر آوازوں میں سے ایک نمائندہ آواز تھی۔ گل بہار بانو نے اپنی آواز کے ذریعہ مجھے وہ لکیر عبور کرنے نہیں دی جس کے بعد ذہن میں ایسا تلاطم بپا ہوتا ہے جس سے منزل کا علم رہتا ہے اور نہ اس تک پہنچنے کے راستے کی کوئی خبر ہوتی ہے۔
مجھے اچھی گائیکی سننے کا شغف ہے لیکن گائیکی کے اسرارورموز سے واقفیت محض ثانوی ہے۔ لیکن مجھے گائیکی اور موسیقی کے رموز جاننے کی ضرورت اس لیے پیش نہیں آئی کہ گل بہار بانو ان رموز سے واقف تھیں۔ وہ اپنی مترنم آواز کے جادو سے مجھے وحشت کے صحرا سے عشق کے نخلستان میں مسکراتے ہوئے بخفاظت واپس لے آتیں۔ گل بہار بانو نے مجھے بتایا کے چاہت میں دنیاداری اور عشق میں کوئی مجبوری نہیں ہوتی۔ مجبوری کا تعلق چاہے معاشرت سے ہو یا ذاتی معشیت سے عشق اور چاہت ان سے ماورا ہیں۔
مجھے گل بہار بانو کی گائی ایک غزل سے یہ بھی پتہ چلا کہ فاصلوں کو مٹانا اور فیصلہ کرنا ہی پیار کرنے والوں کے لیے بہتر ہے۔ مجھے جوانی کی اہمیت اور اسے بھرپور طریقہ سے گزارنے کا گر بھی گل بہار بانو اپنی سریلی آواز میں بتایا۔ اگر گل بہار بانو کی خوبصورت آواز نہ ہوتی تو شاید مجھے اس شاعری اور اس میں مخفی پیغام سے فیض مند ہونے کا موقعہ نہ ملتا۔ یہ گل بہار بانو جسی آوازوں کا احسان ہے کہ میں نے زندگی کے مشکل ترین کے حالات میں اپنا دماغی توازن برقرار رکھا اور دنیا اور دنیا داری کے اٹھائی دیواروں کو کبھی خاطر میں نہیں لایا۔
وقت گزرتا گیا اور گل بہار بانو اور ان جیسی آوازوں کے صدقے میری معاشرت اور معشیت میں بھی مثبت تبدیلی رونما ہوتی گئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے میرے پاسپورٹ کا رنگ سبز سے نیلا ہو گیا۔ بعض دنیاداروں کے مطابق جو ماضی میں میرے عارضہ دل کو دماغی فتور قرار دیتے تھے‘ میرے پاسپورٹ کے رنگ کے ساتھ ساتھ شاید میرے خون کا رنگ بھی تبدل گیا ہے۔ لیکن دنیاداروں کی اپنی مجبوریاں ہیں مجھے ان سے کیا لینا دینا۔ مجھے لینا دینا اپنے ایک محسن سے ہے۔ میرا معاملہ تو گل بہار بانو سے ہے۔ میرا مسئلہ تو یہ ہے کہ میری وحشت میں میرا سہارا بننے والی آواز خود سرحد کے اس پار ایک اندھیر نگری میں کیسے پہنچ گئی۔
میں اپنے اندر کے انسان کو زندہ رکھنے اور خرافات زمانہ سے نمٹنے کے لئے باقاعدگی سے موسیقی سنتا ہوں۔ لیکن اب گل بہار بانو کی غزل سنتے ہوئے مجھے ذہنی تسکین کم اور احساس جرم زیادہ ہوتا ہے۔ مجھے اس بات کا حال ہی میں علم ہوا ہے کہ گل بہار بانو پچھلے کئی سالوں سے دماغی عارضہ میں مبتلا ہیں۔ اخباری اطلاعات کے مطابق چند روز قبل انہیں پولیس نے ان کے بھائی کے گھر سے بازیاب کروا کے خفاظتی تحویل میں لے لیا ہے۔ کئی برس پہلے کی یہ خبر بھی نظر سے گزری کے گل بہار بانو کراچی میں سڑک کے کنارے کھڑی لوگوں کو برا بھلا کہتی دیکھیں گئی ہیں۔
اور مجھے دیکیھے میں نوے کی دہائی سے اب تک گل بہار بانو کی آواز سے اپنی وحشت کا علاج کرتا رہا یہ جانے بغیر کہ میرا مسیحا کس حال میں زندہ ہے۔ شاید لوگ ٹھیک ہی کہتے ہیں پاسپورٹ کا رنگ جب سبز سے نیلا ہوتا ہے تو خون کا رنگ خود ہی سرخ سے سفید ہو جاتا ہے

