دانشور اور مالی

انٹلیکچول نے دریافت کیا کہ اگر ایسا ہو جائے کہ بیل رک جائے اور صرف سر ہلانے سے گھنٹی بجاتا رہے تو پھر۔ مالی نے عرض کیا کہ صاحب یہ بیل ہے انٹلیکچول نہیں۔
موجودہ دور کے ہمارے چند انٹلیکچول خواتین و حضرات اعلیٰ عدلیہ یعنی سپریم کورٹ کے تعلیم، صحت اور فراہمی آب کے اداروں میں بہتری کے لیے کیے گئے اقدامات پر کافی نالاں ہیں۔ ان کا سوال ہے کہ کیا یہ اپنے اختیارات سے تجاوز اور دوسرے اداروں میں دراندازی کے مترادف نہیں۔
مزید آ براں اعلیٰ عدلیہ کو ماتحت عدلیہ میں بہتری اور مقدمات کی سرعت کے لئے کام کرنا چاہیے۔ دانشور خواتین و حضرات کے اس سوال سے اختلاف کی جسارت ممکن نہیں۔ لیکن ان خواتین و حضرات کو یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ بیچارے عوام باغ کے مالی کی مانند ہیں اور وہ باغ سے گزرنے والے فلسفی کی طرح ان انٹلیکچولز کے اس سوال کو بے جا سمجھتے ہیں اور بے وقت کی ر اگنی گردانتے ہیں۔ وہ عوامی فلاح کے اداروں میں بہتری کے خواہاں ہیں چاہے یہ بہتری کوئی جمہوری حکومت لائے، کوئی آمریت، کو ئی کٹھ پتلی حکومت یا حتیٰ کہ کوئی عدالت۔
کیا لاہور ہائیکورٹ کے ہیلمٹ کی بابندی کے حکم سے حادثات میں کمی نہیں ہوئی؟ کیا نجی میڈیکل کالجز نے سپریم کورٹ کے حکم پر اپنی فیسیں کم نہیں کیں؟ کیا عدالت کے نوٹس لینے کی وجہ سے زیر زمین پانی کے کمرشل اور صنعتی استعمال کو باقاعدہ نہیں کیا جا رہا؟ کیا نجی تعلمی اداروں کی فیسوں میں ناورا گرانی کامسئلہ کو ئی کم اہم مسئلہ ہے؟ کیا ہسپتالوں میں ناقص اور مہنگے سٹنٹ کی فراہمی ایک المیہ نہیں تھا؟ کیانئے ڈیمز کی تعمیرجو ہماری قومی مسئلہ ہے کسی عجلت کا متقاضی نہیں؟ کیا ناجائز تجاوزات کلی جائز ہیں؟ میری ناقص رائے میں یہ سب مفاد عامہ کے کام ہیں اور سماجی انصاف کی فراہمی کا بلاواسطہ ذریعہ ہیں۔
اگر حکومتی رٹ ماضی میں کمزور رہی ہے چاہے اس کی وجہ کوئی بھی رہی ہو، سیاسی مداخلت یا اداروں کہ کمزوری یا کوئی اور۔ توکیا اب اداروں کی مضبوطی کے لئے اٹھائے گئے اقدامات سے صرف نظر برتنا چاہیے۔ نہیں ہرگز نہیں۔ اداروں میں کی گئی اصلاحات سے نہ صرف اداروں کا مفاد وابستہ ہے بلکہ عوام کا مفاد بھی اسی میں پو شیدہ ہے کیونکہ وہ ان اصلاحات سے براہ راست مستفید ہوں گے۔ امید واثق ہے کہ ہمارا آنے والا کل آج سے بہتر ہو گا۔ پاکستان پائندہ باد۔

