شہید استادوں کی یاد میں


\"adnan

چارسدہ یونیورسٹی پر حملہ ہوا۔ وہاں کے طلبا بتاتے ہیں کہ ان کے جواں سال استاد ڈاکٹر حامد حسین اپنا چھوٹا سا پستول لے کر اپنے طلبا کو بچانے کی خاطر ان دہشت گردوں کو روکنے کی کوشش کرنے لگ جو کہ کلاشنکوف، دستی بموں اور خود کش جیکٹوں سے مسلح تھے۔ ان کے جیتے جی دہشت گرد عمارت میں داخل نہ ہو سکے۔ ڈاکٹر حامد حسین شہید نے چند دن پہلے ہی اپنے تین سالہ بیٹے کی سالگرہ منائی تھی۔ ان کی ایک گیارہ ماہ کی بچی بھی ہے۔

آرمی پبلک سکول کی پرنسپل طاہرہ قاضی اس وقت آڈیٹوریم میں موجود تھیں جس وقت دہشت گردوں نے حملہ کیا۔ وہ وہاں سے نکلیں اور ان کی بروقت فون کال کی وجہ جانی نقصان اس سے بہت کم ہوا جتنا ہونے کا خدشہ تھا۔ وہ واپس پلٹیں۔ سٹیج پر موجود ایک میجر صاحب جس وقت اپنی جان بچا کر بھاگ رہے تھے، اس وقت یہ دلیر استانی اپنے بچوں پر اپنی جان نچھاور کر رہی تھیں۔ وہ ایک کمرے سے دوسرے کمرے تک بھاگیں، اور انہوں نے بچوں کو کہا کہ اپنے کمروں کے دروازے مضبوطی سے بند کر لو۔ ان کا ساتھ ایک اور استاد سعید خان نے دیا۔ یہ دونوں شہید ہوئے۔ میجر صاحب کا کورٹ مارشل ہوا۔ طاہرہ قاضی ہمارے دلوں میں امر ہو گئیں۔

\"teachers2\"

اسی سکول کی استانی سحر افشاں احمد تھیں۔ انہوں نے دہشت گردوں کو اپنے بچوں کی کلاس میں داخل نہیں ہونے دیا۔ اس دلیر عورت نے برستی گولیوں کی اس فضا میں دہشت گردوں کو کہا کہ تم میرے جیتے جی میرے بچوں کو چھو بھی نہیں سکتے ہو۔ دہشت گردوں نے اس عظیم استانی کو زندہ جلا دیا۔ اس شہید کی یادوں کی شمع ہمارے سینوں میں جلتی رہے گی۔ اسی سکول کے اور بھی بہت سے استاد تھے جنہوں نے اپنی جان بچانے کی بجائے اپنے بچوں پر اپنی جان نچھاور کر دی۔ بینش عمر، فرحت بی بی، حفصہ خوش، ہاجرہ، سعدیہ گل خٹک، صائمہ نورین، صائمہ زرین، شہناز نعیم، صوفیہ حجاب، اور نواب علی ان استادوں میں سے تھے جنہوں نے آرمی پبلک سکول میں اپنے بچوں کے ساتھ جان دی۔

ایک اور استاد کا نام بھی دلوں میں روشن ہے۔ گجرات کے علاقے منگووال میں سکول وین میں بائیس بچے سوار تھے۔ سی این جی سیلنڈر پھٹ گیا اور آگ نے گاڑی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ گاڑی کا صرف فرنٹ ڈور کھل پایا۔ سمیعہ نورین چاہتی تو گاڑی سے باہر نکل کر اپنی جان بچا سکتی تھیں۔ لیکن اس بہادر لڑکی نے بچوں کی جان بچائی۔ اس نے تین بچے گاڑی کی کھڑکی سے باہر پھینک کر ان کی جان بچائی اور باقیوں کو بچانے کے لالچ میں اپنی جان سے گئی۔ بارہ بچے اس سانحے میں موت کا شکار ہوئے۔

کراچی کے نصراللہ شجیع یاد آتے ہیں۔ وہ اپنے سکول کے بچوں کو بالاکوٹ کے تفریحی دورے پر لے گئے۔ ایک بچے کا پاؤں پھسلا اور وہ دریائے کنہار میں جا گرا۔ جس شخص نے بھی جون کے مہینے میں دریائے کنہار کو دیکھا ہے، وہ اس سے خوفزدہ ہوئے بغیر نہیں رہ پائے گا۔ اس میں اترنے کا تصور کیا، اس کی بپھری ہوئی تند لہروں کا مہیب شور ہی دل دہلا دیتا ہے۔ اس میں تیرنا ناممکن ہے۔ لیکن نصراللہ شجیع نے اپنے طالب علم کو بچانے کی خاطر دریا میں چھلانگ لگا دی اور جان سے گئے۔

ان بہادر استادوں کی یاد ہی آنکھوں میں شکرگزاری کے آنسو لے آتی ہے۔ لوگ تو جان کا خطرہ دیکھ کر اپنے سگے بچوں کو بھی بھول جاتے ہیں، اور یہ سب جانتے بوجھتے بھی ہمارے بچوں کو بچانے کے لئے خود موت کے منہ میں چلے گئے۔

تعلیمی اداروں پر حملے ہوتے دیکھ کر صدمہ تو بے انتہا ہوتا ہے۔ لیکن یہ دیکھ کر حوصلہ بھی ہوتا ہے کہ ان اداروں میں حامد حسین، سمیعہ نورین، طاہرہ قاضی، افشاں احمد اور نصر اللہ شجیع جیسے استاد بھی موجود ہیں جو ہم سے بڑھ کر ہمارے بچوں کی حفاظت کرنے پر آمادہ ہیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1516 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

Subscribe
Notify of
guest
8 Comments (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments