خاشقجی کی منگیتر خدیجہ چنگیز کا پہلا ٹی وی انٹرویو


مقتول صحافی جمال خاشقجی کی منگیتر نے واقعے کے بعد پہلے ٹی وی انٹرویو میں مطالبہ کیا ہے کہ جمال خاشقجی کے قتل میں ملوث اعلیٰعہدیداروں سے لے کرنچلی سطح کے ذمہ داروں تک، سب کوانصاف کے کٹہرے میں لایاجائے۔

استنبول کے سعودی قونصل خانے میں قتل ہونے والے صحافی کی ترک نژاد 38 سالہ منگیتر خدیجہ چنگیز نے ترک میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ وہ قتل کے ذمہ داروں کو انجام تک پہنچتے دیکھنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے کہا، انہیں صدرٹرمپ کی طرف سے امریکا آنے کاپیغام ملا لیکن یہ عوامی ہمدردی حاصل کرنے کی ایک چال ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ جمال خاشقجی جاری تنازع کی وجہ سے استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے میں جانا نہیں چاہتے تھے اور انہیں اس پر شدید تحفظات بھی تھے۔ خاشقجی کی قونصل خانے میں گمشدگی کے بعد سعودی عرب نے کوئی تعاون نہیں کیا۔

خدیجہ چنگیز شادی کرنے سے متعلق پوچھے گئے سوال پر رو پڑی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ’قونصل خانے جاتے وقت خاشقجی نے مجھے باہر کھڑا رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے اپنے دونوں موبائل دیے دیے تھے، وہ اندر ہماری شادی کے حوالے سے ضروری کاغذات لینے کے لیے گئے تھے ‘۔

یاد رہے کہ امریکی اخبار واشنگٹن ٹائمز کے لیے کام کرنے والے خاشقجی سعودی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے تھے، انہیں 2 اکتوبر کو استنبول میں واقع سعودی سفارت خانے میں قتل کیا گیا جس کا اعتراف سعودی حکام بھی کرچکے ہیں۔

سعودی عرب نے صحافی جمال خاشقجی کی قونصل خانے میں موت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ استنبول کے قونصل خانے میں اُن کا جھگڑا ہوا تھا جس کے بعد وہاں موجود افراد نے ان پر تشدد کیا اور پھر انہیں قتل کردیا۔

بشکریہ جنگ۔

Facebook Comments HS