مختاراں مائی سے ننھی زینب تک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

9 جنوری 2018 کا دن شاید ہی میں کبھی بھلا پاوں، شام کے پانچ بج رہے تھے اور ہیڈلائنز کا وقت ہونے کو تھا کہ ایک خبر آتی ہے کہ قصور میں ایک کچرے کے ڈھیر سے ایک سات سالہ بچی کی لاش ملی ہے۔ اس خبر کو پڑھتے ہوئے زبان لڑکھڑا رہی تھی۔ یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ خبر میں پڑھ رہی ہوں۔ میرے قریبی دوست اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ میں اس طرح کی خبروں کو نظرانداز کرتی ہوں، اس کی وجہ ان خبروں کا فوبیا ہے۔ میں چھوٹی تھی جب میں نے ٹی وی پر مختاراں مائی کیس کے بارے سنا تھا۔

اجتمائی زیادتی، انصاف، عزت، مختاراں مائی، یہ الفاظ کبھی نہیں بھول پائی، کئی سالوں تک ساتھ رہے۔ ہمیشہ ذہن میں گھومتے رہےاور پھر وقت کے ساتھ ساتھ مجھے ان الفاظ سے نفرت سی ہوگئی۔ وقت گزرتا گیا اور یہ فوبیا بھی کم ہوتا گیا مگر ختم نہیں ہوا۔ قدرت کی کرنی ایسی ہوئی کہ نیوزکاسٹر بن گئی البتہ اب بھی یہ فوبیا موجود تھا۔ اس دن بھی شاید میں اس خبر کو پڑھنے کا حوصلہ نہ کرتی مگر اس وقت میرا سٹینڈ بائے تھا اور کوئی دوسرا اینکر موجود نہیں تھا۔ بڑی ہمت کر کے خبر تو پڑھ دی مگر دل دہل گیا۔

کام سے فارغ ہوکر گھر بھی گئی پر زینب ریپ کیس نے مختاراں کیس کے فوبیا کو پھر سے زندہ کردیا اور رات بھر اسی تکلیف میں رہی۔ ہر طرف اس واقعہ کا ذکر تھا۔ سوشل میڈیا پر جسٹس فار زینب کے نام سے مہم چل نکلی اس رات نیند تھی کہ آنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ اور عجیب سا غصہ تھا۔ دل کرتا تھا کہ کسی طرح اس درندے کو پکڑوں اور سرعام پھانسی پہ لٹکا دوں مگر یہ حالت صرف میری نہیں تھی۔ ہر طرف یہی عالم تھا۔ مجھ سمیت شاید ہی کوئی نیوزکاسٹر ہوجو اس دن رویا نہ ہو۔

اگلے ہی دن قصور میں ہنگامہ آرائی کا آغاز ہوگیا لوگ زینب کیس سے غم میں تھے اور دیکھتے ہی دیکھتے صورتحال قابو سے باہر ہوگئی۔ لوگوں کے ڈر میں آ کر قانون بھی حرکت میں آیا کیونکہ یہ 2 ماہ میں 12 واں واقعہ تھا۔ کارروائی کا باقاعدہ آغاز ہوا اور ٹی وی پر بھی اس کیس کا فالوآپ روز کی بنیاد پر شروع ہوگیا۔ 700 کے قریب لوگوں سے تحقیقات کی گئیں، 400 سے زائید لوگوں کے ڈی این اے کے نمونے حاصل کیے گئے مگر ملا کچھ نہیں۔ پھر آخرکار معلوم ہوا کہ مجرم تو آنکھوں کے سامنے ہے۔

بار بار تحقیقات پر بل آخر 23 جنوری کو عمران نامی درندے کو پکڑا گیا۔ ڈی این اے میچ کر گیا اور مجرم نے اعتراف جرم بھی کیا۔ 17 فروری کو کورٹ نے عمران کو چار بار سزائے موت سنائی۔ اس دوران عمران کی جانب سے رحم کی اپیل بھی کی گئی جو مسترد ہوئی۔ زینب کے والد کی جانب سے بھی مجرم کو سرعام پھانسی دینے کی اپیل کی مگروہ بھی مسترد ہوئی کیونکہ قانون میں سرعام پھانسی کی گنجائش موجود نہیں ہے۔ بہرکیف 17 اکتوبر کو درندہ پہنچا دیا گیا اور انجام کو پہنچ گیا۔

سوال یہ ہے کہ ہمارے ملک میں کیا عمران کو پھانسی ملنے کے بعد یہ ظلم تھم جائے گا؟ کیا اس طرح انصاف مل جائے گا؟ شاید نہیں۔ سب سے زیادہ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کا شکار بچوں کی فہرست میں پاکستان اب بھی ٹاپ 15 مین شامل ہے۔ انٹرنیشنل رپورٹ کے مطابق پاکستان میں موجود بچوں کے ریپ کیسز کی تعداد 2030 تک دگنی ہوجائے گی۔ 2017 کے پہلے 6 مہینوں میں 1764 کیسز رپورٹ ہوئے۔ اس سال یعنی 2018 کے پہلے 6 مہینوں میں زیادتی کے واقعات میں ٪ 32 اضافہ ہوا اور یوں 2322 بچے بچیوں کو زیادتی کا نسانہ بنایا گیا۔

ہیومن رائٹس کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر روز 12 بچوں بچیوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ٪ 76 زیادتی کے واقعات پاکستان کے دیہی علاقوں میں پیش آتے ہیں جبکہ٪ 24 واقعات شہروں ہیں رپورٹ کیے جاتے ہیں۔ ایک اور رپورٹ کے مطابق ٪ 40 لوگ زیادتی کے واقعات کی شکایت تک درج نہیں کراتے اور اکثر کیسز میں متاثرہ بچے بچیاں بھی گھروالوں سے پیش آنے والے واقعات کا ذکر تک نہیں کرتے اس کی زیادہ تر وجہ اعتماد کی کمی اور ظالم کے مزید ظلم کا ڈر ہوتا ہے۔

پولیس ٪ 89 واقعات پر مقدمہ تو درج کرتی ہے مگر ٪ 60 کیسز بھی نہیں نمٹا سکی اور ٪ 11 واقعات پر تو پولیس مقدمہ بھی درج نہیں کرتی اس کی بڑی وجہ رشوت خوری یا با اثر افراد کا دباؤ ہوتا ہے۔ یہ بھی بات سامنے آئی ہے کہ 12 میں سے 8 بچوں بچیوں کو قتل کردیا جاتا ہے اس کی بڑی وجہ اس بات کا ڈر ہے کہ کہیں وہ زبان نہ کھول دیں کیونکہ زیادہ تر واقعات میں جان پہچان بلکہ خونی رشتے بھی شامل ہوتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ آج تک کتنی لائبہ کتنی زینب اور کتنے عمر کو انصاف ملا ہے؟ یہاں پر تو تین سال کی بچی کو نہیں چھوڑا گیا۔

زیادتی کے کیسز کے حوالے سے قانون سازی کی اشد ضرورت ہے اور خاص طور پر سرعام پھانسی دینے پر تاکہ انصاف کا تقاضا پورا کیا جائے۔ قانون کے رکھوالوں کو بھی دیکھنا لازمی ہے تاکہ وہ بھی انسانیت اور فرض کے ناتے مجرموں کو پکڑیں اور قانون کے کٹہیرے میں لائیں۔ ماں باپ کو بھی چاہیے کہ وہ اس بات کو سمجھیں کہ کسی پر بھی ضرورت سے زیادہ اعتماد ین کے بچوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا سکتی ہے۔ اپنے بچوں کو گڈ ٹچ اور بیڈ ٹچ میں فرق سکھانا وقت کی ضرورت ہے جس پہ اسکولوں میں بھی آگاہی ملنی چاہیے تاکہ جو خطرہ ماں باپ نہیں بھانپ سکتے وہ بچے بھانپ لیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں