اسرائیلی طیارے کی خفیہ آمد کی خبر اور پاکستانی خارجہ پالیسی


لہذا دوسرا سوال یہ اٹھتا ہے کیا موجودہ حکومت اور وزیراعظم اپنے پچھلے موقف سے ”یوٹرن“ لیتے، اسرائیل کی نئی یاری میں فلسطین کے معاملے کو پس پشت ڈال کر، ایران کے ساتھ نیا محاذ کھول کر پاکستان کو نئی فرقہ وارانہ جنگ میں جھونکنے کا فیصلہ کر چکے ہیں؟ وزیر اطلاعات فواد چودھری نے اپنے پہلے ناکام دورہ سعودی عرب کے بعد یہ فرمایا تھا کہ سعودی امداد ان کی حکومت کو اس لیے قبول نہیں کیوں کہ اس کے ساتھ ایسی شرائط جڑی ہیں جو پاکستان کے مفاد میں نہیں ہیں۔

مسلم لیگ نون کے دور حکومت میں سعودی فرمانروا نے جب پاکستان کو 1.5 ارب ڈالر کی رقم تحفتاً دی تو تحریک انصاف کے حالیہ وزرا شیریں مزاری، اسد عمر اور فواد چودھری نے نواز شریف کے سعودی شاہی خاندان کے ساتھ ذاتی مراسم کو پاکستان کی سالمیت اور خود مختاری کے لئے خطرہ قرار دیا۔ لہٰذا فطری طور پر چوتھا سوال اٹھتا ہے کہ کیا تحریک انصاف کی حکومت، پاکستان کی خارجہ پالیسی اور خود مختاری قرض کی مد میں گروی رکھ چکی ہے؟ یہ بات ڈھکی چھپی نہیں کہ وزیراعظم عمران خان کے سابق سسرالی رشتے دار اور جگری دوست زیک گولڈ سمتھ، ”اسرائیل کے قدامت پسند دوست“ نامی تنظیم کے نمایاں رکن ہیں۔

اس معاملے میں کوئی دو رائے نہیں کہ ریاست اسرائیل کا وجود اب ایک حقیقت ہے جس سے منہ موڑنا یقیناً حماقت ہی کہلائی جا سکتی ہے۔ ستر سال سے ریاست پاکستان، سعودی عرب کی ایما پر اس حقیقت کو جھٹلا کر اسرائیل دشمنی پالتی ہوئی، مسائل کا حل جنگ و جدل میں ڈھونڈنے کی سعی لا حاصل میں مبتلا رہی۔ مسلم دنیا کی ستر سالہ مخالفت اور دشمنی کے باوجود آج اسرائیل نا صرف اپنی عسکری قوت کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ بلکہ اقتصادی ترقی، ریسرچ اور ٹیکنالوجی کے میدان میں اس کا شمار چوٹی کے ممالک کی صف میں ہوتا ہے۔

ہماری خارجہ پالیسی کی تاریخ ناکامیوں سے بھری پڑی ہے۔ جس کا بنیادی سبب غیر منتخب افراد کا اس پر قابض ہونا اور پارلیمان میں بیٹھے منتخب نمائندوں کو اس سارے عمل سے دور رکھنا شامل ہے۔ من حیث القوم، ہمیں اس بات کے ادراک کی ضرورت ہے کہ عصر حاضر میں بین الریاستی تعلقات قومی جذباتیت، مذہبی جنونیت اور عسکری تعاون پر استوار نہیں کیے جاتے۔ آج کے دور میں اقوم کے مابین تعلقات کا دار و مدار، تجارت کے حجم، معاشی تعاون اور سائنس و ٹیکنالوجی کے تحقیقی تبادلے پر ہے۔

ریاست پاکستان کا چار میں سے دو ہمسایہ ممالک (بھارت اور افغانستان) کے ساتھ اینٹ کتے کا ویر ہے۔ سی پیک جو پچھلی حکومت کی کاوشوں سے پاکستان کے لئے ایک امید کی کرن بن کر ابھرا تھا، وہ موجودہ حکومت کی نواز دشمنی اور نا اہلیوں سے کھٹائی میں پڑتا جا رہا ہے۔ جس کے نتیجہ میں چین کے ساتھ ہماری ”گہری اور اونچی“ دوستی پستی اور سرد مہری کا شکار ہو رہی ہے۔ ایران کے ساتھ تعلقات پہلے ہی سرد مہری کا شکار ہیں اور اسرائیل کے ساتھ کھلنے والا یہ نیا باب ہمارے لئے سنگین مشکلات بھی پیدا کر سکتا ہے۔

پاکستان کی بنیادی خارجہ پالیسی میں اتنی بڑی خفیہ تبدیلی بہت سے شکوک شبہات کو جنم دیتی ہے۔ اسرائیلی طیارے کی پاکستان آمد کی اطلاعات کے معاملے کو فی الفور، پارلیمان میں زیر بحث لانے کی ضرورت ہے۔ اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار کرنے کے لئے ایک قومی مباحثہ ہونا چاہیے۔ لیکن آخری سوال یہ اٹھتا ہے کہ ستر سال سے نفرت کے آبیاری میں ”یہود و ہنود“ کی سازشوں کی داستانیں جو قومی شعور میں پیوست کی گئی ہیں ان سے کیسے چھٹکارا حاصل کیا جائے۔

عدنان حفیظ گرفتھ یونیورسٹی آسٹریلیا کے طالبعلم ہیں اور پولیٹیکل اکانومی کے شعبے میں ریسرچ کر رہے ہیں۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2