ساودھان انڈیا، کرائم پیٹرول اور خوفناک دنیا
وہ اپنی بھابھی کو سیڑھی سے گرا کر منگیتر کے اسپتال بھی لے جاتی ہے مگر خدا کا کرنا ایسا ہوتا ہے کہ پولیس وہاں پہنچ جاتی ہے اور اسے معاملہ سمجھ میں آ جاتا ہے اور بھابھی کی جان بچ جاتی ہے۔ اس کہانی میں جس قدر اچھا تعلق ابتداء میں بھائی بہن کا دکھایا گیا اس کے بعد یہ کہانی اتنی بھیانک معلوم ہوتی ہے کہ دیکھنے والے کا انسانی رشتوں سے ہی اعتبار اٹھ جاتا ہے۔ مگر یہاں پر غور طلب بات یہ ہے کہ کہانی میں لڑکی کو مجرم بننے کا واحد محرک جہیز کا دباؤ دکھایا گیا ہے، ۔
حقیقت یہ ہے کہ ایسی حرکت کرنے اور اس حد تک گرنے کے لئے صرف و محض اس نوع کا ایک محرک کافی ہی نہیں۔ ضمیر سے مکمل طور پر مبرا افراد جن کو طبی نفسیات کی زبان میں Antisocial personality کہا جاتا ہے وہی اس درجہ رکیک حرکات کے متحمل ہو سکتے ہیں اور اس نوع کے کردار بچپن سے ہی اپنی شیطانی فطرت ظاہر کرتے رہتے ہیں۔ دراصل اِن پروگراموں کے بنانے والے جب واقعات(Facts) میں ڈرامائی رنگ بھرتے ہیں تو کرداروں کو پیش کرنے کے لیے نارمل انسانوں کے متعلق بنے بنائے تصورات کو پیش کرتے ہیں۔ جیسے روایتی بھائی بہن، روایتی ماں باپ۔ مگر جب اِن روایتی محبتوں میں بظاہر جڑے کردار اپنے عزیزوں اور رشتے داروں کے ساتھ درندگی کا مظاہرہ کرتے ہیں تو لوگ دہل جاتے ہیں اور ان کا یقین ہر ہر چیز سے ہٹنے لگتا ہے۔
پھر اگر کردار نگاری بالکل درست بھی ہو تو بھی جرائم کی کہانیاں دیکھتے رہنے سے انسان کو لگنے لگتا ہے کہ ہر طرف جرم ہے، ہر طرف برائی ہے، ہر جگہ غیر محفوظ ہے، ہر ہر رشتہ اور ہر ہر انسان ناقابل اعتبار ہے۔ جرم واقعی ہر معاشرے میں ہوتا ہے مگر ظاہر ہے کہ جرم کسی بھی مہذب معاشرے میں ایک غیر معمولی اور شمارتی طور پر کم ہی لوگوں کے ساتھ پیش آتے ہیں۔ اگر سب کے ساتھ ہی اتنے خوفناک جرائم پیش آتے تو ”ساودھان انڈیا“ اور ”کرائم پیٹرول“ دیکھنے کے لئے زندہ کون بچتا؟ ویسے تو جرائم کی خبریں بھی لوگوں میں سماجی عدم تحفظ کا احساس اور خوف پیدا کرتی ہی ہیں مگر جرائم کی یہ ڈرامائی منظر کشی ان جرائم کو اور بھی زیادہ خوفناک تجربہ بنا دیتی ہے۔ پھر ہر انسان ان کہانیوں میں اپنی تصویر دیکھنے لگتا ہے اور ایک غیر ضروری خوف ایک نوع کا فوبیا لوگوں میں پروان چڑھنے لگتا ہے۔
پھر ان پروگراموں کی ایک اور جہت بھی ہے۔ یہ پروگرام جرائم سکھانے کی بڑی درسگاہ کا بھی درجہ رکھتے ہیں۔ ان میں بتایا جاتا ہے کہ کس طرح جرائم کے بعد پولیس کو باآسانی گمراہ کیا جا سکتا ہے۔ کس کس طریقے سے آسانی سے پیسے کمائے جا سکتے ہیں اور کیسے آسانی سے اپنی جنسی ہوس پوری کی جا سکتی ہے۔ کوئی کہہ سکتا ہے کہ ان پروگراموں میں برے کا انجام برا بھی تو دکھایا جاتا ہے۔ بالکل درست۔ مگر جرم پر مائل اذہان کب اس حد تک غور کرتے ہیں؟ انہیں تو بس ان پروگراموں سے اپنی خواہشات کے پورے ہونے کے کچھ ذرائع مل جاتے ہیں۔ کچھ تعلیم مل جاتی ہے بس۔ ویسے بھی معاشرے کی صرف منفی چیزوں کی تشہیر سے آخر کس نوع کا تصورِ معاشرے عام کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور ہر وقت منفی چیزوں کو دکھاتے رہتے سے وہ گھٹتی ہیں یا اور بڑھ جاتی ہیں؟
اچھی بات یہ ہے کہ ہمارے ملک میں ایسے پروگراموں کی ویسی ریل پیل نہیں ہے۔ یہ بھارتی پروگرام تو بعض علاقوں میں دیکھے جا سکتے ہیں مگر یہ پھر بھی ایک غیر ملک کی کہانی ہونے کی وجہ سے اس قدر متعلق نہیں ہیں۔ بہتر یہ ہو گا کہ بھارتی چینلوں پر پابندی کا سختی سے اطلاق کیا جائے اور ان پروگراموں کو بھی ہمارے ملک میں روک دیا جائے۔ کیا ضرورت ہے کہ ایک دنیا کی ایک مکروہ تصویر ہی دکھائی جائے؟ کیا زندگی صرف منفی تجربات ہی کا مجموعہ ہے؟
