باکمال ترقی کی لاجواب پرواز اور سفر کی دیگر احتیاطی تدابیر


تو جن معاملات کی تبلیغ و ترویج مطلوب ہے ان میں کشمیر بنے کا پاکستان، اسلام ہمارا دین ہے اور پاکستان وسائل سے مالامال باصلاحیت لوگوں کا ملک ہے، شامل ہیں ۔ اگر قوم ان مقصد کی تکمیل میں ناکام رہی ہے تو اس کی ساری ذمہ داری بدعنوان اور مفاد پرست سیاست دانوں پر عائد ہوتی ہے جو اپنی تجوریاں بھرنے کے لئے قومی خزانہ خالی کرتے ہیں بلکہ بیرون ملک سے مہنگے قرضے لے کر انہیں قومی منصوبوں پر صرف کرنے کی بجائے بیرون ملک بے نامی جائیدادیں خریدنے اور کاروبار کرنے کے لئے نامعلوم جعلی اکاؤنٹس سے قومی دولت کو منی لانڈرنگ کے ذریعے ملک سے باہر بھیجنےکا اہتمام بھی کرتے ہیں۔ ہر محب وطن صحافی اور قلم کے سپاہی کا فرض ہے کہ وہ اس قومی سازش کا سراغ لگانے کے لئے کسی بھی حد تک جانے کے لئے تیار رہے۔ یعنی اگر ممکن ہو تو کوئی ذی ہوش ’انوسٹی گیٹو‘ رپورٹر یہ پتہ لگائے کہ سیاست دانوں کی منی لانڈرنگ کی وجہ سے ہی دراصل فناشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) جیسا عالمی ادارہ پاکستان کو دہشت گردی کی فنانسنگ کرنے والے ملکوں کی مشکوک فہرست میں ڈالتا ہے۔ اگر ایسا کوئی حوصلہ مند جیالا صحافی میدان میں آسکے تو محب وطن حکومت آسانی سے اس ادارے کو بتا سکتی ہے کہ جس منی لانڈرنگ کو وہ ٹیرر فنانسنگ سمجھ رہے ہیں وہ دراصل پولیٹیکل فنانسنگ ہے۔ یعنی بدقماش سیاست دانوں کی دولت ملک سے باہر بھیجنے کا انتظام۔

اس قسم کی تحقیقاتی صحافت کے دو فائدے ہوسکتے ہیں۔ ایک تو علامہ خادم رضوی کی سود مکاؤ۔ قرض چکاؤ کی انقلابی تجویز کی طرز پر سیاست دانوں کے کالے کارنامے بتاؤ اور درپردہ عناصر کے سیاہ کرتوت چھپاؤ کا قومی منصوبہ کامیابی سے ہمکنار ہوسکتا ہے۔ ایف اے ٹی ایف کو آسانی سے یقین دلایا جاسکتا ہے کہ جس منی لانڈرنگ کی وجہ سے وہ پاکستان کو مشکوک سمجھ رہے ہیں وہ تو ان ہی کے ملکوں میں ان ہی سے قرض میں لی ہوئی دولت پرائیویٹ اکاؤنٹس میں منتقل کرنے کی وجہ سے ریکارڈ پر آتی ہے ۔ اس لئے وہ پاکستان کو چھوڑیں اپنے گھروں کی فکر کریں۔ دوسرے ملک کے عسکری ادارے اور جان باز قوم پرست گروہ کشمیر کو پاکستان بنانے کے جس دلیرانہ منصوبہ پر عمل کررہے ہیں اس کی تکمیل میں بھی آسانی پیدا ہو گی۔ یعنی دنیا کی نگاہ اوجھل ہو تو ہم سری نگر میں سبز ہلالی پرچم لہرائیں۔ لیکن خبردار کشمیر کو ہمیشہ مقبوضہ کہنا قومی فرائض کا حصہ ہے اور کشمیر بنے گا پاکستان کے نعرے پر غور و فکر کرنے وغیرہ جیسے کسی فضول خیال کو بھی دل میں جگہ دینے کی کوشش نہ کی جائے۔

مثال کے طور پر یہ سوچنے کا تصور کرنا بھی قوم سے غداری ہوگا کہ یہ کہنے کی کوشش کی جائے کہ پہلے ملک کو خوش حال کرلو، اپنے لوگوں کو روزگار دے لو، بچوں کی تعلیم کا انتظام کرلو، مریضوں کا علاج کرلو اور کروڑوں غریبوں کے گھروں میں روشنی کرلو پھر کشمیر بھی فتح کرلیں گے۔ یا یہ کہ پہلے لاپتہ افراد کا سراغ لگالو، پاکستان میں بنیادی حقوق بحال کرلو، صوبوں کی تکلیفوں کو رفع کرلو اور مذہبی اقلیتوں کو تحفظ کا احساس فراہم کرلو ، اس کے بعد کشمیر کے معاملہ پر بھی بات کرلیں گے اور دنیا میں مظلوم مسلمانوں کی حالت بہتر بنوانے کے لئے اپنی ساری صلاحیتیں صرف کرنے کی کوشش کرلیں گے۔ ہوشیار باش یہ کہنے کی جرات بھی نہ کی جائے کہ ’جناب عالی آ پ ہی اپنی اداؤں پہ ذرا غور کریں۔ کشمیر کا معاملہ ستر برس پرانا ہؤا۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی جس بتی کے پیچھے آپ نے قوم کو لگایاہؤا ہے، انہیں دنیا کا کوئی ملک اہمیت نہیں دیتا اور اقوام متحدہ نے بھی انہیں سرد خانے میں ڈال دیا ہے۔ جس کشمیری نسل کے لئے جس ہندوستانی قیادت نے یہ قراردادیں قبول کی تھیں وہ دنیا سے روانہ ہوچکیں۔ اب کشمیر کے حالات تبدیل ہو چکے۔ اب کشمیریوں کی تیسری اور چوتھی نوجوان نسل کشمیر کے چپے چپے کو مقبوضہ سمجھتی ہے۔ اس میں آزاد کشمیر کا وہ علاقہ بھی شامل ہے جسے سری نگر پر سبز ہلالی پرچم لہرا کر پاکستان کا اٹوٹ انگ بنانا مقصود ہے۔ اٹوٹ انگ کا فلسفہ پرانا ہوچکا۔ کیوں کہ کسی بھی دھرتی پر اس کے لوگوں کا حق ہوتا ہے۔ کشمیر کے لوگ یہ حق بھارت سے ہی نہیں پاکستان سے بھی مانگ رہے ہیں۔ کشمیر بنے گا پاکستان کے شور میں اس آواز کو کب تک دبائیں گے‘۔ لیکن جیسا کہ کہا کہ یہ سب ممنوعات ہیں۔ اس قسم کی بات کرنے والا اپنے کہے سنے کا خود ذمہ دار ہوگا۔

البتہ ذمہ دار قلمکار اور محب وطن صحافی قومی ترقی میں عدالتوں کے لازوال کردار کی حکایت بیان کرکے قوم کو یہ خوش خبری سنا سکتا ہے کہ چرچل نے کہا تھا کہ ملک تباہ ہوگیا تو کیا ہؤا۔ اگر میرے ملک کی عدالتیں کام کررہی ہیں اور انصاف فراہم کررہی ہیں تو ہمیں کوئی شکست نہیں دے سکتا۔ تو اے اہل وطن خوش ہوجائیے کہ منصف اعلیٰ اب انصاف فراہم کرنے کے علاوہ داتا صاحب کے عرس کا افتتاح بھی کرتے ہیں اور قوم کو خوش خبری دے رہے ہیں کہ تاریخ میں پہلی بار ملک ترقی کی طرف پرواز کرنے والا ہے۔ اس پرواز کو جمہوریت دشمنی قرار دینے والوں کو اگر ملک دشمن نہ سمجھا جائے تو کیا کہا جائے۔ یہ لوگ نہیں جانتے کہ جمہوریت بھی تب ہی ہوگی جب پاکستان ہو گا۔ پاکستان کے ہونے کے لئے فوج ، عدالت اور متعلقہ مستثنیات کا ہونا ضروری ہے۔ واضح رہے کہ جمہوریت ایک مشکل اور صبر طلب راستہ ہے۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali