باکمال ترقی کی لاجواب پرواز اور سفر کی دیگر احتیاطی تدابیر


پاکستان میں جمہوریت کی بحث آمریت کے خوف میں پروان چڑھتی ہے۔ گزشتہ چند دہائیوں سے سیاست میں فوج کا کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ۔ کبھی اسے سول ملٹری تعاون کا نام دیا جاتا ہے اور کبھی جمہوریت اس لئے بحران کا شکار ہوجاتی ہے کہ کوئی میمو گیٹ یا ڈان لیکس جیسا ڈرامہ قومی سیاست کو اپنے حصار میں لے لیتا ہے۔ تاہم اس سارے کھیل میں ایک دو اشاریے بہت واضح ہیں۔ ایک یہ کہ اس کھینچا تانی میں قصور وار ہمیشہ سیاست دان اور ادارے ہمیشہ قومی مفادات کے محافظ ہوتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ سیاست دانوں کی کردار کشی کے لئے صرف مخالف سیاست دان اور سیاسی پارٹیاں ہی نہیں بلکہ میڈیا کو بھی اہم کردار ادا کرنا چاہئے۔ جو میڈیا کا ایک بڑا حصہ خوش دلی سے ادا کرنے پر تیار رہتا ہے ورنہ اس کے پر کاٹنے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

آج کل اسی قسم کے انتظام کے سبب میڈیا کو صحافیوں سے آزاد کرواکے مالکان کے ’سپرد‘ کردیا گیاہے۔ کیوں کہ مالکان کو بہر حال اپنے سرمائے سے منافع کمانا ہے اور سرکار کو راضی رکھنا ہے۔ تیسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ مباحث اور رائے کے اظہار میں بعض استثنیات طے کردی گئی ہیں۔ جن میں قومی مفاد کی غیر واضح اور مبہم تعریف، فوج کی خدمات اور قربانیوں حتی کہ بیان کردہ معلومات پر سوال اٹھانا بھی ملک دشمنی کے ضمن میں آتا ہے۔ عدالتیں جب تک قومی مفاد کی اس وضاحت کے تحت خدمات سرانجام دے رہی ہوں تو ان پر حرف زنی کرنا آئین شکنی اور ملک و قوم سے غداری ہے جبکہ منہ کا ذائقہ بدلنے کے لئے ایسے ججوں کو تختہ مشق بنایا جاسکتا ہے جو استثنیات کے اس زائچے کو قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے ۔ یا جن کی عدالتوں میں موجود گی سے حقیقی انصاف کو اندیشہ لاحق ہو۔ اس حوالے سے متعدد ذیلی استثنیٰ بھی موجود ہیں جن کے بارے میں بااختیار ادارے یا افراد وقتاً فوقتاً اشارے دے سکتے ہیں اور سیاست دان ہوں یا دانشور یا میڈیا کے منہ پھٹ، ان کو ماننے کے پابند تصور کئے جاتے ہیں۔ حاصل کہانی یہ ہے کہ ان ممنوعہ ’علاقوں‘ میں منہ ماری کرنے والے اپنے انجام کے خود ذمہ دار ہوں گے۔

تحریر و تقریر کا کمال دکھانے کے لئے بھی بعض سمتوں کا تعین کردیاگیا ہے۔ جن میں فوج کی بے لوث خدمت ، ملک و قوم کے لئے انتھک محنت و قربانی کا بیان کرنے کے علاوہ اس پہلو پر دفتر سیاہ اور تقریر طویل کی جاسکتی ہے کہ فوج کے بغیر پاکستان کا تحفظ محال ہے۔ یعنی یہ تو کہا جاسکتا ہے کہ ملک کا ایک چوتھائی بجٹ دفاع پر صرف کرکے دراصل بانیان پاکستان کے خواب کی تکمیل کی جارہی ہے لیکن یہ معلومات فراہم نہیں کی جاسکتیں کہ نئے ورلڈ آرڈر میں کسی ملک کو دفاع کے نام پر قومی وسائل صرف کرنے، ایٹمی ہتھیاروں کا ذخیرہ کرنے ، یا بھوکے لوگوں کی تعداد میں اضافہ کے باوجود جدید ترین اسلحہ کی خریداری پر وسائل صرف کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے متبادل کے طور پر امن کی خواہش کے پیغام کو عملی جامہ پہناتے ہوئے عسکری مصارف محدود اور فوج کی تعداد کم کرکے دنیا کو یہ واضح پیغام دیاجاسکتا ہے کہ ہمارے کوئی جارحانہ مقاصد نہیں ہیں ، ہمارا کوئی دشمن نہیں اور نہ ہم کسی کے ساتھ کوئی مسلح تصادم چاہتے ہیں۔ جدید عہد میں ایسا قومی ایجنڈا کسی بھی قوم کی عزت و وقار میں اضافہ کا سبب بننے کے علاوہ ، اس کے عوام کے لئے خوشحالی کا راستہ بھی ہموار کرسکتا ہے۔ تاہم ہوشیار خبردار: ایسی بات منہ پر لانے والا مملکت خداددا د پاکستان میں غدار وطن اور دشمن کا ایجنٹ کہلاتا ہے۔ کوئی ذی ہوش اس کی جغرافیائی حدود میں رہنے کا خواب دیکھتے ہوئے اس قسم کے فاؤل پلے یا ایک مختلف مگر جائز بحث کا آغاز کرنے کا حوصلہ نہیں کرسکتا۔

ملک و قوم سے اپنی وابستگی، وفاداری اور محبت کا اظہار کرنے کے لئے چند دیگر نعرے بھی دستیاب ہیں جن پر کھلے دل اور پوری ’دیانتداری اور فراخدلی‘ سے اظہار خیال کیا جاسکتا ہے اور ان کی تکمیل میں سامنے آنے والی کمزوریوں پر انگلی اٹھائی جاسکتی ہے۔ کمزوریوں سے مراد سیاست دانوں اور سول حکومتوں کے ارکان کی طرف سے ان قومی دائروں کے بارے میں لاتعلقی، کمزور بیانی یا شدت جذبات کی کمی کی نشاندہی وغیرہ شامل ہیں۔ یہ کمزوریاں موجود نہ بھی ہوں تو بھی اچھا مقرر اور قوم پرست صحافی و دانشور دور بینی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کسی نہ کسی رویہ میں اسے تلاش کرسکتا ہے۔ آخر اسی مقصد کے لئے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو صلاحیتیں عطا کی ہیں کہ وہ انہیں قومی مفاد کے لئے مقرر حدود کی حفاظت کرتے ہوئے ان سے لاپرواہی برتنے والے قومی لیڈروں کی گوشمالی کے لئے استعمال کرسکیں۔ تاہم واضح رہے کہ تنقید کے جوش میں ان استثنیات کو فراموش نہ کیا جائے جو ملک کی فوج اور قابل احترام ذی وقار عدلیہ کی شہرت کو برقرار رکھنے کے لئے مقرر ہیں۔

باقی اداریہ پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے 

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali