پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے لئے شہباز شریف کا نام مسترد ہونے کی اندرونی کہانی
وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت اجلاس میں پبلک اکائونٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ کیلئے قائد حزب اختلاف شہبازشریف کا نام مسترد کیے جانے کے حوالے سے اندرونی کہانی سامنے آگئی۔ تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ہوا، جس میں شہبازشریف کے بجائے سید فخر امام کو چیئرمین پی اے سی بنانے کی تجویز پیش کی گئی۔ اجلاس میں چیئرمین پی اے سی کے معاملے پر فخرامام کے نام پر اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کےلئے شاہ محمود قریشی کی سربراہی میں کمیٹی بنادی گئی۔
اجلاس میں کہا گیا کہ شہبازشریف ایک متنازع شخصیت ہیں۔ وہ اپنے اور بڑے بھائی کے منصوبوں کی چھان بین کیسے کر سکتے ہیں؟ اس لئے ضروری ہے کہ اپوزیشن کی مشاورت سے چیئرمین پی اے سی کے لئے غیر جانبدار شخصیت کا انتخاب کیا جائے۔
ذرائع کے مطابق اس موقع پر پارلیمانی پارٹی نے سید فخر امام کا نام تجویز کردیا تاہم فیصلہ کیا گیا کہ اپوزیشن اگر کوئی نام لائی تو اس پر بھی بات کی جائے گی۔ اس سارے معاملے کو شاہ محمود قریشی کی سربراہی میں قائم کمیٹی دیکھے گی۔
پارٹی ارکان کے شکووں اور تقاضوں کےبعد بلائے گئےاس اجلاس میں وزیراعظم نے اپنےدورہ سعودی عرب کے حوالے سے بھی آگاہ کیا اور منتخب ارکان کےتعارف کےساتھ فرداً فردا ًحلقوں کےمسائل بھی سنے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ متعلقہ وزارتیں اور محکمےایم این ایز کےمسائل کو ترجیحی بنیادوں پرحل کریں ۔
وزیراعظم نے کہاکہ گذشتہ حکومتوں کی غلط پالیسیوں نے ملک کو اس نہج پر پہنچایا، ملک کو بحران سے نکال کر ترقی کی راہ پر ڈالنے کے لیے سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ پارلیمانی پارٹی نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن کی احتجاجی حکمت عملی سےنمٹنے کے امور پر بھی غور کیا ۔


