گلگت میں چڑیلیت کی تشکیل
چڑیلیت کا موضوع مکمل طور پر ”صنف نازک“ یعنی عورت کے ساتھ جڑا ہوا ہے، چڑیل بنانے کی تشکیل میں معاشرتی کردار، چڑیل کے سماجی کردار اور خواتین کے ارتقائی حیثیت کو قارئین کے سامنے لانا نہایت اہم محسوس ہورہا تھا۔ گزشتہ دنوں گلگت کے ایک ”مارننگ شو“ کے حوالے سے جس انداز میں پورا معاشرہ اس معاملے کے خلاف کھڑا ہوگیا ا س کی وجہ سے مقامی معاشرے میں عورت کی ارتقائی حیثیت کو آگے لانے کی ضرورت تھی۔ جہاں ثقافت کے موضوع کو غلط پیش کیا گیا تھا وہی پر اکثر حلقوں کی جانب سے مذمت اور مزاحمت کا موضوع بہت حد تک آگے جاتا ہوا نظر آگیا، بعض مقامات پر جن القابات سے نوازا جارہا تھا اس سے صاف ظاہر ہورہا تھا کہ ہم مجموعی طور پر عورت کے بارے کیسے خیالات رکھتے ہیں۔ اس موضوع کو تفصیل سے پیش کرنے کے لئے جناب عزیز علی داد صاحب کا مضمون ”The making of witch“ جو کہ دی نیوز میں 14 فروری 2017 کو شائع ہوا تھا، کو اردو میں ترجمہ کرنے کی ضرورت پیش آئی۔ جس کے لئے ان سے باقاعدہ اجازت بھی لی گئی اور ساتھ ہی ساتھ ترجمہ میں ان کی بھرپور معاونت بھی رہی۔
چڑیل کو ایسی مخلوق تصور کیا جاتا ہے جو انسانوں کے درمیان روحانیت کے (منفی) عزائم کی تکمیل کے لئے انسانی روپ میں سامنے آتی ہیں۔ تہذیب کے ابتداءسے ہی ہم چڑیلوں کی خوفناک کہانیوں کے گرد گھومتے رہیں۔ چڑیلوں کی یہ داستانیں مصر، رومی، یونانی تہذیب اور لوک کہانیوں میں نمایاں نظر آتے ہیں۔ حتیٰ کہ شیکسپیئر کے ادبی مواد کے اندر بھی چڑیلوں کا تذکرہ ملتا ہے بالخصوص ان کے ڈرامے ”میک بیتھ“ میں۔ یورپ کے ترقی کے ابتدائی دور میں ”چڑیل کے شکاریوں“ اور ماساچیوسٹس (امریکی ریاست) میں امریکی نوآبادیاتی دور چڑیلوں کی داستانیں آج بھی مورخین اور سوشیالوجسٹس کے لئے تجسس اور کشش رکھتے ہیں ہیں۔ جدید دور میں آرتھر ملر نے سائیلم کے چڑیلوں کے مواخذے یا ٹرائل کو بنیاد بناتے ہوئے کمیونسٹوں کے خلاف چڑیلوں کے شکار، جس کو سینیٹر جوزف میکبرتھ 1950 کی دہائی میں رہنمائی کررہے تھے، کے خلاف اپنے اخلاقی موقعات کا اظہار کیا۔
چڑیلوں کا یہ تصور صرف ان علاقوں تک محدود نہیں رہا ہے، بلکہ ایشیاءکے مختلف معاشروں میں بھی اس کا ذکر ملتا ہے۔ گلگت بلتستان کے ثقافتی تناظر میں چڑیل کا نظریہ خواتین سے جڑا ہے۔ گلگت میں آج بھی چڑیلوں کو مافوق الفطرت مخلوق گردانا جاتا ہے جو جب گناہ کی مرتکب ہوتی ہے تو اس گناہ کے تناسب سے ان کے لئے سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔ یہ معمہ معاشرتی مصلحتوں، قدغنوں اور اخلاقی ضرورت کی کمی کی وجہ سے اب تک زیر بحث نہیں آسکا ہے۔
دنیا کا ہر نظریہ ایک مخصوص پس منظر میں ا بھرتا ہے اور زبان کے ذریعے اظہار پاتا ہے۔ یہ زبان ہی ہے جس کے ذریعے سے دنیا تو موجوئی تجربات اور اجتماعی فکر کے استعارات کی تشکیل کی جاتی ہے۔ ایک کمزور معاشرے میں یہ رجحان ہوتا ہے کہ غلط عقیدے کی وجہ سے کمزور استعارے کی تشکیل کرتے ہیں۔ گلگت کا معاشرتی ساخت اتنا کمزور ہے کہ اس کے پاس ہمت نہیں کہ اپنے اندر کی تلخ حقیقتوں کو عیاں کریں۔ اس لئے اور حقیقت کو عیاں کرانے کی بجائے اس پر پر دہ ڈالے رکھا ہے۔ اس کے نتیجے میں گلگت میں چڑیلوں کے تصور کی تشکیل کی گئی تاکہ کمزور معاشرتی اقدار اور پدرشاہی روایات کو چھپایا جاسکے اور معاشرے کے مردوں سے منکر خواتین کو قابو کیا جاسکے۔
گلگت میں اس موضوع کو ”چڑیلیت“ تک محدود کردیا گیا ہے کیونکہ چڑیلوں کے پاس نہ ہی جادوئی قوت ہوتی تھی اور نہ ہی جادو ٹونے کا استعمال کرتی تھیں۔ چڑیل کے تصورکی ایک خصوصیت یہ ہے کہ چڑیل کو بنانے میں مرد کا کوئی حیاتیاتی یا جسمانی کردار نہیں ہوتا ہے تاہم مردوں کے چڑیلیت کے تصورکی تشکیل میں اہم کردار ہوتا ہے۔ ایک بوڑھی چڑیل اپنی روحانی (منفی ) خصوصیات کو اپنی بیٹی یا پوتی میں منتقل کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ معاشرے میں برائیاں عورت سے جبکہ اچھے اقدار کو مردوں سے منسوبکیے جاتے ہیں۔
ایک عورت کے چڑیل بننے کا معاملہ گلگت میں اس کے سماجی جغرافیہ، طاقت کے استعمال کے اختیارات اور مجموعی سماجی فہم و تصورات سے بھی تعلق رکھتا ہے۔ قدیم سماجی ڈھانچے میں مقامی بادشاہوں نے معاشرے اور ریاست کے ہر معاملے میں اپنے طاقت کا اثر داخل رکھتا تھا کیونکہ وہ قانون کے مجسم مطلق العنان کی حیثیت رکھتا تھا۔ لیکن انہوں نے مردوں کو اس حد تک آزادی دی ہوئی تھی کہ وہ کسی بھی عورت کو چڑیل سمجھ کر قتل کرسکتا تھا۔ ان سماجی تصورات کو قابو کرنے کے لئے روایتی طور طریقے اور اداروں کا استعمال کیا جاتا تھا جو پوری آبادی کے لئے اچھے برے، گمراہی اور قابل عمل احکامات کا تعین کرتے تھے۔
الگ الگ قبائلی پس منظر میں کام کرتے ہوئے اپنے آپ وجود پانے والے سمجھنے اور قابو پانے کے اس دیسی نظام میں چڑیل کی صفات اور خصوصیات کو صرف اور صرف خواتین سے منسوب کردیا۔ اس سماجی سوچ کے باعث معاشرے نے تشبیہات اور علامات نے جنم لیا جس سے عورت پر چڑیل کا الزام لگ گیا۔ نتیجتاً عورتوں کی جسمانی حرکات اور جنسیات کو روحانی سطح سے دبانا شروع کردیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ گلگت میں خواتین کے لئے وہ قدم شجرممنوعہ بنا ہے جنہیں چڑیل کی صفات تصور کی جاتی ہے۔ متعدد ایسے واقعات سامنے آچکے ہیں جہاں پر لوگوں نے اپنی خواتین کو بری طرح زد وکوب کیا ہے کیونکہ چڑیلوں کی طرح ظاہر ہورہی تھیں۔ کئی واقعات میں چڑیل ہونے کے الزام میں خواتین کو قتل کردیا گیا ہے۔
گلگت کے مخصوص پس منظر میں چڑیل پر بحث کرتے ہوئے صبح روشن اور کالی رات کا عورت سے تعلق کا ذکر کرنا انتہائی ضروری ہے۔ بجلی اور لالٹین کے علاقے میں متعارف ہونے سے قبل گلگت کی رات گھپ اندھیری ہوا کرتی تھی۔ راتوں کو گلگت میں آسیب یا بری روح کے گھومنے کا وقت قرار دیا جاتا تھا، ایسے میں اگر کوئی خاتون رات کو باہر نکلیں تو وہ قتل کی حقدار ٹھہرتی تھی۔ گلگت، ہنزہ، نگر اور پونیال میں ایسی متعدد داستانیں موجود ہیں جہاں پر لوگ چڑیلوں کو قتل کرنے کے واقعات کو فخریہ طور پر سنایاکرتے تھے۔ بجائے ان کو سزا ملنے کی انہیں بہادر ماناجاتا تھا کہ انہوں نے معاشرے سے بدروحوں کو پاک کردیا ہے۔
کمزور معاشروں کی ایک خامی یہ ہوتی ہے کہ اس کے اندر موجود ایسے اعمال اور حرکات جو کہ اخلاقی سانچے سے باہر ہوتے ہیں کی موجودگی سے انکاری ہوتے ہیں۔ گلگت کے قبائلی پس منظر اور تنگ معاشرے میں ایک اچھی عورت کو اس کے والد، بھائی، خاندان اور قبیلہ سے پرکھی جاتی تھی۔ ان خوبیوں سے ہٹ کر پائی جانے والی صفت کو چڑیلیت (بدروح ) سے تشبیہ دی جاتی تھی۔ گلگت کے روایتی معاشرے میں ایک مرد اور عورت کو آپس میں محبت کی اجازت نہیں تھی۔
1960 کے اواخر تک ہنزہ میں اگر کوئی عورت اپنے محبوب کے ساتھ پکڑی جاتی تو اس کی سرعام توہین کی جاتی طنزاڑایا جاتا تھا۔ مشہور لوک داستانوں میں اور عمومی طور پر یہ خیال پایا جاتا تھا کہ ایک چڑیل اپنے ساتھ ایک معاون رکھاکرتی ہیں جسے شینا میں ”مِٹو“ جبکہ بروشسکی میں ”فانِس“ کہا جاتا ہے، جس کی ذمہ داری یہ ہوتی تھی کہ وہ چڑیلوں کے شکار کو ان میں تقسیم کرتا تھا، بنیادی طور پر وہ عورت کا عاشق ہوتا تھا مگر اسے بھی چڑیل اور اس کا سہولت کار قرار دیا گیا۔
دلچسپ طور پر شینا اور بروشسکی زبان میں عاشق اور محبوب کے لئے متبادل الفاظ نہیں ہیں۔ جن پر ایک تنگ معاشرے کے سماجی جغرافیہ کے پس منظر میں چڑیل ہونے کا الزام لگایا گیا ان پر تجزیہ کیا جائے تو وہ خواتین کے حقوق کی پہلی علمبردار (فیمنسٹ) کے طور پر ابھرتی ہیں۔
چونکہ گلگت کا معاشرہ ایک بہت بڑے تاریخی تبدیلی سے گزررہا ہے اس لئے عورت کے معاشرتی کردار میں تبدیلی آرہی ہے۔ اس کی وجہ سے معاشرہ وجودی بحران اور بے یقینی کا سامنا کررہا ہے۔ ایسے صورتحال میں زوال پذیر معاشروں کی روش قربانی کے بکری کی تلاش ہوتی ہے اسی لئے گلگت کے معاشرے نے عورت کو قربانی کی بکری بنائی ہے۔ یہ عمل اخلاقیات کی الٹا کرکے اور مقدس علامتوں کو نسوانی بناکر یا گلگت کے معاشرے کے زوال کو عورتوں سے منسوب کرکے کیا جاتا ہے۔
مشہور کارگاہ بدھا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہاں پر رسمی علامات کو چڑیلیت (بری روح) میں تبدیل کر دیے گئے ہیں۔ بدھ مت راج کے زوال کے ساتھ ہی کارگاہ بدھا کے صنف (Gender) کو عورت میں تبدیل کرکے یچھنی کر دیا گیا ( جس کے معنی چڑیل عورت ہیں ) ۔ اب بھی یچھنی کو ایسی عورت سمجھا جاتا ہے جو وادی کے منہ میں لوگوں کو کھانے کے لئے کھڑی ہوئی تھی، بالآخر اسے اس کے مرد کی جانب سے پہاڑ میں ٹھونک کر قابو پالیا گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں ایک مقدس علامت چڑیلیت (بری روح) میں بدل گئی۔
اس سے گلگت کے موجودہ معاشرتی صورتحال کا بھی بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کیوں لوگ خواتین کو گھر کی چاردیواری میں مقید رکھنا چاہتے ہیں۔ اسی طرح مشہور آدم خور بادشاہ شری بدت کے زوال کا قصوروار بھی اس کی بیٹی کو قراردیا جاتا ہے جس نے ایک غیر کے ساتھ سازش کرکے اپنے والد کو قتل کروادیا۔ یہ مشہور لوک کہانیاں ابھی بھی معاشرے کا عورت سے متعلق خیالات و افکار کو جلابخشتے ہیں۔
روایتی طور پر سوچنے سمجھنے کا فارمولہ گلگت میں اب بھی استعمال ہوتا ہے، اپنے بیٹوں کے لئے دلہن کی تلاش سے پہلے خاندانوں کی جانچ پڑتال کی جاتی ہے کہ کہیں لڑکی میں چڑیل کے ڈی این اے تو نہیں، ایسی عورتوں سے آج بھی چڑیلوں کی طرح ہی سلوک کیا جاتا ہے۔ وہ عورت جو اپنے مرد سے تکرار کرتی ہے چڑیل کہلاتی ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہورہا ہے کہ مردوں میں یہ خوف موجود ہے کہ خواتین کی حیثیت ان کے برابر نہ ہوجائے۔
قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کے کھلنے کے بعد مقامی خواتین کو مردوں کے ساتھ پڑھنے اور مشاہدہ کرنے کا موقع ملا، لیکن قدامت پسند ذہنیت آج بھی انہیں چڑیلوں سے تشبیہ دیتے ہیں۔ گلگت بلتستان میں غیرت کے نام پر قتل اور خودکشیاں مردوں کے غیر اخلاقی ذہنیت کی تشریح کررہے ہیں جو اب بھی خواتین کے سرعام موجودگی کو ڈوبتا سورج قراردیتے ہیں، اور عورتوں کے مردوں سے بات کرنے کو بھی چڑیلوں کی بری خصوصیت کے طور پر سمجھتے ہیں۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چڑیل کا ٹھکانہ مردوں کی ذہنیت ہے۔ ہمارے ذہنوں کو چڑیل زدہ ذہنیت سے نکالنے کے لئے خواتین کو ان ان معاشرتی مقامات اور جگہوں پر اپنا کردار اداکرنا ہوگا جہاں پر مرد ان کی موجودگی سے خیف و خوف زدہ ہوتے ہیں۔


