آسیہ بی بی کیس کے فیصلے کے اہم نکات کی تفصیل
سپریم کورٹ کا فیصلہ چیف جسٹس ثاقب نثار نے لکھا ہے۔ فیصلے کا آغاز کلمہ شہادت سے کیا گیا ہے۔ رسول پاکؐ کے نام کے تقدس کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے اقبال کا شعر لکھا گیا ہے
کی محمد سے وفا تونے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
یہ بتایا گیا ہے کہ رسول پاکؐ سے بے انتہا محبت ایک مسلمان کے ایمان کا جزو ہے۔ مختلف آیات اور احادیث مبارکہ کی مدد سے اس پوائنٹ کو اجاگر کیا گیا ہے۔ مختلف آیات کے بارے میں علما کی تشریح بیان کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ اللہ اور رسولؐ کے مخالفین کے لیے موت کی سزا ہے اور اس مخالفت میں بلاسفیمی بھی شامل ہے۔
راجپال اور غازی علم دین کے کیس کی مثال دی گئی ہے۔ اور بتایا گیا ہے کہ اس کے نتیجے میں برطانوی حکومت کو قانون میں تبدیلی کرتے ہوئے بانیان مذہب اور مقدس شخصیات کی توہین پر سیکشن 295 اے کے ذریعے سزا شامل کرنی پڑی تھی۔ لیکن مسلمان مطمئن نہیں ہوئے اور غازی علم دین نے راج پال کو قتل کر دیا۔
آزادی کے بعد 295 سی کو شامل کیا گیا جس میں بلاسفیمی پر سزائے موت یا عمر قید دی گئی تھی۔ سنہ 1991 میں فیڈرل شریعت کورٹ کے فیصلے کی وجہ سے عمر قید کی بجائے صرف سزائے موت دیے جانے کا قانون رائج ہو گیا۔
مسلمانوں کی رسول پاکؐ سے محبت کا ذکر کیا گیا ہے۔ دنیا بھر میں بلاسفیمی اور حکومت پاکستان کی اس سلسلے میں سرگرمیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ فیس بک اور دیگر ویب سائٹس پر بلاسفیمی اور ان کو بین کرنے کا ذکر ہے۔
بلاسفیمی لا کے غلط استعمال کا ذکر ہے اور بتایا گیا ہے کہ سنہ 1990 سے اب تک 62 افراد کو ٹرائل سے پہلے ہی بلاسفیمی کے الزام پر قتل کیا جا چکا ہے۔ مشال خان کیس کا ذکر ہے۔ ایوب مسیح کے کیس کا ذکر ہے کہ اس کی گرفتاری کے باوجود مسیحی گھروں کو جلا دیا گیا تھا اور گاؤں کی تمام مسیحی آبادی کو گاؤں چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا تھا۔ ایوب کو سیشن کورٹ میں گولی مار دی گئی تھی۔ ایوب کو سیشن کورٹ اور ہائی کورٹ نے سزائے موت دی تھی لیکن سپریم کورٹ میں پتہ چلا کہ اس پر یہ جھوٹا الزام اس کا پلاٹ ہتھیانے کے لیے لگایا گیا تھا۔
یہ بتایا گیا ہے کہ اسلام نے قرآن مجید کے ذریعے یہ سکھایا ہے کہ امن اور اتفاق سے رہا جائے۔ یہ یاد دلایا گیا ہے کہ جب تک منصفانہ مقدمے کے ذریعے الزام ثابت نہ ہو جائے، ہر شخص چاہے وہ کوئی بھی رنگ ذات اور عقیدہ رکھتا ہو، معصوم تصور کیا جاتا ہے۔ قرآنی حکم کے ذریعے اس بات کو واضح کیا گیا ہے۔
یہ یاد دلایا گیا ہے کہ صرف ریاست کو سزا دینے کا اختیار ہے، افراد کو نہیں۔ توہین کے الزامات کے بعد ملزم کو دفاع کو ایک فیئر موقع دیا جانا چاہیے۔ اس سے پوشیدہ مقاصد کے لیے لگائے جانے والے جھوٹے الزامات کا پتہ لگایا جا سکتا ہے جو کئی مقدمات میں دیکھے گئے ہیں۔ صرف ریاست کو مقدمہ چلانے اور سزا دینے کا اختیار ہے۔ اسi پر منظر میں آسیہ مسیح کے کیس کو دیکھا گیا ہے۔
صدر ننکانہ صاحب کے تھانے میں 19 جون 2009 کو قاری محمد سلام کی مدعیت میں سیکشن 295 سی کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ اس میں کہا گیا کہ مسیحی مذہب سے تعلق رکھنے والی آسیہ بی بی، مسلم خواتین معافیہ بی بی، اسما بی بی اور یاسمین بی بی کے ساتھ محمد ادریس کے کھیت میں فالسے توڑ رہی تھی کہ اس نے نبی پاکؐ کے خلاف توہین آمیز کلمات کہے۔
ایف آئی آر کے مطابق ان مسلم خواتین نے یہ واقعہ قاری محمد سلام کو بتایا اور وہاں آسیہ بی بی نے اپنا جرم تسلیم کر لیا۔ جس کے بعد قاری محمد سلام نے ایف آئی آر درج کروا دی۔
تفتیش کے بعد آسیہ بی بی کو جرم میں ملوث پایا گیا، گرفتار کر لیا گیا اور ایڈیشنل سیشن جج ننکانہ صاحب نے اس پر سیکشن 295 سی کے تحت مقدمہ چلایا۔
اس مقدمے میں استغاثہ نے سات گواہوں کی شہادت لی جن میں قاری محمد سلام، دو عینی شاہد یعنی معافیہ بی بی اور اسما بی بی اور جرم تسلیم کرنے کے واقعے کا ایک گواہ شامل تھے۔
آسیہ بی بی کی شہادت ریکارڈ کی گئی اور اس نے جرم سے انکار کیا اور یہ بتایا کہ اسے پانی کے ایک جھگڑے کی وجہ سے اس مقدمے میں پھنسایا جا رہا ہے۔ لیکن اس کے پاس کوئی ثبوت نہیں تھا۔ ٹرائل ختم ہونے پر ایڈیشنل سیشن جج نے اسے سزائے موت سنا دی۔ ہائی کورٹ نے سزا برقرار رکھی جس پر آسیہ بی بی نے جولائی 2015 میں سپریم کورٹ میں اپیل کر دی۔
مقدمے کے شروع میں استغاثہ کے وکیل نے نشاندہی کی تھی کہ اپیل داخل کرنے کی تاریخ میں گیارہ روز کی تاخیر ہو گئی ہے اور اسی بنیاد پر اپیل کو خارج کر دیا جانا چاہیے۔ سپریم کورٹ نے نوٹ کیا کہ ملزمہ پہلے ہی جیل میں سزائے موت کی کوٹھڑی میں تھی، اور تمام ثبوتوں کا جائزہ لیا جانا ضروری تھا کیونکہ یہ ایک خاتون کی زندگی اور موت کا سوال تھا۔ اس لیے محض تکنیکی پوائنٹس کی بنیاد پر اپیل کو خارج نہیں کیا جانا چاہیے۔
آسیہ بی بی کے مطابق اس دن محمد ادریس کے کھِیت میں کام کرتے ہوئے اس نے معافیہ بی بی اور اسما بی بی کو اس نے پانی دینے کی پیشکش کی تھِی جس پر انہوں نے آسیہ بی بی کے مذہب کو بنیاد بناتے ہوئے انکار کر دیا تھا۔ اس پر گرمی سردی ہوئی اور ان دونوں خواتین نے قاری محمد سلام کے ساتھ مل کر صورت حال کو اشتعال انگیز بنا دیا اور اسے غلط طور پر ملوث کر دیا۔ اس کے علاوہ اس سے لیا گیا اقبالی بیان جبر کا نتیجہ تھا۔ اسے زبردستی قاری محمد سلام کے سامنے لایا گیا تھا جہاں ہجوم اسے مار ڈالنے کی دھمکیاں دے رہا تھا۔ اس واقعے کے پانچ دن بعد ایف آئی آر کا درج ہونا گواہوں کی دیانت پر ایک بڑا شبہ پیدا کرتا ہے جنہوں نے ایک جھوٹی کہانی گھڑی۔ اس کے علاوہ پولیس کے پاس درج شکایت ایک وکیل نے تیار کی تھی۔
آسیہ بی بی نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ رسول پاکؐ اور قرآن مجید کی بہت زیادہ عزت کرتی ہے اور اس نے تفتیشی افسر کو اپنی معصومیت ثابت کرنے کے لیے بائیبل پر ہاتھ رکھ کر حلف اٹھانے کا کہا تھا جسے افسر نے مسترد کر دیا۔ اس کے علاوہ مقدمہ درج کرنے کے لیے مرکزی یا صوبائی حکومت سے پہلے سے اجازت نہیں لی گئی تھی۔
سپریم کورٹ کے فیصلے میں بتایا گیا ہے کہ قانون کے مطابق حکومت کی اجازت کے بغیر کوئی عدالت 295 اے کا مقدمہ نہیں سن سکتی۔ لیکن قانون میں یہ روک سیکشن 295 سی کے بارے میں نہیں ہے۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


