پشتون سماج اور تعلیم نسواں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انسانیت کے عظیم رہنما حضرت محمد (ص) کے ارشاد پاک کا مہفوم ہے ”تعلیم ہر مرد اور عورت پر فرض ہے“۔ لیکن پشتونوں کی بدقسمتی کہں یا لاشعوری ہمیشہ من حیث القوم بحثیت مجموعی انہوں نے تعلم نسواں کی مخالفت کی ہے، اور اپنی بچیوں کو تعلیم سے ہر دور میں دور رکھا گیا ہے۔ تعلیم کو بچیوں کی بگاڑ کا سبب گردانتے چلے آئیں ہے۔ پشتون دین اسلام سے والہانہ محبت کرتے ہے لیکن پیغمبراسلام حضرت محمد (ص) کے اس اہم پیغام کو سمجھنے سے قاصر رہے ہیں۔

یاد رہے پشتون وہ واحد قوم ہے جس نے بیسویں صدی میں باقاعدہ طور پر تعلیم نسواں پر پابندی عائد کرنے کے لئے مسلح تحریک غازی امان اللّٰہ کے دور میں افغانستان کے صوبے خوست میں ملالنگڑا کے قیادت میں چلائی۔ ان کا مطالبہ تھا کہ افغانستان کے حکمران غازی امان اللّٰہ خان جہنوں نے اپنے دور حکومت میں ملک میں نئے قانونی اصلاحات متعارف کروائے تھے۔ ان اصلاحات کو نظام نامہ بھی کہتے تھے، ان نظام ناموں میں ایک نظام نامہ تعلیم نسواں کے بارے میں بھی تھا۔ جس میں بچیوں کو تعلیم کی زیور سے آراستہ کرنے پر زور دیا گیا تھا۔

یاد رہے اس وقت افغانستان میں بچیوں کی تعلیم کو اچھی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا تھا اور نہ تعلیم نسواں کا کوئی رواج تھا۔ ملا لنگڑا اور اس کے حامیوں کے نزدیک تعلیم نسواں سے متعلق نظام نامہ اسلامی تعلیمات اور قوانین سے متصادم ہے، اور اسی طرح یہ قانون (نظام نامہ) پشتون رسم و رواج سے بھی متصادم ہے۔ ملالنگڑا اور ان کے حامیوں کا یہ مطالبہ تھا کہ اس نظام نامے کو منسوخ کیا جائے۔

ملالنگڑا کی تحریک کو تو کچل دیا گیا۔ لیکن انیس سو اٹھائیس کو شینواری قبائل نے جب غازی امان اللّٰہ خان کے خلاف جب بغاوت کا علم بلند کیا تو ان کے مطالبات میں ایک مطالبہ تعلیم نسواں پر پابندی کا تھا۔

غازی امان اللّہ خان جو تعلیم نسواں کے بھرپور حامی تھے، ان کا عقیدہ تھا کہ کوئی بھی قوم تعلیم کے بغیر ترقی کی معراج پر نہیں پہنچ سکتی۔ ترقی کے عمل میں خواتین کا بہت اہم کردار ہوتا ہے۔ بغیر تعلیم یافتہ ماں کے تعلیم یافتہ معاشرہ وجود میں لانا بے حد مشکل ہیں۔

ایک موقعے پر غازی امان اللّٰہ خان نے لوگوں سے بات کرتے ہوئے کہا ”اگر آپ لوگوں نے تعلیم حاصل نہیں کی ہے تو اپنے بچوں کو تعلیم دلوانے کی کوشش کریں۔ بغیر تعلیم کے شخص کسی کام کا نہیں ہوتا۔ صرف آپ کے بیٹوں کے لئے نہیں بلکہ آپ کی بیویوں اور بچیوں کو بھی تعلیم دلانا ضروری ہے۔ کیونکہ انہیں رہن سہن کے طریقوں اور مذہب کے بارے میں آگاہی حاصل ہونی چاہیے۔

افغانستان میں لوگوں کایہ خیال انتہائی طور پر غلط ہے کہ عورتوں اور مردوں کے حقوق برابر نہیں ہیں۔ ہمارے پیغمبر کا فرمان ہے کہ“ وہ تمام انسانوں کو ایک جیسے حقوق حاصل ہیں ”اس لیے اپنی بیویوں کو بھی تعلیم دلوائیں۔ اگر آپ کے بیویاں تعلیم یافتہ نہیں ہوں گی تو آپ کے بچے بھی تعلیم حاصل نہیں کرسکیں گے۔

مسلح تحریک کچلنے کے باوجود غازی امان اللّٰہ خان تعلیم نسواں کے قانون پر عمل درآمد کرانے میں ناکام رہے۔ یہاں تک کہ وہ پشتون قبیلوں شینواریوں اور خوگیانی کے دباؤ پر تعلیم نسواں کا قانون واپس لینے پر مجبور ہوئے۔ یاد رہے خوگیانی قبائل جلال آباد محاصرے کے بعد شینواری قبائل کے مسلح جدوجہد میں شامل ہوئے تھے۔

غازی امان اللّٰہ خان نے رسمی طور پر چودہ دسمبر انیس سو اٹھائیس کو بچیوں کی تعلیم پر پابندی عائد کی، اور اعلان کیا کہ لڑکیوں کو آئندہ تعلیم نہیں دی جائے گی۔ اپنے فیصلے کے حتمی ثبوت کے طور پر انہوں نے بچیوں کے اسکول کے فرنیچر کو نیلام کروایا۔ بچہ سقہ جو غازی امان اللّٰہ خان کے بعد افغانستان کے حکمران بنے ان کے دور میں بھی تعلیم نسواں پر پابندی عائد تھی۔

ظاہر شاہ سے لے کر ثور انقلاب تک کا دور افغانستان میں تعلیم نسواں پر کوئی قدغن عائد نہیں تھی لیکن پھر بھی پشتون بچیوں کی تعداد تعلیم اداروں میں حوصلہ افزاء نہیں تھی۔ طالبان رجیم میں بچیوں کی تعلیم پر ایک بار پھر غیراعلانیہ طور پر پابندی عائد تھی۔ یہاں تک کہ سن دو ہزار میں پورے افغانستان میں کل چار ہزار افغان طالبعلم جامعات میں پڑھ رہے تھے جن میں ایک بھی بچی شامل نہیں تھی۔

طالبان رجیم کے بعد افغانستان میں زیادہ تعداد تک طالبعلم جامعات میں پڑھنے لگے، اور ان میں بیس فیصد طالبات ہیں لیکن افسوس کن امر یہ ہے کہ ان میں طالبات میں پشتون بچیوں کا تناسب بیحد کم ہے۔ دوسری طرف اگر ہم پاکستان کے پشتون علاقوں کی بات کریں یہاں بھی صورتحال افغانستان جیسی ہی ہے یہاں بھی اکثر پشتون علاقوں میں بڑی تعداد اپنی بچیوں کو سکول میں پڑھانے سے گریزاں ہے۔ پاکستان کے پشتون علاقوں میں وہی سوچ پائی جاتی ہے تعلیم نسواں کے بارے میں جو افغانستان کے پشتون علاقوں میں ہے۔

قبائلی علاقے جو اب خیبرپختونخواہ میں ضم ہوچکے ہیں، یہاں اکثر بچیوں کو تعلیم تو درکنار گھروں سے نکلنا بھی محال ہے۔ اسی طرح اگر ہم بلوچستان کے پشتون علاقوں کی بات کریں تو سوائے چند شہروں میں یہاں بھی تعلیم نسواں کی حالات حوصلہ افزاء نہیں گزشتہ مہینے کو پشین کے علاقے خانوزئی میں لڑکیوں کے سکول کو جلا دیا گیا تھا، یاد رہے خانوزئی وہ واحد علاقہ ہے پشتون خطے میں جہاں کی اکثر لڑکیاں تعلیم یافتہ ہیں۔

اسی طرح اگر ہم خیبرپختوانخواہ کی بات کریں یہاں بھی بچیوں کی تعلیمی شرح بہت ہی کم ہے۔ اس کی واحد مثال ضلع تورغر ہے جہاں ایک بھی گرلز ہائی سکول نہیں ہے۔ اسی طرح ضلع کوہستان میں ایک اور ضلع شانگلہ میں صرف تین گرلزہائی سکول ہیں۔

لکھاری کا تعارف:
عبدالکریم جس کا تعلق کوئٹہ سے ہے، سیاسی، سماجی اور نوجوانوں کے مسائل پربلاگز لکھتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •